طلبا کو با صلاحیت بنانے میں ہوم ورک کی اہمیت کس قدر

طلبا کو با صلاحیت بنانے میں ہوم ورک کی اہمیت کس قدر

آج کے دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ بچوں کو اسکول بھیجنا لازم ہے وہیں یہ بات بھی لازم ہے کہ ان کے تعلیمی سال کا نصاب بھی وقت پر مکمل ہو جائے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اسکول میں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، نہ کہ علم ۔ تعلیم اور علم حاصل کرنے میں بہت فرق ہے ۔ بچوں کے تعلیمی سال کا نصاب وقت پر پورا کرنے کے علاوہ اساتذہ کو مختلف ڈیوٹیاں لگا دی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ تعلیمی پروگرام ، سماجی اور تعلیمی بیداری سیمنارکرنا ، چارٹ بنوانا ، نمائش کا اہتمام کرنا اور ایسے ہی غیرضروری کام کو لازم کر دیا گیا ہے ۔
اکثر نصابی کتابیں وقت پر مارکٹ میں دستیاب نہیں ہونے سے وقت پر نصاب مکمل کرنے میں اساتذہ اور طلبا کو دقت پیش آتی ہے ، اس صورت میں اساتذہ ہوم ورک کا بوجھ بڑھاتے جاتے ہیں ، کیونکہ ان کے پاس ایک مضمون کے لیے ۳۵؍ منٹ کا ایک پریڈ ہوتا ہے ، اسی کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی مختلف مضامین کا ہوم ورک ایک ہی دن میں اتنا ہو جاتا ہے ، کہ طلبا اور ان کے والدین پریشان ہو جاتے ہیں ۔
ہوم ورک کے تعلق سےاسپین کی اوویڈو یونیورسٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہوم ورک کا وقفہ ۶۰؍ سے ۷۰؍ منٹ کا ہونا چاہیے ۔ ہسپانوی ٹیم نے پبلک، حکومت کی طرف سے امداد اور نجی اسکولوں کے ۷۷۲۵؍طالب علموں سے پوچھا کہ وہ کتنا ہوم ورک کرتے ہیں، ان طلباء سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ مختلف موضوعات پر کس طرح سے محنت کرتے ہیں اور کتنی بار دوسروں سے مدد لیتے ہیں۔
امریکن ایسوسی ایشن تعلیمی نفسیات سے متعلق مضمون میں شائع اس تحقیق میں پایا گیا کہ زیادہ تر طالب علموں کے لیے ریاضی اور سائنس کے ہوم ورک کے لیے ایک گھنٹے کا وقت زیادہ سے زیادہ تھا اور جو طالب علم ان مضامین کے ہوم ورک کے لیے اتنا وقت دیتے تھے،انہوں نے بعد میں دیے گئے مثالی ٹیسٹ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔
کتابوں میں بے تحاشہ کھوئےرہنے والے طالب علموں کی کارکردگی پر منفی اثر دیکھنے میں آیا۔ ۱۰۰؍منٹ کے ہوم ورک کے بعد طلبا نے ان طلبا سے کم مارکس حاصل کیے تھے ، جنہوں نے ۶۰؍۷۰؍ منٹ ہوم ورک کیا تھا ۔
واکس ڈاٹ کام، پر ایک مضمون میں حوالہ دیا گیا ہے کہ ‘’’ اس تحقیق کے مطابق، باقاعدہ ہوم ورک اور والدین کا کم سے کم مداخلت کرنا، ٹیسٹ میں سب سے زیادہ اسکور کی وجہ دیکھی گئی۔ سب سے زیادہ بااثر طالب علموں میں اپنے آپ سیکھنے کی عادات تھیں اور وہ آزادانہ طور پر کام کرنے کے عادی تھے۔
اس تحقیق سے کچھ سوالات کے جواب نہیں مل سکے۔ مثال کے طور پر، طالب علموں کو ریاضی اور سائنس کے ٹیسٹ دیے گئے تھے ،لیکن نتائج مختلف نہیں دیکھے گئے،یہ بھی کہ بچوں کو ایک ہی بار ٹیسٹ دیا گیا تو ممکن ہے کہ ہوم ورک کی مقدار اور کارکردگی کے درمیان میں کوئی تعلق ہو۔ یہ مکمل طور پر درست نہیں مانا جا سکتا۔
واکس ڈاٹ کام کے مضامین کے مطابق، اس مطالعہ کے نتائج یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ‘’’ تعلیمی حکمت عملی، خود کی سوچنے کی صلاحیت اور اعتماد کا اثر بھی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ہوم ورک کا سوال ہو تو ضروری ہے کہ کس طرح، نہ کہ کتنا۔ جب ایک بار ذاتی کوشش اور اپنی مرضی سےموضوع موجود ہویا سمجھ میں آ جاتا ہے ، تو بلا وجہ ہو، ورک کے نام پر وقت ضائع کرنا مناسب نہیں ہوتا ۔
اساتذہ کا کام ہوتا ہے کہ وہ کسی مضمون کو طلبا کو اچھی طرح سمجھا دیں ،طلبہ اگر اسے سمجھ کر سوالوں کے جواب لکھتے ہیں ، تو ان کی سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے ، جبکہ رٹا مار کر یاد کر کے لکھنے والے طلبا وقتی طور پر جواب لکھ سکتے ہیں ، مگر ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آ سکتا ۔ سوال ذرا بھی گھما کر آیا ، تو جواب لکھنا مشکل ہو جائے گا۔
اساتذہ اور والدین مل کر ایسی حکمت عملی طے کریں کہ بچوں کا ہوم ورک کا بوجھ کم کر کے ان میں صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، ایک بار نصاب کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ، تو پھر ایسے طلبا نصاب کو رٹے بغیرہی ضرور اچھے مارکس حاصل کر سکتے ہیں  ۔

اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر < ہمارے صفحہ > کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس سے اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com