مزاحیہ کردار کی تلاش

٭امتیاز علی تاج نے انگریزی کے مشہور کردار ڈان کوئکزوٹ کو اردو کا لباس دیا ، تو چچا چھکن وجود میں آئے اور … ممبئی کے مشہور و معروف علاقے ناگپاڑہ کے گلی محلوں میں چچا چھکن کے افسانوی کردار کو گوشت پوست میں چلتے پھرتے ، ہنستے بولتے اور اپنی بے ساختہ حرکتوں سے قہقہوں کے ڈونگرے برساتے دیکھا گیا ، تو لوگ انہیں چچا بول بچن کہہ کر پکارنے لگے اور … میرے قلم کی تلاش یہاں آ کر مکمل ہوئی …میں نے ان کی تمام گل افشانیِ گفتار اور زندگی کے تئیں ان کا تمسخرانہ اپروچ قلم بند کرنا شروع کر دیا۔
واضح رہے کہ چچا بول بچن کوئی فرضی کردار نہیں ، بلکہ ان کے خالق براہِ راست اﷲ میاں ہیں ۔ میں تو ان کے کارنامے ترتیب وار لکھ کر پیش کر دیتی ہوں ۔
ممبئی کے کسی بھی علاقے میں کوئی کھونٹی چلتی پھرتی نظر آئے ، جس سے ایک عدد کرتا پاجامہ ( علی گڑھی ) دوپلی ٹوپی اور انگوچھا بھی ٹنگے ہوں ، تو آپ سمجھ جائیں کہ اس کے اندر چچا بول بچن ہوں گے … گردن کو بلا وجہ اکڑائے ، بے ہنگم سے سر پر ترچھی دو پلی سجائے ، کسی ٹینی مرغ کی طرح پھدکتے اور ہاتھ میں دبی چھڑی کو تلوار کی طرح لہراتے اس تیور سے آگے بڑھتے ہیں ، جیسے ابھی کشتوں کے پشتے لگا دیں گے … آواز اتنی گرج دار کہ ان کی منحنی سی شخصیت سے قطعی لگا نہیں کھاتی ۔ پہلے جھٹکے میں تو اچھے خاصے فنے خاں قسم کے لوگ بھی ان کی اس کھرج کی آواز کے رعب میں آ جائیں … بڑا ہارڈ ہوتا ہے ان کا بول بچن ۔
’’ بہت ہارڈ ہے میرا بول بچن ‘‘ ۔ یہ ان کا تکیہ کلام بھی ہے اور شاید اسی لیے ان کا نام بھی چچا بول بچن پڑ گیا ، لیکن سامنے والی پارٹی چچا کے بول بچن کے دھونس میں نہیں آئی اور ان سے دو سُر اوپر ہو کر جواب دے دیا ، تو پھر چچا اس طرح سرینڈر ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی ٹینی مرغ کسی اصیل مرغ کے سامنے دم دبا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔
کچھ بھی ہو ، چچا بول بچن کا نام مدن پورہ ، ناگپاڑہ ، دو ٹانکی ، جے جے ، ڈونگری اور بھنڈی بازارکے علاوہ ممبئی کے مغربی اور مشرقی مضافات تک گونجتا رہتا ہے ۔ بڑے بڑے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں بھی وہ اپنے اسی بول بچن سے کام نکال لیتے ہیں ۔ البتہ ، اس پوری ممبئی نگری میں ایک ہستی ایسی بھی ہے، جو ان کے بول بچن کی دھونس میں نہیں آ تی اور وہ ہیں چچی ، جن کے لیے وہ صرف ’’ منے کے ابا ‘‘ ہیں ،چچی کے ہاتھوں بنی گلوریوں سے چچا کے پان کی بٹی ہر وقت بھری رہتی ہے ۔ کیونکہ چچا کسی اور کے ہاتھوں بنی گلوریاں پسند ہی نہیں کرتے ۔
ایک عدد چچی ، پانچ بیٹے، چار بہو یں، چار پوتے پوتیاں ، ایک نواسا ایک نواسی ، ایک کاہل سی موٹی بلی اور کچھ مرغیاں ( جن کی تعداد حسبِ ضرورت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ) چچا کے اہلِ خانہ ہیں ، جن کی کفالت کی پوری ذمہ داری چچا پر ہے ۔ آمدنی کا واحد ذریعہ جوتے کا ایک کارخانہ ہے ، جسے چچا کی سرپرستی میں ان کے بیٹے چلاتے ہیں ۔ چچا کے گھر میں کبھی کسی کو دکھی نہیں دیکھاگیا ۔ چچا کاجود اور ان کی مضحکہ خیز اوٹ پٹانگ حرکتوں سے ان کا گھر ہمیشہ گلِ گلزار بنارہتا ہے ۔ در و دیوار سے قہقہوں کے فوارے ابلتے ہیں ۔ مسکراہٹوں کی پھلجھڑیاں چھوٹتی ہیں ، جن کی چھوٹ گلی محلوں پر بھی پڑتی ہے اور … جنم لیتی ہے ہر پل ہر روز ایک نئی کہانی ، … میںچچا بول بچن کی فی البدیہہ سوانح نگار کی حیثیت حاصل کرتی جا رہی ہوں ۔
شاید اس پر رشک کیا جائے اور ہماری خوش قسمتی سمجھی جائے کہ ہمیں چچا بول بچن کا ہم سایہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ دونوں کے مکان زمینی منزل پر ہیں ، مگر فرق صرف یہ ہے کہ ہم زمین پر رہتے ہیں اور چچا کی رہائش ہمیشہ آسمان پر رہتی ہے ۔ کبھی نچلے نہیں بیٹھتے ۔ حقِ ہم سائیگی ادا کرنے کا فن کوئی چچا سے سیکھے ۔ ہم اکثر ان کی مہربانیوں کا شکار رہتے ہیں ۔ ـ’اردو نیوز ایکسپریس‘‘ کے با ذوق قارئین کی خدمت میں ’’ چچا بول بچن ‘‘ کے کارنامے پیش کیے جائیں گے ۔

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com