چلنا ہے ، تو کوکن چلیے

کوکن کو قدرت کی نوازشات کا بڑا حصہ تحفے میں ملا ہے ۔ سب سے اہم اور بنیادی تحفہ تو کوکن کی ہریالی ہے ۔ جب بھی جایئے ، جس موسم میں بھی جایئے ،لگتا ہے اس خطے کو خزاں نے کبھی چھوا ہی نہیں ۔ جدھر دیکھیے سر سبز و شاداب وادیاں … سبزہ زار …مرغ زار… گنگناتی ندیاں … ہرے بھرے جنگل اور ان جنگلوں میں اکثر پھلدار درخت … آم ، کاجو، کوکم ، ناریل ، جامن، کروندے ،کٹہل اور … بیریاں … اور یہ سب آپ کی دست رس میں … مفت ۔ اس کے علاوہ بستی بستی گنگناتی ندیوں میں مچھلیوں کے رقص … چھوٹا سا بچہ بھی جال لے کے جائے اور مچھلیاں پکڑ کے لے آئے… ایسا لگتا ہے ، جیسے سورہ ٔ رحمن کی تلاوت ہو رہی ہو … تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے …؟

کون کہتا ہے ، من و سلوا کا نزول بند ہو گیا …؟مغضوبِ خدا یہودیوں پر بند ہوا ہوگا ۔ اہلِ کوکن اس معاملے میں خوش نصیب ہیں ۔ کوئی کچھ نہ بھی کرے ، مگر بھوکانہیں مر سکتا ۔ قدرت کی یہ تمام نعمتیں اسے حاصل ہیں ۔ ایک ذرا ہاتھ بڑھانے کی دیر ہے … لیکن … صرف ایک معمولی سی شرط ہے … آم کا درخت اگر کسی کی ذاتی ملکیت ہے اور اس کی ڈالیاں پھلوں سے لدی ہوئی ہیں ۔ اگر کوئی پکا ہوا پھل ہوا کے جھونکے سے نیچے گر جائے ، تو جس نے پایا ، اس کا ۔ اسی طرح کاجو کے پھل کے لیے یہ شرط ہے کہ پھل کھائے اور بیج درخت کی جڑوں میں رکھ دے۔یہ شرائط صرف ان ہی دو پھلوں کے لیے ہیں ۔باقی جتنے پھل جنگل اور سڑک کے کنارے دستیاب ہیں وہ آپ کے ہمت و حوصلے پر ہے ۔ توڑیں اور کھا لیں ۔

 …ارضِ کوکن ہمیشہ سے تصورات کا الف لیلوی علاقہ رہا ہے ،جہاں کا حسن اور حسین مناظر بڑی کشش رکھتے  ہیں…عطیہ فیضی کے نام سے اس خطے پر قوسِ قزح کے رنگوں کی چھوٹ پڑتی ہے … یہ علاقہ داؤد غازی جیسے البیلے شاعر کا مولد و مسکن ہے … اس کے علاوہ  ’’ امرائی ‘‘ والے شاعر بدیع الزماں خاور ، آدم نصرت ،ساحر شیوی ، عارف بانکوٹی، حیرت کوکنی( حمزہ دلوی) ، اختر راہی ،شرف کمالی ، یعقوب راہی ، نور پرکار ، پرویز باغی اور تاج الدین شاہد جیسے شاعروں کے علاوہ ڈاکٹر عبدالستار دلوی ، ڈاکٹر میمونہ دلوی ،  ، ،عبدالحمید بوبیرے ، عبدالسمیع بوبیرے ، سلمان ماہمی، مبارک کاپڑی ،علی ایم شمسی اور رحمن عباس جیسے ادیب ،صحافی اور محقق بھی ، جو آج آبروئے ممبئی ہیں ، مگر جن کا خمیر خاکِ کوکن سے اٹھا ہے ۔سماجی و فلاحی شعبوں میںڈاکٹر عبدالکریم نائک ،ڈاکٹر ظہور پاٹنکر ، ڈاکٹر نظیر جیوالے ، ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر ، ڈاکٹر  عبدالرحیم اندرے ،ڈاکٹر خلیل مقادم ، ڈ اکٹر ایم او شیخ ، ڈاکٹر فقیر محمد کلے ، ڈاکٹر خلیل دلوی کیپٹن فقیر محمد مستری ، ڈاکٹر ذاکر نائک ، حاجی عبدالرزاق کالسیکر اور الحاج عبدالسلام راول کے حوالے سے اس علاقے کو وقار و اعتبار حاصل ہو چکا ہے ۔اسی علاقے  سے ابھرتے ہیں ر عبدلرحمن ونو اور حسن چوگلے بھی ۔ عبدالرحمن ونو کے ذریعہ قایم کیا گئے حنان کرکٹ کلب نے ہمیشہ بے مثال کامیابی حاصل کی اور اول مقام پر راہا ۔

سیاسی افق پر مصطفیٰ فقیہ ، رضوان حارث ،بیرسٹر عبدالرحمن انتولے ، سنئیر حسین دلوائی ، سلیم زکریا ، جونیئر حسین دلوائی ، مشتاق انتولے  اور حبیب فقیہ جیسے نام نظر آتے ہیں ۔

 … ان سب سے بڑھ کر دنیا کے بہترین آم ہاپوس کا علاقہ ہے …مرزا غالب ؔ اگر یہاں آئے ہوتے ، تویقینا کسی امرائی میں ڈیرہ ڈال دیتے اور پھر وہاں سے کبھی واپس نہ جاتے وغیرہ وغیرہ  …اور دیوانِ غالب ؔمیں آج دہلی اور لال قلعے کے بجائے کوکن کی قوسِ قزح اور کہکشائیں نظر آتیں ؟

کوکن کا بدلتا منظر نامہ

          ٭ کوکن کے لوگ عام طور سے بہت سادہ مزاج اور قناعت پسند ہوا کرتے  ہیں ۔ جب سے لوگوں نے خلیجی ممالک کی راہ لی یہاں سے غربت کے ساتھ ساتھ سادگی اور قناعت بھی ختم ہو گئی ۔

یہاں تعمیرات ، پکوان ، تہذیب و ثقافت کو دیکھ لر ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ بنا کرنسی کے جی سکتے ہیں یا کرنسی کے بنا جینے کا ہنر جانتے ہیں ۔

مچھلیاں ان کے لیے من و سلوا ہیں  سبزی ترکاری کی پیداوار ہر آنگن میں ہوتی ہے ۔خاص طور سے بیگن ، توریاں ، ککڑی ، بھنڈی ،گھیورا ، سیم ، بین ، پرول ، لوکی اور کدو ۔

ڈیری پروڈکٹ کے لیے ایک آدھ گائے یا بھینس ہی کافی ہے ۔ مرغیاں ہر گھر کی زینت اور ضرورت بھی ہیں … کبھی اچانک کوئی مہمان  آ جائے ، تو صاحبِ خانہ کو شرمندہ نہیں ہونا پڑتا ۔

 پھلوں میں آم ، کاجو ، کٹہل ، کیلے ،پپیتے ، انناس ، جامن، کروندے ، بیری اور کوکم کی پیداور زیادہ ہوتی ہے ۔

چاول کی فصل کے بعد وال ( پاوٹے ) ایک قسم کی دال  ( یہاں وال سے مراد  جماعت یا گاؤں سے خارج کیا جانا نہیں ہے ۔ ) کی فصل ہوتی ہے ساتھ ساتھ ارہر بھی … اسی لیے کوکنی لوگ اسے  توری پاوٹے کہتے ہیں ۔

چاول ( واضح رہے کہ یہاں دھان کو چاول کہتے ہیں )کے نو خیز پودوں کو ایک جگہ سے نکال کر جب دوسری جگہ لگایا جاتا ہے اسے مراٹھی اور کوکنی میں ’’لاونی‘‘ کہتے ہیں ۔

جس کے کھیت کی لاونی ہوتی ہے اس کے گھر محلے کے لوگوں کی دعوت ہوا کرتی ہے ۔ اسے ( لاونی چا جیون ) یعنی لاونی کی دعوت کہا جاتا  ہے ، جس میں عام طور سے تور کی دال ، چاول ،بیگن کی ترکاری ، اچار اور پاپڑ  کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

لاونی کے دوران گائے جانے والے گیتوں کو لاونی کے گیت کہتے ہیں ۔

 یہاں لاونی کی دعوت کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غربت میں بھی کس طرح دعوتیں کی جاتی تھیں اور لطف اندوز ہوتے تھے ۔ لوگ کس طرح اپنی زمین سے جڑے ہوتے تھے ۔

تعمیرات : یہاں پھاری یا چیرا ( ایک قسم کا سرخ پتھر ہوتا ہے، جو پہاڑوں سے کاٹ کر نکالا جاتا ہے ۔ ) سے مکانات بنانے کا عام رواج ہے ، مگر اب یہاں  پھاری کے مکانات کی جگہ آر سی سی بنگلوں  نے لی ہے ۔

 آج سے ۲۵ ؍ سال قبل جب چپلون کے پرشورام گھاٹ سے گاڑی گزرتی تھی ، تو کھپریل کے گھر ، کھیت اور آم ، ناریل اور سپاری کے درخت نظر آیا کرتے تھے ۔ اب پرشو رام گھاٹ سے نیچے دیکھیں ، تو بنگلے اور تین منزلہ چار منزلہ عمارتیں نظر آتی ہیں ۔ ایسے لگتا ہے جیسے شہر آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے  پر اسرار انداز میں گاؤں میں داخل ہو رہا ہے  اور گاؤں کی فضا شہر آلود ہو رہی ہے… ؟ گاؤں بڑی خوش دلی اور معصومیت  سے شہر کا استقبال کر رہا ، مگر وہ یہ نہیں جانتاکہ اپنی پہچان کا حسن  کھو رہا ہے …

٭کوکن کے لوگ تلاشِ معاش کے لیے اگر اپنے علاقے سے باہر نہ بھی نکلتے ، تو کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ کیونکہ اﷲ کی طرف سے نعمتوں کی کوئی کمی نہیں تھی، مگر انسان کا مزاج ہی ایسا ہے ۔ پچاس ساٹھ سال قبل کوکن کے لوگوں نے ممبئی کی طرف ہجرت شروع کی اور کچھ لوگوں نے ساوتھ افریقہ کا رخ کیا ۔ کسان، ماہی گیر اور ملاح جیسے لوگ ، جو آپس میں اناج ، ناریل سبزی ، مچھلی اور اپنی محنت کے تبادلے سے زندگی گزارتے تھے ، جنہیں کرنسی کی ضرورت نہیں تھی ۔ جب بڑے شہروں کا رخ کیا ، تو کرنسی کی شکل بھی دیکھ لی اور جب کوکن کے سادہ لوح محنتی لوگوں نے کرنسی دیکھ لی ، تو پھر ایک ہوڑ شروع ہو گئی روپے حاصل کرنے کی ۔ اس طرح کوکن کے لوگوں نے خلیجی ممالک کا رخ کیا ۔

خلیجی ممالک سے آنے والی دولت نے یہاں کی تہذیب  بدل کر رکھ دی ۔ پاپڑ ، اچار ، میٹھے پکوان اور اس طرح کی دیگر اشیا بڑے چاؤ سے گھر میں خواتین بنایا کرتی تھیں  اور اب یہ تمام اشیا  مارکٹ سے حاصل کی جا رہی ہیں ۔ہاتھ سے بنائی گئی خوبصورت گودڑیوں کی جگہ اب ریشمی چادریں اور کمبل استعمال ہو رہے ہیں ۔ کوکم کے شربت کی جگہ اب  بازار میں دستیاب شربت کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔

یہی نہیں شادی کے موقع پر مخصوص کھانا پکایا جاتا تھا ۔ وہ بھی اب ختم ہو تا جا رہا ہے ،اس کی جگہ بریانی پلاؤ اور اسی قسم کے دیگر پکوان پیش کیے جا رہے ہیں ۔ گاؤں کے میٹھے پکوان مثال کے طور پر سرولے، کوبی ، پیلوے ، شینگ، لڈو، ساندن ، ساکھرولی ،گھاری ، توسوری ، مٹھلی ،ناریل پاک،  بھانوری ، ستولے ، روٹھ اوراسی قسم کی دوسری اشیا ختم ہوری ہیں ، اب مٹھائی کی دوکانوں سے مٹھائیاں خرید کر قصہ ختم کر دیا جاتا ہے ۔ آج کل بیشتر افراد تو اپنے علاقائی پکوان کے نام سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ خلیجی ممالک سے دولت تو بہت آ رہی ہے ، مگر ان کی تہذیبی دولت ضائع ہو رہی ہے ، جس کا کسی کو احساس نہیں ۔ کوکن کی معیشت تباہ ہو رہی ہے ۔ خلیجی ممالک سے لائی گئی دولت سے شاندار بنگلے اور عمارتیں بنانے کے بجائے اسے اگر زراعت اور باغبانی میں لگایا جاتا ، تو یہ علاقہ معاشی طور پربھی مستحکم ہو جاتا ، یہاں کا کلچر بھی محفوظ ہوتا اور آنے والی نسلوں کو باہر کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ آج جو صورتِ حال ہے ، ایک وقت ایسا آئے گا کہ کوکن کے لوگ شاید اپنے شاندار بنگلوں اور عمارتوں کو مینٹین کرنے کی حیثیت میں بھی نہ رہیں ۔ کیونکہ خلیجی ممالک کی ملازمتیں ہمیشہ نہیں رہنے والی ہیں ۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں تیل کا ذخیرہ اگلے  بیس سال تک اور کام آ سکتا ہے ۔ اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ خلیجی ممالک کے شہری روزگار کی تلاش میں خود ہمارے جیسے ملکوں میں نظر آئیں ؟ کوکن کی مٹی زرخیز ہے  اب بھی وقت ہے کہ اس کی زرخیزی سے فائدہ اٹھایا جائے …

 اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں

سفالِ ہند سے خود اپنے جام پیدا کر

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com