پونہ میں بین اقوامی مُشاعرہ

پونہ میں بین اقوامی مُشاعرہ

اسلم چشتی  

گزشتہ دنوں اسلم چشتی فرینڈس سرکل پونے  اور اینا فاؤنڈيشن پونہ کے زیرِ اہتمام ’’پونے کی ایک شام ڈاکٹر ماجد دیو بندی ، افروز عالم اور ڈاکٹر زبیر فاروق کے نام ‘‘ ۔ڈاکٹر اے – ’’آر شیخ اسمبلی ہال‘‘، اعظم کیمپس کیمپ( پونے) میں منعقد کیے گئےاس عظیم الشان مُشاعرے کی صدارت جناب منوّر پیر بھائی نے کی اور نظامت کے فرائض مشہور صحافی اور شاعرہ ڈاکٹر وسیم راشد نے بخوبی انجام دیئے – اس موقع پر شمعِ فروزاں کی رسم زبیر رشید شیخ، منوّر پیر بھائی اور اسلم چشتی نے ادا کی ۔ صاحبِ اعزاز شعراء کی خدمت میں سپاس نامے، گلدستے، مومینٹو اور شال منوّر پیر بھائی ، زبیر رشید شیخ اور اسلم چشتی کے ہاتھوں پیش کیے گئے – پروگرام کا آغاز آسیہ ماجد نے نعت گوئی سے کیا – ڈاکٹر وسیم راشد نے مُشاعرے کا باقاعدہ آغاز مختصر اور موثر تمہیدی کلمات اور اے، سی، ایف ،سی کے تعارف سے کیا اور ایک کے بعد دیگرے شعراء و شاعرات کو کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ مُشاعرے میں ڈاکٹر ماجد دیوبندی ، افروز عالم، ڈاکٹر زبیر فاروق، تسنیم انصاری، اسلم چشتی، ڈاکٹر مہتاب عالم ، انا دہلوی، ڈاکٹر وسیم راشد، شائستہ ثناء، نکہت امروہوی ، پریتا واجپائی ، ڈاکٹر مُمتاز منوّر، مونیکا سنگھ، کوثر جہاں، وارث وارثی، ابرار کاشف، کمال انصاری شعراء و شاعرات نے حصّہ لیا اور شائقین شعر و ادب کو اپنے کلام سے محظوظ کیا – سامعین میں شہرِ پونہ کی معزّز شخصیات کے علاوہ ادب نواز افرادموجود تھے، جن کی تالیوں کی گونج اور داد و تحسین سے شعرائے کرام کی حوصلہ افزائی ہو رہی تھی ۔ مُشاعرہ رات۳؍ بجے منوّر پیر بھائی کے صدارتی کلمات اور شکریہ پر اختتام کو پہونچا ۔
مُشاعرے میں پیش گئے کلام سے منتخب اشعار ملاحظہ فرما ئیں –
بظاہر مختصر ہے زندگی یہ
مرے قدموں میں صدیوں کا سفر ہے
کمال انصاری کویت
جان بچانے والے تو سب ہیں لیکن
اب کتنے ایمان بچانے والے ہیں
ڈاکٹر ماجد دیو بندی
میں ذہنی طور پر آوارہ ہُوا جاتا ہوں
مرے شعور مُجھے اپنے حد کے اندر کھینچ
افروز عالم کویت
شفقت سے تری بابا میں محروم نہیں
اب بھی ہے مرے سر پر ترے ہاتھ کا سایہ
ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی
ہرے کھیتوں سے اب بنجر زمینیں جیت جاتی ہیں
یہ ایسا دور ہے جس میں مشینیں جیت جاتی ہیں
اسلم چشتی
وحشت کا معیار بدلتا رہتا ہے
دیوانہ دیوار بدلتا رہتا ہے
تسنیم انصاری
کیا ہمیں آزمایا نہیں ہے
تم کسے بے وفا کہہ رہے ہو
ڈاکٹر مہتاب عالم
اے انا کون مٹا سکتا ہے تہذیبِ غزل
جب تلک زندہ ہیں غالب کے گھرانے والے
انا دہلوی
خاکساری کے لیے شاہوں کے گھر مت جاؤ
یہ وہ دولت ہے جو رستے میں پڑی ملتی ہے
ڈاکٹر وسیم راشد
کچھ اس طرح اسے بیمار کرکے دیکھتے ہیں
ہم اپنے پیار کا انکار کر کے دیکھتے ہیں
شائستہ ثناء
دل کا بوجھ اس طرح سے بھی ہلکا کرو
بے وفا کہہ کے مجھ کو پکارا کرو
پریتا واجپائی
میری گلی سے گذر تے ہو اجنبی کی طرح
یہ انتقام کی سازش ہے اتّفاق نہیں
نکہت امروہوی
صدق دل سے نہ ادا ہو تو عبادت کیسی
یہ نمازیں یہ وظیفے یہ تلاوت کیسی
ڈاکٹر ممتاز منوّر
بہت سوچا تھا ہم بھی مسکرائیں
تعاقب کر رہے کچھ سلسلے ہیں
مونیکا سنگھ
جو عکس عکس مرے ساتھ ساتھ رہتا تھا
ہے آئینہ سے وہی دور دور کیا تم بھی
کوثر جہاں
دن میں مل لیتے کسی رات ضروری تھی کیا
بے نتیجہ یہ ملاقات ضروری تھی کیا
ابرار کاشف
میر و غالب کی طرح ہم بھی ہیں وارث تیرے
اے غزل ہم تیرا معیار نہ گرنے دیں گے
وارث وارثی

 

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com