کوکن کا جماعتی نظام

کوکن کا جماعتی نظام

٭ کوکن کی کھاڑی کے کنارے اور پہاڑیوں پر آباد چھوٹے چھوٹے خوبصورت گاؤں آج بھی اپنی روایتوں کے امین ہیں ۔ گاؤں کے سارے سماجی و فلاحی کاموں اور انتظامی امور کے لیے ہر گاؤں کی اپنی جماعت ہوتی ہے۔ گاؤں کے تمام افراد اس جماعت کے ممبر ہوتے ہیں اور کچھ عہدے دار۔ یہ جماعتیں بڑی مضبوط اور منظم ہوتی ہیں ۔ ان کی قوتِ فیصلہ بھی نا قابلِ تردید ہوتی ہے ۔گاؤں کا کوئی فردجماعت کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا ۔ قانون شکنی یا خلاف ورزی کرنے والے کے لیے جماعت سزا تجویز کرتی ہے ، جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ سزائیں کئی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مثلاً ۵۰؍ روپے سے ۵۰۰ ؍یا ۱۰۰۰؍ روپے نقد ادئیگی یعنی جرمانہ ۔ دوسری سب سے سخت سزا ہوتی ہے جسے ’’ وال ‘‘ کہتے ہیں …یہاںوال کامطلب ہے جماعت سے خارج کر دیا جانایعنی سماجی مقاطعہ۔ یہ بہت بڑی سزا ہوتی ہے ۔ اگر کسی گھر کے سربراہ کو یہ سزا دی گئی ، تو گویا گھر کے تمام افراد کو یہ سز ابھگتنی پڑتی ہے۔ مگر ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں یا نہیں کے برابر ہوتے ہیں ۔ وال کیے جانے والے لوگوں سے گاؤں کے دیگر افراد بھی قطع تعلق کر لیتے ہیں اور ان کے کسی دکھ درد یا خوشی کے موقع پر گاؤں کا کوئی فرد شریک نہیں ہو سکتا اور نہ ہی گاؤں کی جماعت سے انہیں کوئی تعاون حاصل ہو سکتا ہے ۔ اکثر ان حالات میں اگر ایسے خاندان میں کسی کی موت ہو جائے ، توپڑوس کے گاؤں کی جماعت وقتی تعاون کرتی ہے اور پھر کوشش یہ ہوتی ہے کہ جلد از جلد وال خاندان کو جماعت سے جوڑا جائے ۔ جماعت کے نظام کو قابو میں رکھنے کے لیے اس طرح کی سخت سزائیں ہیں … مگر ان کا اطلاق شاذ و نادر ہی ہوتا ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گاؤں کے لوگ آج بھی اخلاقی قدروں کے امین ہیں اور نہیں کے برابر کوئی ایسا غلطی کرتا ہے ، خدا کے خوف کے ساتھ ساتھ سماجی اور جماعتی قوانین کی پاسداری بھی کرتے ہیں ۔
شادی بیاہ کے موقع پر شامیانے سے کیٹرنگ تک سارے انتظامات گاؤں کی جماعت کے ذمہ ہوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں دیگیں ، تھالے ، کھانے کی پلیٹیں پانی کے ڈرم اور پیٹرومیکس سب جماعت کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے ۔ جس کے لیے جماعت کو طے شدہ نذرانہ دیا جاتا ہے ۔ صاحب ِ حیثیت لوگ نذرانے کی رقم زیادہ بھی دے سکتے ہیں ۔ کم استطاعت لوگ کم سے کم نذرانہ بھی دے سکتے ہیں ۔ پہلے دولہے کو جماعت کی طرف سے ایک مخصوص لباس بھی دیا جاتا تھا ، جوبشرط واپسی ہوتا تھا… اب یہ رواج آہستہ آہستہ اٹھتا جا رہا ہے ۔ اب دولہا ، سوٹ بوٹ ، شیروانی یا کرتا پاجامہ جیسے اپنے لباس ہی پہنتا ہے ۔ گزشتہ دور میں جماعت کی جانب سے دولہے کو مستعار دیا جانے والا لباس شاید ہی غربت کی وجہ سے ہوگا یا ، اخراجات میں بچت کی وجہ سے ایسا کیا جاتا ہوگا ، مگر اس لباس میں دولہا جب سیرگشت (کوکن کی ایک رسم ہے ، جس کے مطابق دولہا گھوڑے پر سوار ہو کر پوری بارات کے ساتھ ، اپنے گاؤں کے ہر گھر کے سامنے سلامی دیا کرتا ہے اور اس طرح پورے گاؤں کی سیر کرتے ہوئے اپنے گھر لوٹتا ہے ۔) کے لیے گھوڑے پر سوار ہوتا تھا ، تو واقعی ایک دن کا بادشاہ لگتا تھا ۔اس گشت کے دوران کوکن کی لوک موسیقی جسے کھالو کہتے ہیں بجائی جاتی ہے اور ساتھ ہی نوجوان لیزم کھیلتے ہیں ۔
اسی طرح منظم طریقے سے سارے کام ہوتے ہیںاوربہترین میزبانی ہوتی ہے ۔گاؤں کے تمام سماجی ، فلاحی کام جماعت کی نگرانی میں ہوتے ہیں ۔
اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں :
٭کوکن میں شادی کی رسمیں
اپنی بیش قیمت رائے ضرور ارسال فرامائیں کسی بھی زبان میں آپ لکھ سکتے ہیں ، قارئین کا خیر مقدم ہے۔ اسی ویب سائٹ کے گیسٹ پوسٹ میںآپ اپنی رائے دے سکتے ہیں ، مضامین بھیج سکتے ہیں یا پھر ہمارے ای میل پر بھی بھیج سکتے ہیں ، جو درج ذیل ہے:
urdunewsexpress@gmail.com

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com