کوکن کا بدلتا منظر نامہ

کوکن کا بدلتا منظر نامہ

اہل کوکن سے گزارش ہے کہ آپ کے پاس کوکن کے تعلق سے دلچسپ معلومات ، مضامین ، شعری تخلیقات ، تصاویر وغیرہ جو کچھ بھی ہے اسے ہماری ای میل آئی ڈی پر ارسال کیجیے ، اردو نیوز ایکسپریس ڈاٹ کام اسے آپ کے نام کے ساتھ شائع کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے ذخیرے میں محفوظ بھی کر لے گا ، تاکہ آنے والی نسلوں کو جب بھی اس قسم کی معلومات کی ضرورت پیش آئے ، تو وہ فوراً حاصل کر سکیں ۔ آئیے مل کر کوکن کی تاریخ رقم کریں ۔ یہ سلسلہ ہم  شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ای میل آئی ڈی  درج ذیل ہے۔

urdunewsexpressonline@gmail.com

 

٭ کوکن کے لوگ عام طور سے بہت سادہ مزاج اور قناعت پسند ہوا کرتے ہیں ۔ جب سے لوگوں نے خلیجی ممالک کی راہ لی یہاں سے غربت کے ساتھ ساتھ سادگی اور قناعت بھی ختم ہو گئی ۔
ایک وقت ایسا تھا کہ یہاں تعمیرات ، پکوان ، تہذیب و ثقافت کو دیکھ لر لگتا تھا کہ یہ لوگ بنا کرنسی کے جی سکتے ہیں یا کرنسی کے بنا جینے کا ہنر جانتے ہیں ۔
مچھلیاں ان کے لیے من و سلوا ہیں۔ سبزی ترکاری کی پیداوار ہر آنگن میں ہوتی ہے ۔خاص طور سے بیگن ، توریاں ، ککڑی ، بھنڈی ،گھیورا ، سیم ، بین ، پرول ، لوکی اور کدو وغیرہ ۔
ڈیری پروڈکٹ کے لیے ایک آدھ گائے یا بھینس ہی کافی ہے ۔ مرغیاں ہر گھر کی زینت اور ضرورت بھی ہیں … کبھی اچانک کوئی مہمان آ جائے ، تو صاحبِ خانہ کو شرمندہ نہیں ہونا پڑتا ۔
پھلوں میں آم ، کاجو ، کٹہل ، کیلے ،پپیتے ، انناس ، جامن، کروندے ، بیری اور کوکم کی پیداور زیادہ ہوتی ہے ۔
چاول کی فصل کے بعد وال ( پاوٹے ) ایک قسم کی دال ( یہاں وال سے مراد جماعت یا گاؤں سے خارج کیا جانا نہیں ہے ، کیونکہ کوکنی بولی میں لفظ ’ وال ‘ کے معنی بائیکاٹ بھی ہوتے ہیں ۔کچھ گاؤں میں وال کو ورنے بھی کہتےہیں ) کی فصل ہوتی ہے ساتھ ساتھ ارہر(تورکی دال) بھی … اسی لیے کوکنی لوگ اسے توری پاوٹے کہتے ہیں ۔
چاول ( واضح رہے کہ یہاں دھان کو چاول کہتے ہیں )کے نو خیز پودوں کو ایک جگہ سے نکال کر جب دوسری جگہ لگایا جاتا ہے اسے مراٹھی اور کوکنی میں ’’لاونی‘‘ کہتے ہیں ۔
جس کے کھیت کی لاونی ہوتی ہے اس کے گھر محلے کے لوگوں کی دعوت ہوا کرتی تھی ۔ اسے ( لاونی چا جیون ) یعنی لاونی کی دعوت کہا جاتا تھا ، جس میں عام طور سے تور کی دال ، چاول ،بیگن کی ترکاری ، اچار اور پاپڑ کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
لاونی کے دوران گائے جانے والے گیتوں کو لاونی کے گیت کہتے ہیں ۔
یہاں لاونی کی دعوت کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غربت میں بھی کس طرح دعوتیں کی جاتی تھیں اورلوگ سادہ دعوتوں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے ۔ لوگ کس طرح اپنی زمین سے جڑے ہوتے تھے ۔ مگر اب ایسی دعوتیں نہیں ہوتی ہیں ۔
تعمیرات : یہاں پھاری یا چیرا ( ایک قسم کا سرخ پتھر ہوتا ہے، جو پہاڑوں سے کاٹ کر نکالا جاتا ہے ۔ ) سے مکانات بنانے کا عام رواج ہے ، مگر اب یہاں پھاری کے مکانات کی جگہ آر سی سی بنگلوں نے لی ہے ۔
آج سے ۲۵ ؍ سال قبل جب چپلون کے پرشورام گھاٹ سے گاڑی گزرتی تھی ، تو کھپریل کے گھر ، کھیت اور آم ، ناریل اور سپاری کے درخت نظر آیا کرتے تھے ۔ اب پرشو رام گھاٹ سے نیچے دیکھیں ، تو بنگلے اور تین منزلہ چار منزلہ عمارتیں نظر آتی ہیں ۔ ایسے لگتا ہے جیسے شہر آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے پر اسرار انداز میں گاؤں میں داخل ہو رہا ہے اور گاؤں کی فضا شہر آلود ہو رہی ہے… ؟ گاؤں بڑی خوش دلی اور معصومیت سے شہر کا استقبال کر رہا ، مگر وہ یہ نہیں جانتاکہ اپنی پہچان کا حسن کھو رہا ہے …
٭کوکن کے لوگ تلاشِ معاش کے لیے اگر اپنے علاقے سے باہر نہ بھی نکلتے ، تو کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ کیونکہ قدرت کی طرف سے نعمتوں کی کوئی کمی نہیں تھی، مگر انسان کا مزاج ہی ایسا ہے ۔ پچاس ساٹھ سال قبل کوکن کے لوگوں نے ممبئی کی طرف ہجرت شروع کی اور کچھ لوگوں نے ساوتھ افریقہ کا رخ کیا ۔ کسان، ماہی گیر اور ملاح جیسے لوگ ، جو آپس میں اناج ، ناریل سبزی ، مچھلی اور اپنی محنت کے تبادلے سے زندگی گزارتے تھے ، جنہیں کرنسی کی ضرورت نہیں تھی ۔ جب بڑے شہروں کا رخ کیا ، تو کرنسی کی شکل بھی دیکھ لی اور جب کوکن کے سادہ لوح محنتی لوگوں نے کرنسی دیکھ لی ، تو پھر ایک ہوڑ شروع ہو گئی روپے حاصل کرنے کی ۔ اس طرح کوکن کے لوگوں نے خلیجی ممالک کا رخ کیا ۔
خلیجی ممالک سے آنے والی دولت نے یہاں کی تہذیب بدل کر رکھ دی ۔ پاپڑ ، اچار ، میٹھے پکوان اور اس طرح کی دیگر اشیا بڑے چاؤ سے گھر میں خواتین بنایا کرتی تھیں اور اب یہ تمام اشیا مارکٹ سے حاصل کی جا رہی ہیں ۔ہاتھ سے بنائی گئی خوبصورت گودڑیوں کی جگہ اب ریشمی چادریں اور کمبل استعمال ہو رہے ہیں ۔ کوکم کے شربت کی جگہ اب بازار میں دستیاب شربت کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔
یہی نہیں شادی کے موقع پر مخصوص کھانا پکایا جاتا تھا ۔ وہ بھی اب ختم ہو تا جا رہا ہے ،اس کی جگہ بریانی پلاؤ اور اسی قسم کے دیگر پکوان پیش کیے جا رہے ہیں ۔ گاؤں کے میٹھے پکوان مثال کے طور پر سرولے، کوبی ، پیلوے ، شینگ، لڈو، ساندن ، ساکھرولی ،گھاری ، توسوری ، مٹھلی ،ناریل پاک، بھانوری ، ستولے ، روٹھ اوراسی قسم کی دوسری اشیا ختم ہوری ہیں ، اب مٹھائی کی دوکانوں سے مٹھائیاں خرید کر قصہ ختم کر دیا جاتا ہے ۔ آج کل بیشتر افراد تو اپنے علاقائی پکوان کے نام سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ خلیجی ممالک سے دولت تو بہت آ رہی ہے ، مگر ان کی تہذیبی دولت ضائع ہو رہی ہے ، جس کا کسی کو احساس نہیں ۔ کوکن کی معیشت تباہ ہو رہی ہے ۔ خلیجی ممالک سے لائی گئی دولت سے شاندار بنگلے اور عمارتیں بنانے کے بجائے اسے اگر زراعت اور باغبانی اعلا تعلیمی ادارے اور کوکن کی ترقی میں لگائی جاتی، تو یہ علاقہ معاشی طور پربھی مستحکم ہو جاتا ، یہاں کی تہذیب بھی محفوظ ہوجاتی اور آنے والی نسلوں کو باہر کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ آج جو صورتِ حال ہے ،وہ قابل غور ہے ، ایک وقت ایسا آئے گا کہ کوکن کے لوگ شاید اپنے شاندار بنگلوں اور عمارتوں کو مینٹین کرنے کی حیثیت میں بھی نہ رہیں ۔ کیونکہ خلیجی ممالک کی ملازمتیں ہمیشہ نہیں رہنے والی ہیں ۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں تیل کا ذخیرہ اگلے بیس سال تک اور کام آ سکتا ہے ۔ اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ خلیجی ممالک کے شہری روزگار کی تلاش میں خود ہمارے جیسے ملکوں میں نظر آئیں ؟ کوکن کی مٹی زرخیز ہے اب بھی وقت ہے کہ اس کی زرخیزی سے فائدہ اٹھایا جائے …

اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے خود اپنے جام پیدا کر
٭٭

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com