معیار تعلیم کیسے بلند ہو ؟

جون سے تعلیمی سال شروع ہو جاتا ہے اور زیر تعلیم بچوں کے والدین اخراجات پورے کرتے ہوئے پریشان ہو جاتے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں کی قلت  ہے اور ہیں بھی تو بہت برا حال ،اکثر اسکولوں کی خستہ عمارتوں کے پلستر گر جاتے ہیں، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اسکول میں میونسپل کارپوریشن کا پانی بھی نہیں ہوتا ہے، بچے اپنے گھروں سے پانی لاتے ہیں ۔ کبھی عمارت کے چھجے یا پلستر کے گر جانے سے بچوں کے زخمی ہونے کی خبریں آتی ہیں ، تو کبھی بارش کا پانی اسکول کی عمارت میں جمع ہو جانے سے بچے دقتوں کا سامنا کرتے ہیں ، بیشتر اسکولوں کا یہی حال ہے۔ آر ٹی ای کے دعوے صرف دعوے ہی ہو کر رہ گئے ہیں ۔حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں طلبا کو دی جانے والی کتابوں کی تقسیم بھی نہیں ہوتی اور وہ کتابیں ادھر ادھر گوداموں میں پڑی رہ جاتی ہیں ، یا پھر فروخت کی جاتی ہیں۔  پرائیویٹ اسکول جہاں ڈونیشن کے نام پر بڑی بڑی رقمیں لی جاتی ہیں، جس سے بچوں کے والدین بے حد پریشان ہیں ۔ اسکولوں میں ڈونیشن کے نام پر لی جانے والی رقم تیس ہزار اور پچاس ہزار تک پہنچ گئی ہے ، ساتھ ہی ماہانہ فیس بھی اب ہزار روپے سے زیادہ لی جارہی ہے ، چند ایک اسکول ایسے ہیں جہاں ماہانہ فیس چار سو یا پانچ سو روپے ہوگی یا ڈونیشن نہیں لیا جا رہا ہے ۔
  چھوٹے موٹے پرائیویٹ اسکولوں کی فیس ہزار پانچ سو روپے ہے ، اوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں ،وہ مختلف ٹرسٹ اور خیراتی اداروں کے چکر کاٹتے ہیں ۔ ایک طرف حکومت حصول تعلیم پر زور دے رہی ہے ’’ پڑھے گا انڈیا ، بڑھے گا انڈیا ۔‘‘ یا پھر ’’ سروا شکشا ابھیان ‘‘اور دوسری طرف ہزاروں روپے اسکول فیس مقرر کر کے غریبوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔  غریب طبقے کے افراد یومیہ سو دو سو روپے میں اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلا تے ہیں ، ایسی صورت میں بچوں کو اسکول بھیجنا بڑا مسئلہ ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بچے مزدوری کر رہے ہیں ۔ جس تیزی سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اسی رفتار سے پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھ رہی ہیں ۔ اب تک تو ہم یہ سوچ رہے تھے کہ طبی شعبے میں لوٹ مار مچی ہے ، مگر تعلیمی شعبے کا بھی وہی حال ہے ۔ ایک بات اور محسو س کی جا رہی ہے کہ جب سے خیراتی اداروںنے غریب والدین کے ذہین بچوں کی فیس بھرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کے بعد سے اسکولوں نے اپنی فیس میں بے تحاشہ اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ اب ان اداروں کو بھی محتاط ہو جانا چاہیے اور ہر ایرے غیرے اسکول کی فیس نہیں ادا کرنی چاہیے ۔ بلکہ معیاری اسکولوں ہی کی فیس ادا کریں اور یہ بھی طے کر لیں کہ ماہانہ فیس کتنی ہو؟ ورنہ یہ ادارے بچوں کے مستقبل کے خیال سے فیس بھرتے رہیں اور اسکول کے نام پر جن لوگوں نے دوکانیں کھول لیں ہیں وہ اپنی تجوریاں بھرتے رہیں ۔ بد عنوانی اب اس قدر عام ہو گئی ہے کہ کوئی بھی شعبہ اس سے پاک نہیں رہا۔ ہمارے معاشرے میں شراب ، جوا،جھوٹ وغیرہ ایسی برائیاں ہیں ، جس سے سب نفرت کرتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ڈاکٹر اور ماسٹر کبھی شراب پی کر سڑک پر گرا ہوا نہیں ملے گا اور نہ ہی وہ جوا کھیلتے ہوئے دیکھا گیا ۔ مگر آج انہیں مقدس شعبوں سے وابستہ لوگ شراب، جوااور جھوٹ سے بڑا جرم کر رہے ہیں اور وہ جرم ہے معصوم لوگوں کو فریب دینا اورلوٹ مار کرنا ، استحصال کرنا اور بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنا ۔ والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ، مگر کہاں تک ؟ پھر ڈراپ آؤٹ اور اس کے بعد خالی ذہن شیطان کا گھر کے مصداق شیطانوں کی ٹولیاں پیدا ہوں گی ، جو معاشرے اور ملک کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے اسکولوں کی فیس مقرر ہونا چاہیے ۔بر سر اقتدار افراد ذرا اونچے ایوانوں سے نیچے آ کر دیکھیں ۔ ایئر کنڈیشنڈ مکانوں ، دفتروں اور گاڑیوں سے باہر نکل کر غربت کی آنچ کو محسوس کریں ، توشاید یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ غریبوں کے لیے 25% کوٹا مقرر کیا گیا ہے ، اس پر بھی کہیں عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ تجاویز پیش کی جاتی ہیں ، مگر عمل ندارد ۔ حکومت کی جانب سے فنڈ مختص کیے جاتے ہیں ،مگر وہ کس مد میں خرچ ہوتے ہیں؟یہ بھی ایک اہم سوال ہے؟؟
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com