سانپ کا ڈسنا اور سانپ ، کچھ فسانے کچھ حقیقتیں

اردو نیوز ایکسپریس کے با ذوق قارئین کی خدمت میں جناب شکور تیسیکر کی ایک بہترین تحریر ،جناب شکور تیسیکر کا تعلق کوکن سے ہے اور وہ اس وقت آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہیں ، اردو نیوز ایکسپریس کے اہم قلم کاروں میں ان کا شمار ہوتا ہےوہ انگریزی میں لکھتے ہیں۔ان کی انگریزی تحریر کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں

ادارہ

سانپ کا ڈسنا
( سانپ ، کچھ فسانے کچھ حقیقتیں)

شکور تیسیکر

 آسٹریلیآہندستان میں ہندو لوگ ناگ پنچمی کا تہوار مناتے ہیں۔ اس دن سانپوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ سانپ بھگوان کے اوتار ہوتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ سانپ کو بھگوان کا روپ تصور کیے جانے کے باوجود کوکن ، گوا اور مغربی گھاٹ علاقہ میں زہر کا غیرقانونی کاروبار کرنے والے مافیاؤں کے ہاتھوں ہزاروں سانپ مارے جاتے ہیں۔ اس کاروبار میں کروڑوں روپے کا لین دین ہوتاہے۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ ہم ’’آستین کا سانپ‘ ‘ ایک محاورہ کے طور پر استعمال کرتے ہیںجس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک شخص جو آپ کے ساتھ رہتا ہے ، موقع ملنے پر دھوکہ دیتا ہے۔حقیقت میں سانپ شرمیلا ہوتا ہے اور وہ اسی وقت حملہ کرتا ہے جب خطرہ محسوس کرتا ہے۔ اس مضمون میں سانپوں کے تعلق سے بہت سی افسانوی کہانیوں اور حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں سانپوں کی تین ہزار سے زیادہ نسلیں ہیںاور کم سے کم ایک قسم کا سانپ انٹارکٹیکا کو چھوڑ کر سبھی براعظموں میں پایا جاتا ہے۔ نیشنل جیوگرافیک کے مطابق دنیا کا سب سے چھوٹا سانپ تھریڈ اسنیک ہے جو صرف ۱۰؍ سینٹی میٹر تک بڑھتا ہے۔ سب سے بڑا سانپ مشبک اژدہا ہوتا ہے جو ۹؍ میٹر تک بڑھ سکتا ہے۔ سانپ انسانوں کی طرح ناک سے نہیں سونگھتاہے ۔ وہ اپنی کانٹے دار یا دو حصوں میں منقسم زبان کو ہوا میں موجود کیمیائی مادہ کو سونگھنے اور اس کا ذائقہ معلوم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ سانپ کی پلکیں یا کان نہیں ہوتے اور ان کی آنکھیں حرکت نہیں کرتی ہیں۔ وہ سننے کے لیے فرش پر ہونے والی آہٹ کو محسوس کرتا ہے ۔ سانپ سال میں کم سے کم تین بار اپنے بدن کا پورا چمڑا اتار دیتا ہے اسےکینچلی بدالنا کہتے ہیں ۔ کنکوئے دار سانپ اپنے کنکوؤں کو چڑھائی کے لیے آلہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے کنکوؤں کو موڑ دیتے ہیں تاکہ وہ چھال میں گھس جائیں اور وہ درختوں پر چڑھ سکیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں درختوں پر محفوظ بسیرا کرنے والے سانپ اڑبھی سکتے ہیں۔ وہ اپنے جسم کو ہوا میں اچھالتے ہیں اور پھر ہوا کے بہاؤ پر اڑنے کے لیے اسے نیم دائرہ یا انگریزی کے حرف سی کی صورت بنالیتے ہیں۔اگر یہ اپنے بدن کو آگے پیچھے کرتا ہے تو گرتے وقت یہ اپنی سمت کو تبدیل کرسکتا ہے۔
افسانہ اور حقیقت:
سانپوں کے ڈسنے کے بعد فرسٹ ایڈ کے سلسلے میں سب سے بڑی جھوٹی روایت یہ ہے کہ زہر کو پورے بدن میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ڈسے جانے کے فوراً بعد آپ کو اس جگہ کو جہاں سانپ نے ڈسا ہے ، سختی سے باندھ لینا چاہیے ۔ہندستان میں طبی کتابیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیںاور ان میں سے کئی متروک کتابیں ابھی بھی ڈاکٹروں کو ڈسے جانے کی جگہ پر باندھنے ، یا زخم کو چیر کر مزید بڑا کرنے اور زہر کو پینے کا مشورہ دیتی ہیں۔ البتہ ، بہت سے ماہرین کے مطابق یہ ضروری نہیں ہے ، اور حقیقت یہ فائدہ سے زیادہ نقصان دہ ہوگا کیونکہ سختی سے زخم سے اوپر دل کی جانب باندھنا خون کے بہاؤ کو بھی روک دے گا اور نسوں کو زخمی کرنے کے علاوہ خلیوں کے مرنے کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
سانپ بدلا لیتا ہے اور ۱۲؍برسوں تک یاد رکھتا ہے:
سانپ ایسی ذہانت کا مالک نہیں ہوتا ہے کہ وہ کسی چیز کو ۱۲؍ برسوں تک یاد رکھے۔ اگر ایسا ہوتا تو سانپوں اور رینگنے والے دیگر جانداروں کے ماہرین سانپوں کا سانپوں نے پیچھا کیا ہوتا اور ان سے بدلہ ضرور لیتے ، مگر جانوروں کے ماہرین کے ساتھ کہیں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔
سانپ سپیرےکی دھن پر ناچتا ہے:
سانپ اصل میں سنتا نہیں ہے اور وہ کبھی بھی سپیروں کی دھن پر نہیں ناچتا ہے۔ سانپ کو لگتا ہے کہ حرکت کرتا ہوا سپیرا اور اس کاآلہ اس پر حملہ کرے گا ، اسی لیے وہ جلدی سے اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے اور اپنے سر کو حرکت دیتا ہے۔ صرف یہ ہی حقیقت ہے۔
ہرایک سانپ انڈا دیتا ہے:
کنگ کوبرا اور چند دوسری نسل کے سانپ انڈے دیتے ہیں اور انہیں ’اوویپیرس‘ یا انڈا دینے والا کہا جاتاہے۔سبھی سانپ انڈےنہیں دیتے ۔
سانپ کی پیشانی پر ہیرا ہوتا ہے:
ابھی تک کسی نے ایک بھی سانپ کو اپنی پیشانی پر ہیرا لے جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ سائنسی اعتبار سے یہ ایک فریب ہے۔ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ سبھی سانپ زہریلے ہوتے ہیں ،وہ زہراگلتے ہیں اور ایک سانپ کے ڈسنے سے فوراً موت واقع ہوجاتی ہے۔ صرف منہ سے لعاب پھینکنے والا کوبرا ہی آنکھ میں زہر اگل کر اپنے شکار کو اندھا بنا سکتا ہے، لیکن خوش قسمتی سے اس قسم کا سانپ ہندستان میں نہیں پایا جاتا ہے۔ ہندستان میں کم وبیش ۲۷۰؍ قسم کے سانپ ہیں اور ان میں تقریباً ۶۰؍ بہت زہریلے ہیں۔ ہندستان میں پائے جانے والے زہریلے سانپ کوبرا، کنگ کوبرا، پٹ وائپر، رسل وائپر، ساو اسکیل وائپراور ہندستانی کریت۔ سانپ کے ڈسنے سے سائنائڈ کی طرح فوری موت نہیں ہوتی جیسا کہ کچھ لوگ مانتے ہیں۔ آسٹریلیا میں پایا جانے والا ان لینڈ تائپن (آگزیورینس مائیکرولیپیڈوٹس) دنیا میں سب سے زہریلا سانپ تصور کیا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ ۲۵؍ زہریلے سانپوں میں سے ۲۱؍ آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں۔ خطرناک ہونے کے اعتبار سے ہندستانی کوبرا سانپ بارہویں اور افریقہ کا کالا ممبا تیرہویں مقام پر ہے۔ کنگ کوبرا کسی بھی انسان کو ۳۰؍منٹ میں موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ سانپ اپنی مرضی سے زہر چھوڑتے ہیں ، وہ زہر اگلنے کے لیے اپنے پٹھوں سے زہر حاصل کرتے ہیں ۔ سبھی زہریلے سانپ بغیر زہر اگلے ڈس سکتے ہیں۔ اندازے کے مطابق ۲۰؍ سے ۲۵؍ فیصد پٹ وائپر اور کورل اسنیک کے ۵۰؍ فیصد ڈنک میں زہر نہیں ہوتا ہے ( زہر سرایت نہیں کیاجاتاہے)۔ کبھی کبھی جلد میں سوراخ کرنے سے پہلے ہی سانپ کے دانت سے زہر خارج ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بھی ڈنک زہرآلود نہیں ہوتا ہے۔ سانپوں میں زہر کی مقدار اس کے قد کی مناسبت سے بڑھتی ہے اور یہ ایک ملی گرام سے لے کر ۸۵۰؍ ملی گرام (یا اس سے زیادہ) ہوسکتی ہے۔
سانپ کا زہر کیسے کام کرتا ہے؟
سانپ زہر نہیں زہریلا مادہ اگلتے ہیں، جو نگلنے پر جان لیوا نہیں ہوتے ، البتہ اگر وہ خون میں سرایت کرجائیں یا خلیہ نرم ہوتو جان لیوا ثابت ہوسکتاہے۔ سانپ کے سوئی کی طرح نوکیلے دانت ہونے کی یہی وجہ ہے ، تاکہ وہ جلد میں سوراخ کردیں اور زہریلے مادہ کو سیدھے بہتے ہوئے خون میں ملادیں۔ دراصل زہریلا مادہ الگ الگ طرح سے کام کرتا ہے۔ پٹ وائپرقسم کے سانپ کا زہریلا مادہ عام طور پر ایسا ہوتا ہے جس کے خون میں سرایت کرنے سے خون رسنے لگتا ہے۔ یہ زہریلا مادہ اپنے شکار کے خون میں رساؤ اور اس کی موت کا سبب بنتاہے۔ خون کا رساؤ بدن کے اندر ہوتا ہے۔ زہریلا مادہ خلیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے علاوہ بہت ہی خوفناک ڈر بھی پیدا کرتا ہے۔ کوبرا نسل کے سانپوں میں جو زہریلامادہ پایا جاتا ہے ، اس کو ’نیوروٹاکزک‘ زہرکہتے ہیں۔ اس طرح کی زہریلا مادہ اصل میں شکارکے اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور حرکت قلب بند ہونے اور سانس رک جانے کا باعث بنتاہے۔ یہ زہریلا مادہ خون بہانے والے زہریلے مادے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اگر سانپ زہریلا ہے تو اس کے بارے میں بتانے کے کئی طریقے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر اس کی پیشانی ہیرا کے شکل جیسی ہے تو وہ زہریلا ہوگا۔ جن سانپوں کی پیشانی گول ہوگی وہ زہریلے نہیں ہوں گے۔ رنگ سے بھی اس کو پہچاننے میں مددگار ہوتا ہے۔
زہریلے مادے کا تریاق کیسے نکالا جاتا ہے؟
تقریباً پوری دنیا میں زہریلے مادے کا تریاق گھوڑے میں سانپ کے زہر کی کم مہلک مقدار سرایت کرکے حاصل کی جاتی ہے۔ گھوڑا سانپ کے زہر کو زائل کرنے کے لیے کچھ حیاتیاتی یا جسم مخالف عناصر پیدا کرتا ہے۔یہ بدن مخالف مادے جو گھوڑے کے خون سے حاصل کیے جاسکتے ہیں وہ تریاق بنانے کا خام مال ہوتے ہیں۔ حکومت نے ۲۰۱۴ء میں تریاق کی قیمت کو کنٹرول کرنا شروع کیا تھا ، اور اب ایک شیشی تریاق کی قیمت ۶۰۰؍ روپے متعین کی گئی ہے۔
سانپ کا زہر دوا کے لیے استعمال ہوتا ہے:
جب برازیلی پٹ وائپر زہریلا مادہ سرایت کرتا ہے ، تو اس کا پہلا اثر خون کے دباؤ میں شدید گراوٹ کی صورت میں نظرآتا ہے، اس سے شکار حواس باختہ ہوجاتا ہے اور اس کے دام میں پھنسا رہتا ہے۔ اس لیے یہ زہر عام طور پر ہائپرٹینشن (خون کا غیرمعمولی زیادہ دباؤ) کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔ اس کو ’کیپٹوپریل‘ کہتے ہیں۔ کیپٹوپریل کے علاوہ دو اور دوائیں ’ایپٹی فائبیٹائڈ اور ’ٹائروفائبن‘ جو کالے رنگ اور چھوٹی پھنکار والے سانپ کے علاوہ ساؤ اسکیلڈ وائپر سے حاصل کیا جاتا ہے دل کے مختلف امراض جیسے سینے میں جلن وغیرہ کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ یہ زہر بدن کے اندر دو اہم کاموں دوران خون یا اعصاب اور عضلات کے درمیان رابطہ کو ہدف بنانے کے لیے دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے دوسرے بھی فائدے مند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے درد کو کم کرنے کے ساتھ ہی خون میں پھٹکیاںیا لوتھڑا بننے سے روکا جاتا ہے۔ اور ان دواؤں کو دریافت کرنے والی کمپنیوں کا بنیادی مقصد امراض قلب اور اعصابی نظام میں خرابی جیسے امراض کے علاج کے لیے استعمال کرنا تھا۔ کنگ کوبرا سے کشید کیے گئے زہریلے مادے سے سائنسدانوں نے ایک مخصوص قسم کا زہریلامادہ الگ کیا جو اپنی فطرت میں درد مخالف ہونے کی وجہ سے مستقل دردکے علاج کا ایک بہت ہی مضبوط ذریعہ ہے۔ درد کو ختم کرنے کے لیے چوہوں پر کیے گئے ابتدائی تجربات میں اس کے اثرات مارفین کے مقابلے میں ۲۰؍ گنا زیادہ دیکھنے کو ملے۔دوسری دوائیں بھی جلن اور امراض قلب کے علاوہ پروسٹیٹ کینسر، ایچ آئی وی اور ملٹی پل اسکلروسس (جس سے قوت مدافعت متاثر ہوتی ہے)کے علاج کے لیے بنائی جارہی ہیں۔ سانپ کے زہریلے مادے کی عضلات کومستقل حالت میں بنائے رکھنے کی صلاحیت اس کو بڑھتی عمر مخالف عجوبہ بناتی ہے۔بیوٹی لوشن میں استعمال کی جانے والا سائینیک کے نام سے معروف مصنوعی زہر فریز کرنے کی اس کی صلاحیت کی تقلید ہے۔ یہ عضلات کو منجمد کرکے جھریوں اور دیگر ابھرے نشانات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ بوٹوکس جیسے انجکشن کے بغیر ہی صاف اور چکنی صورت دیتا ہے۔ مختصر اً یہ کہ یہ سمجھنا اہم ہے کہ سانپ کے معاملے میں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ عام لوگوں کو دو چیزیں جاننا چاہیے۔
(۱) سی پی آر؍زندگی کے لیے بنیادی مدد(بیسک لائف سپورٹ) اور (۲) سانپ کے ڈسنے کی صورت میں پہلا کام کریں:
۱۔ پرسکون اور آرام سے رہیں(۲)غیرمتحرک رہیں ، کم سے کم حرکت کریں(۳) نزدیکی اسپتال تک پہنچنے کی پہلی کوشش کریں۔
کبھی نہیں کریں:
(۱)کسی تانترک یا بابا کے پاس نہیں جائیں(۲) زخم کو نہ کاٹیں اور نہ ہی اس کو چوسیں(۳) زخم پر مالش نہیں کریں(۴) ڈسنے کی جگہ کو باندھیں نہیں(۵) زخم پر ہربل پیسٹ کا استعمال نہیں کریں۔
دیہی علاقوں میں تریاق اور صحت مراکز تک رسائی میں کمی ان عوامل میں سے ہیں جن کی وجہ سے ہندستان میں سالانہ ۴۶؍ ہزار افراد سانپ کے ڈسنے سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ سانپ کے ڈسنے سے دنیا بھر میں ہونے والی تقریباً ایک لاکھ اموات کا کم وبیش نصف ہے۔ ان میں سے بیشتر اموات کو پوری طرح سے ٹالا جاسکتاتھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندستان میںیہ وہ مسئلہ ہے جس کو سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا ہے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com