کوکن کی بولی اور زبان کے تصادم سے لطیفے جنم لیتے ہیں

کوکن کی بولی اور زبان کے تصادم سے لطیفے جنم لیتے ہیں

 

٭ ہر چند کہ کوکنی کوئی زبان نہیں ، بولی ہے ۔مگر بولی جب مختلف تاریخی ، تہذیبی اور جغرافیائی موسموں سے گزکر رسم الخط میں ڈھل جاتی ہے ، تو زبان کا درجہ حاصل کر لیتی ہے ۔
بہت سارے الفاظ مختلف زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں اور وہ اپنی علاقائی جغرافیائی حیثیت سے معنی و مفہوم حاصل کرتے ہیں ۔
مثلاً پیٹھ اردو داں اسے پشت کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور مراٹھی طبقہ اسی لفظ کو آٹا( پسا ہوا اناج) کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔
لطیفے کیسے جنم لیتے ہیں … ملاحظہ کیجیے ۔

عالیہ کا تعلق کوکن سے ہے اور وہ ساڑھی باندھتی ہے ۔ ساڑھی اگر ٹھیک سے نہ باندھی جائے تو اکثر بے پردگی ہوتی ہے ۔
ایک دن عالیہ نے آٹے کو دھوپ میں رکھا ، تاکہ اس میں موجود چینٹیاں نکل جائیں ۔ اسی دوران اس کی پڑوسن ، جس کا تعلق یوپی سے تھا اس کے گھر آئی ، اس نے دیکھا کہ عالیہ کی ساڑھی کا آنچل سرک گیا ہے اور پشت نظر آ رہی ہے ، تو فوراً کہا ’’ عالیہ پیٹھ ڈھانک ۔‘‘ عالیہ نے ایک تھال اٹھا کر فوراً آٹے پر رکھ دی اور پوچھا ’’ ایسا کیوںکہا … کوئی چوہا آ رہا تھا کیا ؟ ‘‘ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہاں عالیہ نے پیٹھ کے معنی پشت نہیں آٹا سمجھا تھا ۔
بھال : مراٹھی یا کوکنی میں اس شہتیر کو کہتے ہیں جو اکثر چھت کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے اور اس کے علاو ہ اکثر دو دیواروں کو سہارا دینے کے لیے بھی چھت سے ذرا نیچے لگائی جاتی ہے اس قسم کی شہتیر کا استعمال گھر کے چھوٹے موٹے سامان رکھنے کے لیے بھی ہوتا ہے ۔ جیسے کنگھا ، تیل ، سرمہ ،کاجل وغیرہ … اگر کوکنی یا مراٹھی میں پوچھا جائے ’’کنگھا کہاں ہے؟‘‘ تو جواب ہوگا ’’ بھالا ور ‘‘ اس کی اردو ادائے گی اس طرح ہوگی ’’ بھالے پہ ‘‘ تصور کیجیے کنگھا اور وہ بھی بھالے پہ ؟ بھالا اردو میں نیزے یا برچھی کو کہتے ہیں ۔
عالیہ کا تعلق کوکن سے ہے اور ان کی بہو یو پی کی ہیں ۔ ایک دن انہوں نے اپنی بہو سے گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ بیت الخلاء بھی صاف کرنے کے لیے کہا اور تاکید کی ’’ کنڈی اچھی طرح گھس کے صاف کرنا ۔ ‘‘ تھوڑی دیر بعد بہو نے اطلاع دی ’’ امی دیکھیے ،ہم نے سب کچھ اچھی طرح صاف کر دیا اور کنڈی کو خاص طور سے گھس کر صاف کیا ہے ، وہ بالکل چمک رہی ہے ۔ ‘‘ عالیہ نے جائزہ لیتے ہوئے کہا ’’ کہاں کنڈی چمک رہی ہے ۔ کنڈی کو تو پانی بھی چھو کر نہیں گزرا ؟ ‘‘
بات دراصل یہ تھی کہ عالیہ کموڈ کو کنڈی کہہ رہی تھی اور ان کی بہو نے کنڈی یعنی دروازے کی کڑی صاف کر دی تھی ۔
چچا گھر آئے اور دم درست کرتے ہی کہا … ’’ کانڈا دے ‘‘ بھتیجے نے اپنی دانست میں کانڈا مطلب پیاز سمجھا اور ایک عدد پیاز لا کر چچا کے سامنے رکھ دی ۔ چچا نے وضاحت کی (کانڈا یعنی ماچس ۔ )
شہناز نے سمدھیانے کے مہمان آتے دیکھ کر بیٹی سے کہا ’’ شیو گھے ۔ ‘‘ ( سر پر آنچل رکھو ) بیٹی نے فوراً پیلٹ میں سیویاں پروسیں ۔ کیونکہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے ۔ ماں نے وضاحت کی ’’ اگو ماتھیا ور شیو گھے ‘‘( سر پر آنچل رکھ)۔
ریاض کی بیوی لکھنؤ کی ہے ۔ شادی کے فوراً بعد اس نے اپنی بیوی کو کوکنی کلچر اور زبان کے تعلق سے موٹی موٹی باتیں بتا دیں اس نے یہ بھی بتا کیا کہ گردن کو کوکنی میں مان کہتے ہیں ۔
کسی تقریب میں رشتے کی ساس نے ریاض کی بیوی کی طرف طشت (مٹھائی کا تھال )بڑھاتے ہوئے کہا ’’گھے بائی مان گھے ۔‘‘ ( لے بیٹا مان لے) ریاض کی بیوی ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی ۔ معاملے کو دیکھتے ہوئے ریاض نے بیوی سے دریافت کیا ’’ مان یعنی کیا سمجھیں ؟ ‘‘ اس نے بے ساختہ کہا ’’ ہاں گردن ‘ ‘ جبکہ یہاں مان کا مطلب اعزاز ہوتا ہے ۔ ( جیسے مان سمان )۔
کسی زمانے میں چونی (چارآنے یا پچیس پیسے) کو پاؤلی کہا جاتا تھا اور گھر کی چھت کے کناروں کو کوکن کے لوگ پاؤلی کہتے ہیں ۔ اور دوپہر کے وقت جب سورج نصف النہار پر ہو یعنی سیدھا سر پر اس وقت پوچھتے ہیں پاولی میں دھوپ آئی ہے کیا دیکھو ؟ ایسے ہی جب شاکرہ سے خالہ نے کہا دیکھو شاکرہ پاؤلی میں دھوپ آئی ہے کیا ، تو وہ سوچ رہی تھی کہ چار آنے کے سکے پر دھوپ کہاں سے آئی ہوگی کیا اسے دھوپ میں سوکھنے رکھا گیا تھا ؟
پرانزمانے میں کوکنی حضرات ڈاکٹر کے آلے کو یعنی استیتھواسکوپ کو ڈگری کہتے تھے ؟ ایک دفعہ گاؤں میں ایک ڈاکٹر آئے ، کسی نے پوچھا اس ڈاکٹر کی ڈگری کیا ہے یہاں ڈگری کا مطلب تعلیمی لیاقت تھا ، مگر کسی نے جواب دیا ، ’’ ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کے گلے میں ڈگری لٹکی رہتی ، آج لگتا ہے ، بھول کر آئے ہیں ۔ وہ برابر اپنی ڈگری کان میں لگا کر سب کو دیکھتے ہیں ۔‘‘
کوکن میں شادی بیاہ کے موقع پر جس موسیقی کا استعمال ہوتا ہے ۔ اس کہتے ہیں ’’کھالو‘‘ ۔
ریاض اپنی بیوی کے ساتھ ایک شادی میں شریک تھا ۔ چچا نے شہناز سے کہا ’’ کھالو کے ساتھ جاؤ ، دلہن کی بری لے جاؤ… ‘‘ شہناز نے حیرت کا اظہار کیا ’’ چچا ،خالو کو کیوں زحمت دیں ؟خواتین کے ساتھ بری لے کر خالہ نہیں جا سکتیں ہمارے ساتھ ؟ ‘‘
یہ ان دنوں کجی بات ہے جب کیمرے عام، نہیں تھے اور نہ ہی موبائل ہوا کرتے تھے ۔گاؤں میں شادی کے موقع پر ایک فوٹو گرافر کو ممبئی سے بلوایا گیا تھا ، وہ ہر گروپ سے کہتا ’’ اسمائل ، اسمائل ‘‘ اور دادی جان کہہ رہی تھیں ’’ اسماعیل نائے ہے ، تو گیلو رانات ۔‘‘
کوکن میں اکثر ایک دسترخوان پہ کھانا کھانے والے کے لیے ایک عجیب لفظ ہے، ’’ پھوُریات جیولے‘‘ یعنی ساتھ میں کھانا کھایا ، مگر جب معصوم کوکنی اس کا اردو ترجمہ کرتے ہیں ، تو جملہ کچھ اس طرح ہوتا ہے ۔ ’’ گود میں کھانا کھائے‘‘؟
ایسے ہی کوکنی میں وال کا مطلب ہوتا ہے ، خارج از جماعت ، جبکہ اردو میں اسی لفظ کا مطلب ایک دال کا نام ہے ، جسے کوکنی پاوٹے کہتے ہیں ۔
اہل ِ کوکن چھپ کلی کو فال کہتے ہیں ، جب کے اس کے اردو معنی ہوتے ہیں ، قرعہ انداز ی ، یعنی کسی کام کے کرنے سے قبل ٹاس کرنا کہ اس کام کو کس سے کروایا جائے ، عام بول چال کی زبان میں اکثر لوگ استخارہ کو بھی فال کھولنا کہتے ہیں۔ ایک بار گاؤں میں ایسا کوئی مسئلہ پیش آیا ، تو مدرسے کے معلم نے کہا ، فال کھلواتے ہیں ، یہ سنتے ہی گاؤں کے لوگوں نے کہا ، اب یہ فال کہاں سے بیچ میں آ گئی اور اسے کھولے گا کون؟ ( یہاں گاؤں والوں نے فال کو چھپ کلی کے معنی میں لیا ۔‘‘؟
گاؤں میں ایک بار رات کے وقت ہم نے ایک اڑتے ہوئے پرندے کی پرچھائیں دیکھی،تو دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ دادی نے کہا ’’ واگلا ہے ، واگلا۔‘‘ وہ کسی پرندے کا نام واگلا بتا رہی تھیں۔
ایک دن ہم اپنے دادا کے ساتھ کھاڑی کے کنارے گئے ، وہاں ایک تتلی کی شکل کی مچھلی کا شکار کر کے رکھا گیا تھا ، دادا کہہ رہے تھے ’’ یہ واگلا ہے۔‘‘ ایک بار پھر مجھے حیرت ہوئی کہ ’’ واگلا اڑتا بھی ہے اور تیرتا بھی ہے ؟‘‘اس مچھلی انگریزی میں اسٹنگرے کہتے ہیں اور ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کا سایہ دیکھا تھا ، جسے واگلا کہا گیا تھا وہ بڑی تتلی ہوتی ہے ۔
سیپ کو مراٹھی یا کوکنی میں مولے کہتے ہیں ۔کھاڑی کنارے چلتے چلتے اکثر ہم نے لالی اور بلبلے دونوں اقسام کے سیپ کا شکار کیا ۔ ایک دن دادا کو یہ کہتے سنا ’’ شیتا چیا باندا ور مولے لاوائچے ہائت؟ ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کھیت کی منڈیر پر مولے؟ ( سیپ ) اس دن ہمارے علم میں اضافہ ہوا کہ مولی کی بھاجی کو کوکنی حضرات مولے کہتے ہیں ۔
یوپی میں بے چھلے چاول کو دھان کہتے ہیں ۔ پکائے ہوئے چاول کو بھات کہتے ہیں جیسے’’ دال بھات‘‘ کوکن میں اس کے بالکل بر عکس بے چھلے چاول کو بھات اور پکائے ہوئے چاولوں کو دھان کہتے ہیں ۔ جیسے دال دھان ، سالن دھان یا دھان شکوری وغیرہ ۔ اگر آپ کوکن کی سیر کریں ، تو زبان کی ان باریکیوں کا ضرور خیال رکھیں ۔ایک بات اور اس سے لطف لیتے رہیے ۔ ٭٭

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com