نصابی تعلیم کو آسانی سے سمجھنے کا ذریعہ ڈونٹ میمورائز ، نو مور

نصابی تعلیم کو آسانی سے سمجھنے کا ذریعہ ڈونٹ میمورائز ، نو مور

نصاب کورٹیں نہیں ،علم میں اضافہ کریں 

ہر دور میں ترقی اور کامیابی اسے حاصل ہو سکتی ہے ، جو دنیا میں ہونے والی تبدیلی کا ساتھ دیتا ہے ۔ تیز رفتار الیکٹرانک دور نے انسانی زندگی کو بھی تیزی سے بدل کر رکھ دیا ہے ۔ ڈاک کا زمانہ گیا ، ای میل آ گیا ، لینڈ لائین فون گیا موبائل آ گیا ، ٹی وی کی شکل میں دنیا سمٹ کر گھر میں آ گئی تھی اور اب اسمارٹ فون کیا آ گیا ، دنیا سمٹ کر مٹھی میں آ گئی ہے ۔ موبائل کی شکل میںہر انسان دنیا کو اپنی مٹھی میں لیے گھوم رہا ہے ، دنیا جہاں کی معلومات ، خبریں ، فلمیں، ٹی وی پروگرام،صحت کے نسخے ، پکوان کے نسخے یہاں تک کہ اب آن لائن خریداری بھی کر سکتے ہیں ، سفر کے ، فلموں کے یا اسی طرح کسی بھی قسم کے ٹکٹ بھی آن لائن بک کیے جا رہے ہیں، مگر اس سے فیض یاب وہی ہو سکتا ہے ، جو اس کے استعمال سے واقف ہو ۔ اسی طرح ترقی اور تبدیلی کا ایک اور مرحلہ طے ہوا ، کتابیں ، ای بک میں تبدیل ہو گئی ، اخبارات آن لائن آ گئے ، سب کچھ ڈیجٹل ہو رہا ہے ، تو نصاب تعلیم کیوں کتابوں کے اوراق ہی میں سمٹ کر رہ جائے ؟اب وہ دن دور نہیں ، جب بچے کاپی کتابوں کے بھاری بستوں کے بجائے ایک ٹیب لے کر اسکول جائیں  گے اور پینسل قلم کے بجائے کی بورڈ کا استعمال کریں گے۔
بدلتے دور کا ساتھ دیتے ہوئے بہت سی بڑی بڑی کمپنیوں نے کروڑوں روپے کے سرمائے سے ای لرننگ سسٹم جاری کیا ہے ، یو ٹیوب چینل پر مختلف کلاس کے تمام مضامین پیش کیے جا رہے ہیں ۔ روزانہ سیکڑوں یا ہزاروں طلبا اس پر وزٹ کر رہے ہیں ، کتنے طلبا اس سے فیض یاب ہو رہے ہیں ؟ یہ ایک الگ سوال ہے !
گزشتہ دنوں تھانہ میں میری ایک ایسے شخص ملاقات ہوئی ،جنہوں نے’’ ڈونٹ میمورائز ، نو مور‘‘ Don’t Memorise Know More کے نام سے جماعت ششم سے دہم 6th to 10th علم ریاضی ( الجبرا ، جیومیٹری) اور سائنس کے لیکچر یو ٹیوب چینل پر جاری کیے ہیں ،انہیں دیکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم دوبارہ طلب علمی دور میں آ گئے اور کوئی ایسا ٹیچر ہمارے سامنے ہے ، جو ہمیں سب کچھ آسانی سے ذہن نشین کروا رہا ہے اور ایک بار نہیں ، ہم اسے بار بار دیکھ سکتے ہیں ، سن سکتے ہیں ، یہاں تک کہ ہمیاری سمجھ میں آجاتا ہے اور اس طرح ذہن نشین ہو جاتا ہے کہ سوال کسی بھی نوعیت کا ہو جواب دینا آسان محسوس ہوتاہے۔
کاسیکھانے کا  بہترین انداز مجھے متاثر کر گیا ۔ اسی کے ساتھ یہ عنوان بھی بہت اچھا لگا  Don’t Memorise Know More یعنی یاد نہیں کریں، علم میں اضافہ کریں ۔  میں نصابی تعلیم کو اسکول اور طلبہ نے سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا ہےا ور پورے نصاب کو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا رٹا مار لیتے ہیں ، جس سے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا اور نہ ہی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ در اصل نصابی تعلیم صرف رٹنے کے لیے نہیں ہوتی ہے ، سمجھنے اور سیکھنے کے لیے ہوتی ہے ۔ تاریخ ، جغرافیہ ، سائنس ، زباندانی اور علم ریاضی کے علاوہ اخلاقی تعلیم اس لیے دی جاتی ہے کہ جب طالب علم اسکول یا کالج سے فارغ ہو کر عملی دنیا میں قدم رکھے ، تو سب کچھ اس کے علم میں ہو اور کسی بھی نازک مرحلے میں فوری فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت اس میں پید اہو سکے اور وہ زندگی کے ہر معاملے میں خودکو مقابلہ کرنے کا اہل پائے ، یہ اسی وقت ممکن ہے جب طلبا اپنے نصاب کو اچھی طرح سمجھ لیں اور ہر امتحان میں آسانی سے کامیابی حاصل کر لیں ۔

ڈونٹ میمورائز نو مور کے بانی گنیش پائی 

ڈونٹ میمورائز نو مور کے بانی گنیش پائی کا آبائی وطن مینگلورو ، بھارت ہے ۔ تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ انجنئیرنگ کے بعد وہ یہ سوچنے لگے کہ میں کچھ ایسا کام کروں ، جس سے طلبا کا فائدہ    ہو یا انہیں کچھ سیکھنے میں مدد مل سکے ۔ وہ اپنے پاس پڑوس کے بچوں کو میتھس اور سائنس پڑھایا کرتے تھے ۔ آج سے پانچ سال قبل یہ بات ان کے ذہن میں آئی کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ طلبا کے سامنے ان کے نصاب کو آسان بنا کر پیش کیا جائے۔ اس سوچ کو مزید بڑھاوا اس وقت ملا جب ان کے ایک ساتھی آکاش نے اس بات کی تائید کی اور ہر ممکن ساتھ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ، اس کے بعد ایسا ہوا کہ ’’ لوگ ساتھ آتے گئے ،کارواں بنتا گیا‘‘۔ گنیش پائی نے اپنی ٹیم کےساتھ مل کر اس پروجیکٹ پر محنت کرنا شروع کر دی ۔ ابتدائی سال میں تین سو ساڑھے تین سو سبسکرائبر تھے ، تیسرے سال میں مزید بڑھ گئے اور ابھی حال فی الحال یہ تعداد بڑھ کر تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے ۔
گنیش کا کہنا ہے کہ یہ کام چونکہ انہوں نے طلبا کی آسانی اور بہتری کے لیے کیا ہے ، یہ کام ہی نہیں ان کے لیے شوق او ر تفریح ہے ، اس لیے کبھی انہوں نے اس بات کی پروا بھی نہیں کہ اپنا سرمایہ اور وقت لگانے کے بعد انہیں کچھ حاصل ہوگا یا نہیں ؟ گنیش کا یہ کہنا ہے کہ مثبت کام کرتے رہیں ، اچھا نتیجہ سامنے آ ہی جاتا ہے ۔ اس تعلق سے گنیش نے آج تک کسی قسم کی اشتہارر بازی نہیں کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اچھی کوالٹی ہو اور طلبا کو اطمیان ہو جائے ، دھیرے دھیرے یہ تعداد بڑھ ہی جائے گی ، ابھی یہ تعداد تین لاکھ ہے ، ۲۰۲۰ ؍ تک دس سے بیس لاکھ بھی ہو سکتی ہے ۔
دوران گفتگو گنیش نے کہا کہ مجھے اپنے کام سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور جب زیادہ سے زیادہ طلبا اس سے فیض یاب ہوتے ہیں ، تو بے پناہ خوشی ہوتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی ٹیم کو اپنے بازو سمجھتا ہوں ، میں اپنی ٹیم کا پورا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہوں، تاکہ یہ کسی موقع پر کسی وجہ سے کمزور نہ پڑ جائے ۔ ہمارے دفتر میں سب کے لیے ہر ممکن سہولت کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ سب کی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے ۔گنیش نے مزید کہا کہ اگر ٹیم صحت مند اور خوش ہوگی ، تو کام کے نتائج بہترہوں گے ۔ ہم پبلسٹی میں نہیں اچھی کوالیٹی میں یقین رکھتے ہیں اور اچھی کوالیٹی کے لیے پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ۔

 

Don’t Memorise know more

پر ضرور وزٹ کیجیے ، مایوسی نہیں ہوگی۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com