ابراھم لنکن کا خط اپنے بیٹے کے استاد کے نام

ابراھم لنکن کا خط اپنے بیٹے کے استاد کے نام
یوم اساتذہ کے موقع پر خصوصی پیشکش
ہر شخص انصاف پسند نہیں ہوتا
اورنا ہی سب حق پسندہوتے ہیں
یہ سیکھ ہی لے گامیر ا بیٹاکبھی نا کبھی
پھر بھی آپ اسے یہ بھی سکھا دیں
کہ دنیا میں ہر بدمعاش میں
پوشیدہ ہوتا ہے ایک ، اچھا انسان
مفاد پرست سیاست داں بھی ہوتے ہیں دنیا میں
مگر ،چند ایک لیڈر ایسے بھی ہوتے ہیں، جو
وقف کر دیتے ہیںاپنی زندگی خدمت میں
اسی طرح ہوتے ہیں تاک میں دشمن اور چاہ میں دوست
مجھے علم ہے کہ
سارا علم بیک وقت نہیں سکھایا جا سکتا
پھر بھی ،موقع ملے تو اسے ذہن نشین کروا دیں
پسینہ بہا کر حاصل کیا ہوا ایک سکہ بھی بہت اہم ہے
بہ نسبت اس رقم سے جو بغیر محنت سے حاصل ہو
شکست تسلیم کرنے کا ہنر بھی سکھا دیں
اور ساتھ ہی فتح پر ہونے والی خوشی میں پھولے سمانے کا ظرف بھی
اس میں صلاحیت ہو ،تو
اسے مکر وفریب اور حسد سے بچنے کا ہنر بھی سکھا دیں
اسی طرح اسے یہ بھی درس دیں کہ خوشی کا اظہار کا اندازمہذب ہو
غنڈوں کا خوف دل میں نہ رکھے ، کہ انہیں زیر کرنا بہت آسان ہے
جس قدر ہو سکے اسے اپنے علم کے خزانے سے فیض یاب کریں
یہ بھی خیال رہے کہ
اس گنجینۂ علم سے اس کے دل کو تسکین بھی ہو
قدرت کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کا
اورتجربہ حاصل کرنے کا علم بھی اسے حاصل ہو
اوروہ دیکھے آسمان میں پرندوں کی بلند پرواز
سنہری کرنوں میں اڑنے والے پتنگے اور تتلیوں کے شوخ رنگ
اورسر سبز پہاڑوں کے نشیب و فراز پر
ہوا کے جھونکوں سے جھومنے والے وہ ننھے منے پھول
اپنی درگاہ میںآپ اسے یہ درس بھی دیں
کہ فریب سے حاصل کی کامیابی کے مقابلے ناکامی زیادہ بہتر ہے
اپنے تصورات اور خیالات پرمکمل اعتماد ہو
اسے بتائیے بہتر ی اسی میں ہے کہ
زمانے کی مخالفت کے دورمیں بھی وہ ثابت قدم رہے
حق کا ساتھ دے اور باطل کو شکست بھی
ہو سکے ، تویہ بات میرے بیٹے کے ذہن نشین کرو ا دیں
کہ وہ کبھی بھیڑ چال نہ چلے اور
کبھی بھیڑ کا حصہ نہ بنے ، اسے اس کا علم ہونا چاہیے
مزید اسے یہ بھی سکھا دیں سنے سب کی ، مگر
جو کام بھی کر بھی کرنا ہو، سچ کی کسوٹی پہ پرکھ کر
اور جو حاصل ہو اسی پر عمل کرے ، مگر
اپنے ضمیر کی آواز سنے
ہو سکے ، تو اس کے دل میں بٹھائیے کہ
مسکراتا رہے اپنے دکھوں کو چھپا کر ، مگر
آنسوں نکل پڑیں ، تو اس سے کبھی شرمندہ نہ ہو
اسے سکھا دیں باطل کو باطل سمجھے اور مفاد پرستی سے محتاط رہے
اسے یہ بھی اچھی طرح سمجھا دیں کہ طاقت اور دماغ سے روزگار حاصل کرے ، مگر
کبھی ضمیر کا سودا نہ کرے
سب کی مخالفت کو نظر انداز کرنے کا حوصلہ بھی ہو
اور سمجھائیے اسے کہ صرف حق و انصاف ہی کی راہ میں قدم اٹھائے
اور لڑتا رہے…
اس کی تربیت شفقت سے کیجیے ، مگر ناز برداری نہ کریں
بھٹی میں جلائے بغیر لوہے کی کارآمد پرت نہیں بن سکتی
اسے یہ درس بھی دیںکہ صابر رہے اور صبر کا مادہ سنبھالے رکھے
اسے مزید بتاتے رہیے کہ اپنی خود اعتمادی اگر مستحکم ہو ، تو
اسی صورت میں انسانی سماج میں اس کے تئیں عقیدت پیدا ہوگی
معاف کیجیے جناب ، میں کچھ زیادہ ہی کہہ گیا
اور کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کر لی ہیں
مگر پھر بھی جتنا ہو سکے ضرور کر دیجیے

منظوم ترجمہ : شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com