تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا ملک ہندستان

تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا ملک ہندستان

گزشتہ دنوں ایپل کے کو فاؤنڈر اسٹیو وزنیاک نے کہا ’’ہندستانی لوگوں کے نزدیک کامیاب زندگی کا معیار یہ ہے کہ تعلیم حاصل کریں ، اچھی ملازمت تلاش کر لیں ، شادی کر لیں اور ہو سکے تو ایک مرسڈیز خرید لیں۔ ‘‘ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر جواب دینے والوں کی گویا باڑھ آ گئی ۔ ہندستانیوں کو یہ بات بہت بری لگی ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس میں برا ماننے جیسا کیا ہے ؟ یہ تو اسٹیووزنیاک نے سب کی آنکھیں کھول دی ہیں ، یہ بتا دیا ہے کہ کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھومتے رہنے سے کامیابی اور ترقی نہیں حاصل ہو سکتی ۔ایسی صورت میں نہ ہی کسی فرد کو کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور نہ ہی قوم وملک کی ترقی ہو سکتی ہے ۔ اسٹیو وزنیاک نے جو کچھ کہا ہے ، ہمارے ملک میں اس سے جدا کیا ہو رہا ہے ؟ ۸۰؍ فیصد سے زیادہ لوگ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں ۔ لوگوں کی سوچ بھی ایک سانچے میں ڈھل چکی ہے ، بالکل اسی طرح جیسا ہمارے ملک کا نظام تعلیم ہے ۔
تعلیمی ادارے وہ لوگ چلا رہے ہیں ، جنہوں نے اسے محض کاروبار بنا لیا ہے ۔ پورے نصاب کو رٹایا جاتا ہے ، تاکہ طلبا کو پورے مارکس حاصل ہو جائیں ۔ ۹۲؍ سے ۹۹؍ فیصد مارکس ایس ایس سی اور ایچ ایس سی میں طلبا حاصل کر رہے ہیں ، مگر ان ہی طلبا کو سامنے بٹھا کر کسی موضوع پر یا ان کے تعلیمی نصاب ہی کے تعلق سے گفتگو کی جائے ، تو وہ بوکھلا جاتے ہیں ، جواب نہیں دے پاتے ہیں ۔ ہر سال گریجویشن کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد فارغ التحصیل ہو کر عملی دنیا میں قدم رکھ رہی ہے ۔ جب یہ طلبا عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور کسی کمپنی یا ادارے میں انٹرویو کے لیے جاتے ہیں ، تو وہ خاطر خواہ جواب نہیں دے پاتے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں کوئی ملازمت نہیں مل پاتی ۔ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر بے شمار ہیں اور بے روزگار بھی ، وکیل بے شمار ہیں وہ بھی بے روزگار ، انجنئیر کا تو پوچھئیے مت ، ہر گھر میں ایک دو ضرور مل جائیں گے ، بچے کی مرضی نہ ہو پڑھائی کرنے کی صلاحیت اور قابلیت نہ ہو تب بھی والدین کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا انجنیئر ضرور بنے گا ، اب انجنیئر بھی بے روزگار مارے مارے پھر رہے ہیں ۔
بےروزگاری کا اصل سبب یہ نہیں کہ روزگار کے ذرائع اور مواقع نہیں ہے ، اصل سبب یہ ہے کہ جس کے پاس جو ڈگری ہے وہ اس کا اہل نہیں ہے ، اس میں وہ صلاحیت نہیں ہے ۔ صلاحیت ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے ، جب انٹرویو میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔
ایک کمپنی کے سربراہ نے دوران گفتگو ہمیں بتایا کہ ہماری کمپنی میں کسی کا تقرر کرنا ہو ، تو انٹرویو دینے والوں کی ایک طویل قطار ہوتی ہے ، ایک ہفتے تک یہ سلسلہ چلتا ہے ، سیکڑوں لوگ آتے ہیں ، ان میں سے ایک یا دو افراد منتخب ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دس یا بارہ سوالات میں سے ایک کا بھی صحیح جواب نہیں دے پاتے اور جن کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ کم از کم دو سوالوں کے صحیح جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
آج صورت حال یہ ہے کہ بی یو ایم ایس ، بی اے ایم ایس ، ایل ایل بی اور انجنئیرنگ کرنے والے افراد پرائیویٹ اسکولوں میں درس و تدریس کا کام کر رہے ہیں ۔ اسکولوں میں ہر کسی کو ملازمت مل رہی ہے ، کیونکہ ان کا معیار ایک ہی ہے آپ کے پاس ڈگری چاہے کوئی بھی ہو ، یا نہ ہو ، بس کم تنخواہ میں کام کرنے کی صلاحیت ہونا چاہیے ۔ ہم نے ایسے کئی ڈاکٹر ، وکیل اور انجنئیروں کو اسکولوں میں پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے ، کیونکہ جب وہ اپنے میدان میں ناکام ہو جاے ہیں، تو کوئی آسان کام تلاش کر لیتے ہیں ، ایسی صورت میں ایک ہی در وازہ تو ہمشہ کھلا نظر آتا ہے ، وہ ہے پرائیویٹ اسکولوں کا ۔کیونکہ اسکول انتظامیہ کو اس سے کچھ نہیں لینا دینا کہ جن لوگوں کا وہ تقرر کر رہے ہیں ، وہ اس کے اہل ہیں بھی یا نہیں ؟ انہیں تو اسکول چلانے ہوتے ہیں اور وہ تمام اشیا بازار سے دوگنے دام میں فروخت کرنے کی فکر ہوتی ہے ، جسے وہ اسکول کے طلبا کے والدین کو فروخت کر سکتے ہو ں ۔ آج کل ایسے پرائیویٹ اسکولوں میں سب کچھ مل رہا ہے ہے سوائے تعلیم کے ۔ کاپی ، کتابیں ، یونفارم ، اسکول بیگ ، پانی کی بوتل ، جوتے ، موزے ، ٹائی ، رین کوٹ ، یہاں تک کہ ٹوپی بھی ، جس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ، یہ تمام اشیا محض والدین کو مرعوب کرنے اور ان کی جیب خالی کرنے کے لیے فروخت کی جا رہی ہیں اور والدین بھی ایسے ہی ہیں کہ بلا اعتراض یہ سب خرید رہے ہیں ۔
ایک اسکول کی پرنسپل نے بچے کے داخلے کے وقت اس کی والدہ سے کہا ’’ مبارک ہو ، آپ کے بچے کا داخلہ ہمارے اسکول میں ہو گیا ،آپ کو بچے کے لیے کاپیاں ، کتابیں ، اسٹیشنری ، یونیفارم ، ٹائی ، جوتے ، موزے ، اسکول بیگ ، واٹر بیگ ، سب کچھ ہم سے لینا ہوگا اور ہاں یونیفارم کا کپڑا ہمارے درزی کے یہاں رکھا ہوتا ہے ، وہیں سے آپ سلوائیں گے ۔ ہماری اسکول بس کی خدمات بھی ہیں ، آپ کہاں رہتے ہیں ؟‘‘ بچے کی والدہ نے جواب دیا ، ’’ہم قریب ہی رہتے ہیں اور اپنی گاڑی سے بچے کو لانے لے جانے کا انتظام کر لیں گے ۔‘‘ پرنسپل نے فوراً کہا ’’ اوہ تو آپ پھر آپ یہ کارڈ رکھیں اور اپنی کار میں اسی پٹرول پمپ سے فیول لیا کیجیے ۔ ‘‘
جب اسکول انتظامیہ کی سوچ ایسی ہو اورطلبا اپنے نصاب کو محض رٹ لیں گے امتحان دینے اور اچھا پرسنٹیج لانے کے لیے اور اس کی بنیاد پر ملازمت کی تلاش میں نکل پڑیں گے ، تو یہی حال ہوگا۔ ہمارے ملک میں نرسری اورپرائمری میں پڑھانے کے لیے کم سن لڑکیوں کو کھڑا کر دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہ کم تنخواہ میں کام کر لیتی ہیں ۔ جب کہ نرسری میں پڑھانے کے لیے تجربہ کار اوار شادی شدہ خاتون کا انتخاب کیا جانا چاہیے ۔ تاکہ وہ چھوٹے بچوں کی نفسیات کو سمجھ سکے اور اس کے مطابق ان کی تربیت کر سکے ۔ اسکول محض نصاب پڑھانے کے لیے نہیں ہوتے ہیں ، وہاں بچوں کی ذہنی تربیت بھی ہونا چاہیے ، جو کہ نہیں ہو رہی ہے ۔
یوروپی ممالک میں بچوں کو سب کچھ سکھایا جاتا ہے ۔ ہمارے پڑوسی ملک چین کےبچے ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں ۔ہمارے ملک کا بچہ صبح اٹھتے ہی روٹی کی ڈلیا دیکھتا ہے ، جب کہ چین کا بچہ صبح اٹھ کر یہ سوچتا ہے کہ آج ٹیکنالوجی میں نیا کیا ہے ؟ ہمارے ملک کے بچے کتابوں کے بھاری بستوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں ۔ مختلف ایجنسیوں نے اسکول کے منتظمین سے معاملات طے کر کے اپنی کتابوں کی فروخت لازم کروا کے اپنا کاروبار شروع کر دیا ہے ۔ پرائیوٹ اسکولوں میں سرکاری نصابی کتابوں سے زیادہ غیر سرکاری اور غیر ضروری کتابیں ہوتی ہیں ۔ دستکاری کے نام پر نرسری اور پرائمری کے بچوں کو ایسا کام دیا جاتا ہے کہ وہ کر نہیںسکتے ، نہ وہ قینچی پکڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کاغذ کی کٹنگ پیسٹنگ کر سکتے ہیں ، مگر ایسے کام ضرور کرواتے ہیں ،یہ کام مالی طور پر والدین کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں اور بچے کی والدہ اگر خود نہیں بنا سکتی ،تو ان ہی اسٹیشنری کی دوکانوں میں آرڈر دے کر بنواتی ہیں ، جسے پروجیکٹ کا نام دیا جاتا ہے ۔ بچوں کو ان کی عمر اور قابلیت سے زیادہ مشکل پروجیکٹ دیا جائے ، تو وہ کیا سیکھ پائیں گے ؟
ہمارے یہاں بچے جونئیر کالج اور ڈگری کالج کا زینہ چڑھتے وقت بھی ماں کے آنچل سے بندھے ہوتے ہیں ، یا تو ماں انہیں اکیلا نہیں جانے دیتی یا ،بچے ماں کی انگلی نہیں چھوڑنا چاہتے ۔نرسری ، پرائیمری اور سیکنڈری تک ٹھیک چلتا ہے معاملہ پھر دسویں کے بورڈ امتحان میں ناکام ہونے کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کے بارے میں نہیں سوچا جاتا ، کسی صورت بارہویں میں پہنچ گئے ، فیل ہو گئے ، تو سلسلہ یہیں ختم ۔ پھر گلی کوچوں اور نکڑوں پر گپیں لڑانا اور مستقبل کے خواب دیکھنےکا کام رہ جاتا ہے ۔
آج تعلیم حاصل کرنےکا مقصد علم حاصل کرنا نہیں ہے ، بلکہ تعلیم کو روزی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے ، یہ غلط سوچ ہے ، جس سے نئی نسل باہر نہیں نکل پا رہی ہے ۔آج والدین خود ہی اپنے بچوں کا مستقبل لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، لڑکا ہے ، تو انجنئیر بنے گا ڈاکٹر بنے گا اور نوٹ چھاپنے کی مشین بن جائے گا ۔لڑکی ہے ، تو کچھ پڑھ لکھ لے ، تو اچھا لڑکا دیکھ کر شادی کر دیں گے ۔پھر وہ سسرال نبھائے ، شوہر کو سنبھالے اور بچے پیدا کرے ، یہی مستقبل ہے ۔
اعلا تعلیم علم میں  اضافے کے مقصد سے ہونا چاہیے ،اسی کے ساتھ اچھی تربیت ہونا بھی ضروری ہے ۔ بچے کا ذہن کس چیز میں چل رہا ہے وہ دیکھ کر اسی سمت میں اس کی رہنمائی کرنا چاہیے ۔ یہ نہیں کہ اپنی مرضی سے بچے کو کسی بھی فیکلٹی میں دھکیل دیا جائے ۔ آ ج ایسا ہی ہو رہا ہے ، ذہین بچے اپنی ذہانت کا صحیح استعمال نہیں کر پا رہے ہیں ۔
پڑوسی کا بچہ فلاں اسکول میں جا رہا ہے ، اس لیے ہم اپنے بچے کو بھی اسی اسکول میں داخلہ دلوائیں گے ، وہ اسکول گھر سے ۱۰؍ ۲۰ کلو میٹر دور ہی کیوں نہ ہو ۔ دو دو گھنٹے کا سفر کر کے بچہ تھک جائے ، پھر ٹیوشن کلاس جائے ، ہوم ورک کرے ۔ طالب علم نہ ہوا بندھوا مزدور ہو گیا ۔ ایسے ماحول میں  جب بچے بڑے ہوتے ہیں ، توان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کیسے بیدار ہوگی ۔ خوداعتمادی کیسے پیدا ہوگی ۔ پھر وہ کس طرح عملی زندگی کا سامنا کر پائیں گے ؟ وہ کیا نئی ایجادات کر پائیں گے ؟ کیسے اپنے حوصلے بلند کریں گے ۔ پہلے اپنے بچوں کو اسکول کے بستوں کے بھاری بوجھ اور غیر ضروری کتابوں سے نجات دلائیں اور ان کی ذہنی و جسمانی تربیت کرنا سیکھیں کہ یہ بہت ضروری ہے ۔
والدین اپنے بچوں کو اسکول سے لازم کی گئی ہر چیز دلواتے ہیں اور ان کے ٹفن میں فاسٹ فوڈ ، نوڈلز یا بریڈ بسکٹ ڈال دیتے ہیں ، محض اپنی تن آسانی کے لیے ۔ بچوں کی جسمانی بڑھوتری کے دور میں اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے ، اس کا خیال ہی نہیں رکھا جاتا ۔ صحت مند غذا سے محروم بچے کا جسم اور ذہن دونوں ناکارہ ہو سکتا ہے ۔ بچوں کی اچھی پرورش کے لیے خوش گوار ماحول اچھی تربیت ، اعلا تعلیم اور متوازن غذاکا اہم رول ہوتا ہے ۔ صدیوں سے سنتے آ رہے ہیں ، بچے ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ دیکھیے آج بچوں کا کیا حال ہے ، مستقبل آپ کی سمجھ میں آ ہی جائے گا ۔

شیریں  دلوی

 

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com