کامیاب اور خوش حال زندگی کا راز

کامیاب اور خوش حال زندگی کا راز
نئی نسل کے لیے خصوصی تحریر

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کامیاب کسے سمجھتے ہیں اور خوش حال کون ہے ؟ کیا وہ شخص کامیاب ہے ، جس نے اعلا تعلیم حاصل کر لی اور اعلا عہدے پر فائز ہو کر بہت سی دولت حاصل کر لی ؟ کیا دنیا میں ان لوگوں کو کامیاب کہا جا سکتا ہے ، جن کے پا بے پناہ دولت ہے ؟ کیا وہ لوگ کامیاب ہیں ، جنہوں نے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر لی ہیں ؟ کیا وہ لوگ کامیاب ہیں ، جوزندگی کے ہر شعبے کا علم رکھتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنےکا دعوا کرتے ہیں ؟ کیا وہ لوگ کامیاب ہیں ، جن کی ازدواجی زندگی خوشحال ہے اور وہ اپنے بچوں کو اعلا تعلیم اور ضروریات زندگی کے حصول کے اعلا ذرائع فراہم کر چکے ہیں ؟
ایسے کئی سوالات ہیں ،ہم کسے کامیاب کہہ سکتے ہیں ؟ دولت مند کسے کہا جا سکتا ہے؟
ہم میں سے بیشتر افراد نے اپنے طالب علمی زمانے میں ایک اقتباس ضرور پڑھا ہوگا ’’ میں دولت مند ہوں‘‘ ، جس میں مصنف صبح کے نظاروں کو دیکھ کر کہتا ہے ’’ یہ سورج کی سنہری کرنیں جب سمندرکے پانی پر پڑتی ہیں اور پانی سونے کی پرتوں کی طرح نظر آتا ہے ، تو لگتا ہے میں دولت مند ہوں ۔ ‘‘ اس اقتباس میں مصنف نے قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھ کر خود کو دولت مند کہا ہے ۔ آپ لوگوں نے یہ واقعہ بھی سنا یا پڑھا ہوگا ۔ ایک شخص اپنی غربت اور بے بسی کا رونا روتا ہے ، اس وقت اس کا ایک ساتھی اس سے کہتا ہے ، ’’ اپنی ایک آنکھ بیچوگے ؟میں تمہیں اس کے دو لاکھ روپے دلوا سکتا ہوں ، کڈنی بیچوگے ، پیر بیچو گے چمڑی بیچوگے وغیرہ وغیرہ اور پھر وہ اسے سمجھاتا ہے کہ تمہیں اتنی نعمتوں سے نوا زا ہے ، اس کا شکر ادا کرو اور اپنی اچھی صحت ، تندرست ہاتھ پاؤں کا استعمال کر کے اپنا رزق تلاش کرو ۔ اپنی زندگی خوش گوار بنا دو ۔‘‘ کسی بھی کام کے بارے میں یہ سوچنا کہ ’’ میں نہیں کر سکتا یا میں نہیں کر سکتی ‘‘ ایک منفی خیال ہے ۔ یہ کبھی ذہن میں نہیں آنا چاہیے ۔
درج بالا دو اقتباسات کا اعادہ کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم تو پیدائشی دولت مند اورخوش حال ہیں ۔ اس تحریر کو پڑھتے وقت غورکیجیے کہ آج بھی ہر انسان اپنے بچپن کے دور کو کیوں یاد کرتا ہے ؟ محض اس لیے کہ روزگار کی فکر نہیں تھی ، ساری ضرورتیں والدین پوری کر رہے تھے ؟ کبھی آپ نے اس بات پر غور کیا کہ جن بچوں کے والدین بچپن ہی میں فوت ہو جاتے ہیں ، کیا ان کی پرورش نہیں ہوتی ، کیا وہ بھی بچپن کے دور کو سہانا دور نہیں کہتے ؟ ایسا کیوں ہے ؟
دراصل یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ دولت سے خوشی ، راحت ، سکون ، صحت اور زندگی نہیں خریدی جا سکتی ۔ ہاں مگر اچھی صحت ، پرسکون ذہن اور خوش مزاجی سے دولت حاصل ہو سکتی ہے ۔پیدائش کے بعد سے جب ہم با شعور ہو جاتے ہیں ، تو پہلا دور ہوتا ہے ، بچپن ، دوسرا ہوتا ہے جوانی اورتیسرا بڑھاپا ۔ ان تین ادوار میں ہماری ظاہری حالت بدلتی ہے، جو قدرت کا نظام ہے ، مگر ہماری ذہنی کیفیت کےبدلنے کا اختیار ہمیں ہے ۔ بچوں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے دل میں کسی کے لیے کینہ ، بغض اور نفرت نہیں رکھتے، کسی کا برا نہیں سوچتے ، کسی سے ناراض نہیں رہتے ، کسی کو اذیت پہنچانے کے لیے سازش نہیں رچتے ۔ وہ ہر لمحہ سے خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ بارش ہوتی ہے ، تو بھیگنا پسند کرتے ہیں ۔ سرد موسم میں لحاف میں دبکنا پسند کرتے ہیں گرمی کی چلچلاتی دھوپ میں کھیلتے ہیں ، کسی موسم کو کبھی برا نہیں کہتے ہیں ۔حالات کو برا نہیں کہتے ۔ ما ں باپ کی سختی کو بھی گوارا کر لیتے ہیں ۔
جیسے جیسے بچپن پیچھے چھوٹنے لگتا ہے ، یہ ساری خامیاں انسان کے اندر پیدا ہونے لگتی ہیں ، موسم سے ناخوش ہونا ، حالات سے ناخوش ہونا ، کسی کی کامیابی پر حسد میں مبتلا ہوجانا ۔ اپنی صلاحیت کا مثبت استعمال کر کے کامیابی حاصل کرنے کے بجائے صلاحیت کو دوسروں کو نیچا دکھانے والی سازشوں کے لیے استعمال کرنا ، یہاں تک کہ خوش رہنا ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔
کامیاب وہ ہے ،جس کا ہر لمحہ خوشی کے احساس میں گزرے ، جسے پر سکون نیند آئے اور جس کا ضمیر اسے کبھی کچوکے نہیں لگائے ۔ یہ دنیا اور اس کے وسائل سب کے لیے یکساں ہیں ۔ رات اور دن ، سورج کی روشنی ، زمین ، آسمان ، ہوا ، پانی سب کچھ یکساں ہے سب کے لیے ،قدرت کی نوازشات یکساں ہیں ، پھر ہر انسان کی مادی حالت یکساں کیوں نہیں ہے ؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ ہر انسان کی ذہنیت اور سوچ یکساں نہیں ہے ، کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے ۔ وہ انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور خوش نہیں رہ سکتا ، جو دوسروں کو بدلنے کی کوشش میں لگ جائے ، کیونکہ وہ اپنا سارا وقت دوسروں کو بدلنے میں ضائع کرتا رہے گا اور اپنی کامیابی سے دور ہوتا جائے گا ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اپنی اصلاح کر یں اور اپنے خیالات و حرکات کو مثبت رکھیں ۔ اس سے آس پاس کے لوگوں میں بھی مثبت ماحول پید ا ہوگا ۔
جو محض دولت حاصل کرنے کی نیت سے محنت کرتا ہے اسے دولت تو حاصل ہو جاتی ہے ، مگر کامیاب زندگی نہیں حاصل ہوتی ۔ کامیاب زندگی میں بہت سی باتیں آتی ہیں ۔ ازدواجی زندگی کا خو ش گوار ہونا بھی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے اور یہ اسی وقت خو ش گوار ہو سکتی ہے ، جب انسان اپنے بچپن سے بچھڑ نہ جائے ۔ ایک جدید تحقیق کے مطابق یہ بات ثابت ہوئی ہے ، کہ دنیا کے کامیاب ترین انسان کے حالات زندگی کا مشاہد ہ کیا گیا ، تو ایک قدر مشترک تھی کہ ان کی ازدواجی زندگی خوش حال تھی ۔
ایک اور اہم بات کامیابی حاصل کرنے کے لیے خود اعتمادی ضروری ہے ، خود اعتمادی اور محنت کو چھوڑ کر اگر صرف قسمت پر انحصار کیا جائے ، تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔خود اعتمادی کے ساتھ محنت کرنے والا خود اپنی قسمت لکھتا ہے ۔عام طور سے لوگ محنت کیے بغیر ہی سارا دوش قسمت کو دیتے ہیں ، یہ ایک غلط فہمی ہے ۔ کسی کی بھی محنت رائیگاں نہیں جائے گی ،بشرطیکہ وہ صحیح سمت میں ہو ۔ ’’ اگر کوئی دروازہ دھکیل کر کھولا جا سکتا ہے ، تو اسے اپنی جانب کھینچ کو کھولنے کی کوشش کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ‘‘
اسی کے ساتھ ایک اور نسخہ ہے ، خیرات کرنا ۔ خیرات کرنے والوں کی دولت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ، صحت پر آنچ نہیں آتی اور ذہنی طور پر وہ پر سکون رہتے ہیں ۔
دنیا کے دولت مند ، خو ش حال اور پر سکون زندگی گزارنے والوں کی زندگی کا جائزہ لیا گیا ، تو ایک اور بات سامنے آئی کہ ان میں۵۶؍ فیصد افراد فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ، یعنی وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خیر کے کاموں میں لگاتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق فلاحی سرگرمیاں دنیا کے ایک تہائی دولت مند افراد کا پہلا مشغلہ ہیں۔
دنیا کے دوامیر ترین افراد وارن بفٹ اور بل گیٹس اپنی دولت کا نصف سے زائد حصہ فلاحی سرگرمیوں میں صرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بچپن کے چھوٹتے ہی ، کھیلوں سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، کھیل زیادہ تر میدان میں کھلیے جانے والے ( آج کل موبائل گیم بھی چل رہے ہیں ) گیم ، کو ہمیشہ زندگی میں شامل رکھنا چاہیے ۔ کیونکہ کھیل سے جسم چست رہتا ہے اوردماغ میں فیصلہ کرنے کی قوت تیز ہو جاتی ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں کام آ سکتی ہے ۔
فلاحی کاموں کے علاوہ ان دولت مند افراد کی دوسری ترجیح مختلف کھیلوں جیسے ٹینس، گالف، اسکینگ اور فٹبال وغیرہ میں حصہ لینا اور ان میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔اپنی صلاحیت کا صحیح استعمال کر کے دولت حاصل کر لینا ہی کامیابی نہیں ہے ، بلکہ دولت کا صحیح استعمال اور صحیح سرمایہ کاری سے انسان کو بے پناہ خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے ، یہ خوشی اور سکون کہیں اور حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اس کے علاوہ زندگی کا لطف اس احساس میں بھی ہے کہ ہم زندہ ہیں ۔ زندگی سے بڑی نعمت کیا ہو سکتی ہے ؟ اسی لیے کہا جاتا ہے ’’ جان ہے ، تو جہان ہے ۔‘‘
اپنے اندر کے بچے کو کھونے نہ دیں ، بچوں کی طرح اپنے دل اور دماغ کو صاف رکھیں ، محنت کریں ، ہمیشہ مثبت سوچ اور مثبت اقدام ہوں ، تو محنت رنگ لاتی ہے اور کامیابی قدم چومتی ہے ۔ اصل کامیابی دل کا سکون ، ضمیر کا اطمینان اور ہر وقت خوشی کے احساس کا ہونا ہے ، جس کے لیے دولت مند ہونا ضروری نہیں ، قناعت پسند ہونا ضروری ہے ۔ جب تک انسان قناعت پسند نہیں ہوگا ، وہ کتنی ہی دولت حاصل کر لے دولت مند نہیں ہو سکتا ۔
جن باتوں کا بہت ہی باریکی سے مشاہدہ کیا گیا ہے ، انہیں اس مضمون میں پیش کیا گیا ہے ، کسی کی سمجھ میں آ جائیں ، تو زندگی بدل سکتی ہے ۔ ۷

شیریں دلوی

یہ تحریر اگر آپ کو پسند آئے ، تو فیس بک پر لائک اور شئیر ضرور کیجیے ، اسے دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے دوستوں تک ضرور پہنچائیں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com