رتنا گیری میں ماہی گیری

کون کہتا ہے من و سلویٰ کا آنا بند ہو گیا ؟ من و سلویٰ کی آمد کا منظر دیکھنا ہے ، تو رتنا گیری اسٹیشن سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں ہے مرکرواڑا ۔ مرکرواڑا ماہی گیروں کی بستی ہے یہاں ہندو مسلم اور دلتوں کی ملی جلی آبادی ہے، مگر مسلمان اکثریت میں ہیں ۔ یہاں کا بچہ بچہ مچھلی کے کاروبار سے وابستہ ہے ۔ مرکرواڑا میں واقع جیٹی کا نام ہے نربدا جیٹی، یہ جیٹی بھگوتی بندر سے متصل ہے۔ یہاں پر شام کے چار بجتے ہی مچھلیوں سے بھرے ہوئے ٹرولر اور لانچز آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ ماہی گیر مرد مچھلی کی لانچ یا ٹرولر لے کر علی الصباح مچھلیوں کے شکار کے لیے سمندر کی جانب چلے جاتے ہیں اور جب شام چار بجے لوٹتے ہیں ، تو ان کے گھروں کی خواتین نربدا جیٹی پر ایک اسٹول اور کاغذ قلم لے بیٹھ کر جاتی ہیں ۔وہاں اترنے والی مچھلی،جھینگے ، کیکڑے الغرض سمندری خوراک میں شامل ہر قسم کی مچھلیوں کی بولی لگتی ہے اورآن کی آن سار مال بک جاتا ہے اور وہاں کی مقامی فشریز میں پہنچ جاتا ہے ۔ ویسے بھی رتنا گیری ، رائے گڑھ ، سندھ درگ اورتھانے ضلع میں ماہی گیر وں کی تنظیم کو بے حد اہمیت حاصل ہے ، کوکن کے چا ر اضلاع میں کم از کم ڈیڑھ سو سے دوسو تک چھوٹی موٹی جیٹیاں ہیں ۔ یہاں ماہی گیری کا پیشہ اپنے عروج پر ہے ۔
مقامی لوگوں کے پاس چھوٹے تین پہیہ ، چار پہیہ ٹیمپو ہوتے ہیں ، جس کے ذریعے مال جیٹی سے فشریز تک پہنچایا جاتا ہے ۔ یعنی ٹیمپو والوں کا روزی کا ذریعہ بھی وہی ہے ۔جیٹی پر اگر مچھلیاں نہیں آئیں ، تو یہ ٹیمپو کھڑے ہی رہ جائیں گے ۔
اس کے بعد مچھلیوں کو صاف کرنے کا کام کرنے والے مزدور بھی فشریز کی جانب چلے جاتے ہیں ۔ خواتین ، مرد اور بچے سبھی مچھلیوں کو صاف کرنے اور پیکنگ کا کام کرتے ہیں ۔شام کے پانچ سے دس بجے تک فشریز میں مچھلیاں صاف کر کے یہ لوگ اپنی جیب میں سو پچا س روپے اجرت کے طور پر لیے گھر لوٹتے ہیں ۔ اس طرح ہر گھر میں چولہا جلتا ہے ۔ مرکرواڑا میں واقع رتنا سی فوڈ ، خدیجہ فشریز اور رتنا آئس فیکٹری کو بہت شہرت حاصل ہے ۔ ان تمام فیکٹریوں میں مقامی افراد ہی بر سر روزگا رہیں ۔
نربدا جیٹی پر جب ماہی گیروں کی لانچ اور ٹرولر آتے ہیں اور ان پر سبز جھنڈٖیاں لہراتے نظر آتی ہیں ، تویہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ جہازوں پر لکھے ہوئے نام خاص طور سے البلا ل، الہلال ،العمران ، خدیجہ ، رقعیہ ، الفاروق وغیرہ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے ، سمندر کی سلطنت پر آج بھی کوکنی مسلمانوں کی حکمرانی ہے ۔ جب سے کوکن کے لوگ خلیجی ممالک میں جانے لگے ، اس وقت سے کوکنی مسلمانوں نے عربوں کے انداز میں اسم کے ساتھ الف لام کا اضافہ کرنا سیکھ لیا اور اس طرح وہ ہر نام سے قبل ’’ال‘‘ کا اضافہ کرنے لگے ۔
رتنا گیری سے تقریباً دو کلو میٹر پیچھے کی جانب دو گاؤں ہیں ، راجیوڑا اور کرلا یہاں یہاں کوئی بڑی جیٹی نہیں ہے مگر بھاٹیہ ندی ، جو کہ پاؤس اور بھاٹیہ گاؤں تک جاتی ہے ، جس پر ایک پل تعمیر کیا گیا ہے ، وہ بھاٹیہ بریج کے نام سے جانا جاتا ہے اور کرلا ، پاوس اور بھاٹیہ گاؤں کو ملاتا ہے ، یہاں بھی ماہی گیر مچھلیاں پکڑ کر لاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کی فروخت ہوتی ہے ۔ یہاں کے ماہی گیر فشریز کے علاوہ مقامی بازا میں بھی مچھلیاں فروخت کرتے ہیں ۔ کرلا گاؤں میں ایک مچھی مار سوسائٹی بھی قایم کی گئی ہے ، جس کا نام ہے ’’ کرلا مچھی مار سوسائٹی ۔ ‘‘ جو ماہی گیر سوسائٹی کے ممبر ہوتے ہیں انہیں لانچ اور ٹرولر کے لیے کم دام میں ڈیزل دستیاب ہوتا ہے ، کیونکہ مچھی مار سوسائٹی کے لیے ڈیزل کا کوٹا مقرر ہوتا ہے ، جس کا فائدہ ان ماہی گیروں کو ہوتا ہے، جنہیں ایندھن کے طور پر ڈیزل کی ضروت محسوس ہوتی ہے ۔
اسی طرح راجیوڑا میں بھی ماہی گیروں کی بڑی بستی ہے ۔ فشریز کو مچھلیاں دینے کے علاوہ یہاں کے مقامی ماہی گیر چھوٹی بڑی مچھلیوں اور ہر سائز کے جھینگوں کو دھو کر نمک اور پریزرویٹیو لگا کر خشک کرتے ہیں ۔ اس طرح سے خشک کرنے سے یہ سمندری غذا ایک لمبے عرصے کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے ، پھر اس کی پیکنگ کر کے مقامی مارکٹ میں فروخت کرتے ہیں اس کے علاوہ ممبئی ، کولہا پور ، میرج اور پونا میں بھی یہ مال بڑے پیمان ے پر فروخت کیا جاتا ہے ۔ سوکھی مچھلیاں ایکسپورٹ کمپنیوں کو بھی فروخت کی جاتی ہیں ۔
مچھلیوں کے شکار ، نیلامی ، فروخت ، صفائی اور پیکنگ کے کام کے دوران جو بھی سڑی گلی مچھلیاں اور مچھلیوں کا فاضل کوڑا بھی کام آتا ہے ۔ گاؤں میں جہاں بھی خالی زمینیں یا کھیت ہوتے ہیں ، وہاں انہیں پھیلا کر دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے اور اس سے کھاد تیار کی جاتی ہے ، جو کھیتوں اور باغوں میں استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ کھاد بھی فروخت کی جاتی ہے ۔
کرلا ، راجیوڑا ، مرکرواڑا ، ساکھر تر ، راجا پور، جیتا پور اور ساکری ناٹا ایسے گاؤں ہیں جہاں کے 80%سے زیادہ افراد کا انخصار مچھلی کے کاروبار سے ہے ۔ خواہ وہ لانچ ، ٹرولر یا ٹیمپو والے ہوں ، رکشا والے ہوں ، یا پھر فشریز اور آئس فیکٹری ہوں، یا سوکھی مچھلی کا کاروبار ہو ، یہاں تک کہ نمک والوں کا انحصار بھی مچھلی کے کاروبار سے ہے، جس طرح برف والوں کا ہوتا ہے ۔
مچھلیوں کا شمار سمندری غذا میں کیا جاتا ہے ، یہ سمندری دولت انسان کو قدرت کی طرف سے حاصل ہے ۔ اس کی بقا کے لیے انسان کو بھی قدرت کا ساتھ دینا چاہیے ۔ اب بھی کافی مچھلیاں حاصل ہو رہی ہیں ، مگر مرکرواڑہ میں نربدا جیٹی پر مچھلیوں کی مقدار روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ۔ مقامی افراد اس قلت کا ذمہ دار سمینٹ فیکٹری کو قرار دیتے ہیں ۔ اسی ساتھ لوگوں کو اس بات کی بھی شکایت ہے کہ مختلف فیکٹریوں کا آلودہ پانی اور کیمکل سمندر میں چھوڑنے سے مچھلیوں کو نقصان ہو رہا ہے ۔ کیمکل کے اثر سے اکثر مچھلیاں مر جاتی ہیں یا بیمار ہو جاتی ہیں ۔
رتنا گیری میں فشریز یا آئس فیکٹریاں ہیں ، بھی تو کسی کی ذاتی ملکیت ہیں ۔ یہاں کوآپریٹیو سوسائٹی کے تحت حکومت کی مالی مدد سے ایسے پروجیکٹ قایم کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ غریب ماہی گیروں کے پاس برف یا پریزرویٹیو کا انتظام نہیں ہونے کے سبب وہ مچھلیوں کو رکھ نہیں پاتے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوراً فروخت کر دیں ۔
رتنا گیری کی چھوٹی بڑی جیٹیوں پر مچھلیوں کی ذخیرہ اندوزی کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں ۔ سرکاری سطح پر ماہی گیروں کی تنظیمیں قایم کر کے ان تنظیموں کے ذریعے کولڈ اسٹوریج قایم کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح تازہ مچھلیوں کے مقابلے خشک مچھلیوں کی فروخت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے ،مگر اس کے لیے بھی خشک مچھلیوں کو محفوظ کرنے کے لیے جدید طریقوں اور تکنک کا استعمال کرنے کے لیے وسائل نہیں ہونے سے ماہی گیر پیچھے رہ جاتے ہیں ۔
کچھ لوگوںنے اپنے ذاتی منافع کے خیال سے کولڈ اسٹوریج بنائے ہیں ، جس کا زیادہ فائدہ انہیں ہوتا ہے اور ماہی گیر وں کو اس صورت میں منافع کم حاصل ہوتا ہے۔اگرساحلی علاقوں میں رہنے والے ماہی گیروں کی سہولت کے لیے مچھی مار سوسائٹی کے اپنے کولڈ اسٹوریج ہو ں ، یا حکومت کے تعاون سے ایسا کوئی اقدام کیا جائے تو اس کا براہ راست فائدہ ماہی گیروں کو ہو سکتا ہے ۔ رتنا گیری میں اس طرح کی اسکیموں پر عمل کرنے کے بارے غور کیا جا رہا ہے اور ماہی گیروں میں بیداری پیدا ہونے کی وجہ سے کئی ایسی مچھی مار سوسائٹی کا قیام عمل میں آ رہا ہے ۔ مچھی مار سوسائٹی کو حکومت کی جانب سے ملنے والی مراعات کے تعلق سے جیسے جیسے علم ہو رہا ہے وہ لوگ اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں ۔ ٭٭

٭ شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com