کوکن کی زوال پذیر تہذیب …؟

کوکن کی زوال پذیر تہذیب …؟

٭وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدلتی ہے ، مگر جب قوم اپنی تہذیب بدلنے لگے اور اخلاقی قدریں کھونے لگے ، سمجھ لینا چاہیے کہ زوال قریب ہے ۔ ایسا ہی کچھ کوکن کے ساتھ بھی ہو رہاہے ۔
کوکن کے معصوم لوگ ، جب روزی روٹی کی تلاش میں دوسرے شہروں اور ملکوں کی طرف عازمِ سفر ہونے لگے ، تو سب سے بڑا نقصان گاؤں کا ہوا ۔ آہستہ آہستہ گاؤں ختم ہونے لگے اور گاؤں کے ساتھ ساتھ وہ معصوم تہذیب بھی دم توڑ نے لگی ، جو کبھی گاؤں کا حسن اور پہچان ہوا کرتی تھی۔ محدود آمدنی میں کئی لوگ خوشی سے گزر بسر کرتے تھے ۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بانٹتے تھے اور ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوتے تھے ۔ زمین ،باغات، ریوڑ اور مرغیوں کو اپنی دولت سمجھتے تھے ۔
یہ سب قایم رہ سکتا تھا … اگر کوکن کے لوگ اپنی تہذیب کو اپنے سینے سے لگائے رکھتے یا اپنی مٹی سے محبت کرتے ، مگر کوکن کے لوگ دولت کے حصول کے بعد اپنی مٹی اور تہذیب سے دور ہوتے چلے گئے… اور گاؤں شہر آلود ہوتا چلا گیا ۔
جغرافیائی اعتبار سے کوکن تیز بارش والا علاقہ ہے ۔ اس لیے صدیوں سے یہاں کے مکانات کی ساخت یکساں رہی ۔ یعنی کھپریل کی ڈھلوان چھتیں اور پھاری یا چیرا(پہاڑکے سرخ پتھر) کی دیواریں ۔ یہ مکانات کوکن کی پہچان بن گئے تھے ۔ اس کے علاوہ جھونپڑے بھی اسی طرح بنائے جاتے تھے ۔ مگر آج لوگوں نے دولت کے بل پر جدید طرزِ تعمیر کے مطابق بنگلے اور عمارتیں بنا نا شروع کر دی ہیں ۔ گھروں میں رہنے والے لوگ فلیٹوں میں منتقل ہوتے جا رہے ہیں اور اسے اسٹیٹس سمبل سمجھنے لگے ہیں ۔ اس ذہنی افلاس پر بے حد افسوس ہوتا ہے ۔ آج لاکھوں روپے خرچ کر کے بنگلے بنائے گئے ہیں ان میں رہنے کے لیے کوئی نہیں ہے ۔ کل جب یہ لوگ ریٹائر ہو کر آئیں گے ، تو کیا ان مکانات کی مرمت کروانے کے بھی اہل ہو سکتے ہیں ؟اور اس کے بدلے میں تہذیب جو ہاتھ سے گئی وہ ایک الگ خسارہ ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مکانات بھی بنواتے ، مگر جب دولت حاصل ہو ہی رہی تھی ، تو اس کا استعمال اپنی زمین پر کرتے ۔ زمینیں خریدتے ،ان پر آم ،کاجو ، کوکم ، کٹھل اور ناریل کے باغات لگواتے ،اپنے اپنے گاؤں میں باقاعدہ فارم ہاؤس بناتے ۔ اپنی بولی کوکنی کو قایم رکھتے ۔ گاؤں کی جماعتوں سے جڑے رہتے ۔تعلیم کے لیے اپنا گاؤں چھوڑنے کے بجائے اپنے ہی گاؤں میں اچھے اسکول بنواتے ، تو کوکن کی فضا اور حسین ہو جاتی اور تہذیب زوال آمادہ نہ ہوتی ۔
یہاں سیاح آتے ہیں ، تو ٹورازم کو فروغ دیتے ، اس سے کئی لوگ بر سر روزگار ہو جاتے اور انہیں اپنا گاؤں چھوڑ کر جانے کی بھی ضرورت نہیں پیش آتی ۔ ٹورازم ، ماہی گیری ، غلہ بانی اور کاشت کاری کے لیے حکومت کی جانب ،لون یا سبسڈی بھی ملتی ہے ، اس کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
رتنا گری میں ایک ریسورٹ ہے ’’گنپتی پلے‘‘ جہاں ’’کوکن ہاؤس ‘‘ بنائے گئے ہیں ، تاکہ سیاح یا بیرون کوکن کے لوگ آئیں تو انہیں یہ دیکھنے کو ملے کہ کوکن کیسا ہے ؟یہ کوئی فخر کی بات نہیں ، بلکہ افسوس کی بات ہے کہ اب ہماری تہذیب و ثقافت کو نمونے کے طور پر نمائش کے لیے رکھا گیا ہے ۔ پھر بھی یہ نمائش ادھوری ہے ۔ یہاں آپ کیا دیکھ سکتے ہیں ؟
کوکن ہاؤس بنانے والوں نے وہاں چار پائی تو رکھ دی ، مگر چار پائی پر بازار میں ملنے والی عام سی چادر بچھا دی ، جب کہ کوکن کی چارپائی پر خوبصورت ہاتھ کی سلی ہوئی گودڑی بچھی ہوتی ہے ۔
کیروسین کے قندیل لگا دیے ، جب کہ کوکن میں خاص طور سے ایک پیتل کی شمعی (شمع )جلائی جاتی تھی ۔
ایک طرف اوکھلی اور موسل لا کر کھڑا کر دیا … مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ کس مرض کی دوا ہے ؟ کیا کوکن ہاؤس میں اوکھلی کے دونوں جانب عورتیں کھڑے ہو کر موسل کی دھمک کے ساتھ چوڑیوں کی کھنک والی موسیقی پیدا کر سکتی ہیں ؟
کیا کوکن ہاؤس میں کھنکھاتی چوڑیوں او رجھولے کی چرچراہٹ کے ساتھ کوکن کے لوک گیت سن سکتے ہیں ؟
کوکن کی خواتین پیاز کے عرق میں اڑد کی دال کا آٹا اور مسالے ملا کر جو لذیذ پاپڑ بنایا کرتی تھیں ، وہ مل سکتے ہیں ؟
کوکن میں شادی کے موقع پر جماعت کے نظام اور نگرانی میں جو کھانا بنایا جاتا تھا اور ایک تہذیب کے ساتھ پروسا جاتا تھا ، وہ منظر دکھایا جا سکتا ہے؟ اس کھانے کا ذائقہ محسوس کرایا جا سکتا ہے؟
ترقی ہونی چاہیے ، مگر وہ ترقی کیا جو ہماری تہذب ، پہچان اور اخلاقی قدروں کو ختم کر دے ۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات کیا ہوگی کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو دیگر قوموں کی تہذیب سے آشنا کر رہے ہیں اور اپنی تہذیب کو دفن کرتے جا رہے ہیں ۔ اب بھی وقت ہے بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے ، جب جاگیں تب سویرا۔٭٭

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com