کوکن کی لوک کتھائیں

کوکن کی لوک کتھائیں ، یہ بھی کوکن کی تہذیب کا ایک حصہ ہیں ، ان کتھاؤں کا کوئی رکارڈ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کبھی کہیں شائع ہوئی ہیں ، یہ کتھائیں گھر کے بزرگ ،یعنی نانا ، نانی ، دادا ، دادی وغیرہ اپنے بچوں کو سنایا کرتے تھے ۔اردو نیوز ایکسپریس کی خصوصی پیشکش اہل کوکن کے لیے !

کوکن کی لوک کتھائیں
پوکا گھو ملا نکو

کوکن میں ایک چڑیا پائی جاتی ہے ، اسے مراٹھی یا کوکنی میں پوکیری کہتے ہیں ۔جب وہ چہکتی ہے ، تو لگتا ہے گویا کہہ رہی ہو ’’ پوکا گھو ملا نکو ۔‘‘ مادہ چڑیا کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پیٹ کے حصے کے پر پیلے ہوتے ہیں اور نر چڑیا کی پیٹھ تھوڑی اٹھی ہوئی ہوتی ہے ، بالکل کسی کبڑے کی طرح ۔
بتایا جاتا ہے کہ بارش کا موسم ختم ہوتے ہوتے جب پرول کی بیلیں منڈپ پر چڑھنے لگتی ہیں اور پرول کے پھول آنا شروع ہوتے ہیں ، تب یہ پرندہ زیادہ شور مچاتا ہے کیونکہ کئی سال پہلے کی بات ہے ۔ پرول کے منڈپ پر اس پرندے کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔ ہلدی کی رسم شروع ہوئی جب ہلدی لگائی جا رہی تھی ، تب اچانک نر پرندہ منڈپ سے نیچے گر گیا اور زخمی ہو گیا ساتھ ساتھ اس کی پیٹھ میں کبڑا پن بھی آ گیا ۔ یہ منظر دیکھتے ہی مادہ چڑیا یہ کہتے ہوئے پھر سے اڑ گئی ۔ ’’ پوکا گھو ملا نکو ‘‘ ( کبڑا شوہر مجھے نہیں چاہیے ۔ ) اس دن سے آج تک پرندے کے اس جوڑے کو پوکیری ( کبڑی ) کہتے ہیں اور یہ چڑیا آج بھی جب آواز نکالتی ہے ، تو سننے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے کہہ رہی ہو ۔ ’’ پوکا گھو ، ملا نکو ‘‘۔
اٹھ گو شیتو

کوکن میں ایک چڑیا ہوتی ہے ، بالکل فاختہ جیسی اور اسی سائز کی ۔ وہاں کی مقامی زبان میں اسے کورا کہتے ہیں ۔ عام طور سے اس کا شکار کر کے اسے پکا کر کھاتے بھی ہیں ۔
یہ چڑیا جب چلاتی ہے ، تو لگتا ہے کہہ رہی ہو ’’ اٹھ گو شیتو ، کولا پھور پھور ، توجیا ہاتھ چا بھات گور گور ‘‘ ( اٹھ رے شیتو ، کھپریل پھوڑ پھوڑ … کیونکہ تیرے ہاتھ کے دانے میٹھے ہیں ۔
کورا چڑیاکی ایک بہو تھی ۔ ساس روزانہ اسے اناج صاف کرنے دیتی تھی اور جنگل روانہ ہو جایا کرتی تھی ۔ ساس کے آنے تک بہو جیسے تیسے اناج کے چھلکے اتارتی اور صفائی کر کے رکھ دیتی تھی ۔ کچھ دنوں بعد اس کی دوسری بہو بھی آ گئی ، اس کا نام شیتو تھا ۔ ساس نے دونوں بہوؤں کو برابر اناج صاف کرنے دیا اور جنگل چلی گئی ۔ شام کو جب وہ واپس آئی تو دیکھا کہ نئی بہو شیتو نے اناج صاف کیا ہے ، وہ کم ہے اور بڑی بہو کا اناج ٹھیک ٹھاک ہے ۔ یہ دیکھ کر ساس کو بہت غصہ آیا ۔ اس نے اناج ناپنے کی پائیلی ( لکڑی کا برتن ، جس میں تین کلو اناج سماتا ہے) اٹھا کر شیتو کے سر پر دے ماری ۔ بہو نے تڑپ کر ایک سسکی لی اور وہیں دم توڑ دیا ۔
دوسرے دن ساس نے چھوٹی بہو کے ہاتھ کا صاف کیا ہوا ناج کھایا ، تو وہ اسے بہت لذیذ لگا ۔ اس نے جب اناج کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ چھوٹی بہو نے بہت باریکی سے اناج کے دانے صاف کیے تھے اور سارے کچرے دور کیے تھے ۔ خالص دانے جب منہ میں آئے تو بہت لذیذ لگے … یہ دیکھ کر ساس کو بہت پچھتاوا ہوا اور وہ مردہ شیتو کے پاس بیٹھ کر چلانے لگی ۔ ’’ اٹھ گو شیتو ، کولا پھور پھور ، تو جیا ہاتھا چا بھات گور گور ۔ ‘‘ (اٹھ جا شیتو چھت پھوڑ کے اٹھ جا تیرے ہاتھ کا اناج بہت میٹھا ہے ۔ ) اب بھی وہ چڑیا چلاتی ہے ، تو لگتا ہے ہے کہہ رہو ہو ’’ اٹھ گو شیتو …!

چالاک کوا

٭ کوکن کے کسی گاؤں میں ایک بڑھیا رہا کرتی تھی ۔ ایک دن خوب بارش ہوئی ۔بڑھیا اپنے گھر کی صفائی کر کے ابھی دروازہ بند کرنے جا رہی تھی کہ ایک کوا ہوا وہاں پہنچا ، جو پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ ٹھنڈ سے کاپنتے ہوئے کوے نے بڑھیا سے کہا ’’ مائی ، اس تیز طوفانی بارش نے میرا گھر تباہ کر دیا ، میں بری طرح بھیگ گیا ہوں میرے پاس سر چھپانے کا کوئی آسرا نہیں ہے ، کیا میں تمہارےاوٹے(ورانڈے) پر رہ سکتا ہوں ؟ ‘‘ بڑھیا نے کہا ’’ نہیں ہر گز نہیں ، میرا بیٹا اوٹے پر آئے گا ، تو تجھے جھاڑو سے مارے گا ۔ ‘‘ کوے نے باورچی خانے میں جلتے چولہے کی گرمی کو اپنے جسم میں محسوس کرتے ہوئے فریاد کی ’’ مائی تھوڑی سی جگہ تو تمہارے چولہے کے پاس مل ہی جائے گی ؟ میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا ، میر ی حالت پر رحم کرو ۔ ‘‘ بڑھیا نے معذرت کی ’’ دیکھ کوے تیر ی حالت پر میں رحم کر سکتی ہوں ، مگر میری بہو نہیں رحم کر سکتی ۔ اگر تو چولہے کے پاس گیا ، تو میری بہو تجھے پھونکنی اور چمٹے سے مارے گی ۔ ‘‘ کوا پھر گھگیانے لگا ۔ ’’ اس طوفانی بارش میں خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو ، مجھے اپنے گھر میں پناہ دو ۔ ‘‘ آخر بڑھیا کو اس پر رحم آ ہی گیا ۔ بڑھیا نے بڑی بے دلی سے کہا ’’ جا ، جا اوپر مالے(مچان) پر جا کے بیٹھ اور خبر دار میرے بیٹے اور بہو کو تیری موجودگی کی خبر نہیں ہونی چاہیے ، ورنہ ہو تجھے مار ڈالیں گے۔ ‘‘ یہ سن کر کوے نے بڑی بی کودعائیں دیں اور مچان پر جا کر ایک ٹوکری میں دبک گیا ۔
دوسرے دن بڑی بی نے محسوس کیا کہ مچان سے کُٹ کُٹ کُٹر کُٹ کٹ کی آوازیں آ رہی ہیں ۔ بڑی بی نے نیچے ہی سے آواز لگائی ’’کیا رے کوے کٹ کٹ کیا چل رہا ہے ؟‘‘ کوے نے وضاحت کی کچھ نہیں ، کل گاؤں میں نائی کے یہاں شادی تھی وہاں گیا تھا ، اس نے مجھے سپاری دی ہے وہی کھا رہا ہوں ۔ ‘‘کٹ کٹ کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں دو دن بعد بڑھیا نے پھر پوچھا ’’ کیا رے کوے یہ آواز کیسی آ رہی ہے ؟ ‘‘ کوا بولا ’’ کچھ نہیں مائی گاؤں میں دھوبی کے یہاں شادی تھی میں وہاں گیا تھا ، تو اس نے مجھے چنے دیے میں وہی کھا رہا ہوں ۔ ‘‘
بڑھیا کو اطمینان ہوا ۔ دراصل کوا مچان پر بیٹھا بڑھیا کی ٹوکری کا سارا اناج کھا کر وہیں گندگی کر رہا تھا ۔
جب بارش کا موسم ختم ہوا اور سارا اناج بھی ختم ہو گیا ، تو کوا ایک دن بڑھیا کا شکریہ ادا کیے بنا ہی اڑ گیا ۔
بڑھیا کوے کو بھول گئی ۔ ایک دن بڑھیا اناج نکالنے مچان پر گئی اور اناج کے ٹوکرے میں ہاتھ ڈالا ، تو اسے محسوس ہوا کہ اناج کی جگہ صرف بھوسی پڑی ہے اور دانے کوا کھا گیا ۔ بڑھیا کو بہت غصہ آیا ۔
بڑھیا نے کوے کو سزا دینے کی ترکیب سوچی ۔ اس نے گاؤں کے تمام کوؤں کو دعوت دی ۔ بڑھیا نے اپنے صحن میں تمام کوؤں کے لیے لکڑی کے پٹرے رکھے اور اس مخصوص کوے کے لیے موم کا پٹرا رکھا ۔ جب سارے کوے آ گئے تو بڑھیا نے بڑی محبت سے سب کو بٹھایا اور جس کوے نے اس کے گھر میں پناہ لی تھی اسے موم کے پٹرے پر بٹھایا ۔ سب کے لیے کھانا پروسا گیا ۔ سارے کوؤں نے مزے سے دعوت کا لطف اٹھایا ۔ کھا کر فارغ ہوئے تو سارے کوے اڑ گئے ۔ مگر جو موم کے پٹرے پر بیٹھا تھا وہ کوا اڑ نہ سکا ۔ کیونکہ موم سے وہ چپک گیا اور پھڑپھڑا کر رہ گیا ۔ اب بڑھیا نے اس کی خبر لی اور اس سے اپنے جرم کا اعتراف کروایا ۔ کوے نے رو رو کر اپنی غلطی قبول کی اور معافی مانگی ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا موم کے پٹرے نے کوے کے سارے پر چپکا دیے اور اس کے پیر بھی چپک گئے ۔ وہ اسی طرح پٹرے پر چپکے ہوئے ہی مر گیا ۔
آج بھی کوکن میں جب بارش کا موسم ختم ہونے لگتا ہے اور بیلوں اور پودوں پر سبزی ترکاری پھلنے پھولنے لگتی ہے ، تو مقامی لوگ کوے کے یا کالی مرغی کے پر اکٹھا کر کے ایک پٹری سے باندھ اپنی کیاری میں لٹکا دیتے ہیں ۔ تاکہ کوے اپنے بھائی کی عبرتناک موت کو یاد رکھیں اور سبزی ترکاری پر چونچ مارنے کی جرات نہ کر سکیں ۔ ٭٭

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com