‘‘بے روزگاروں کو روزگارفراہم کرنے کا ذریعہ ’’ اسٹار فاؤنڈیشن

‘‘بے روزگاروںکو روزگارفراہم کرنے کا کا ذریعہ ’’ اسٹار فاؤنڈیشن

آج کے تیز رفتار اور نفسا نفسی کے دور میں اپنی قوم کی فلاح کے بارے میں مخلص ہو کر سوچنا اور کام کرنا جوئے شیر لانے سےکم نہیں ۔ آج ملک کے طول و عرض میں عوام کی زبان پر شکایتیں ہیں ۔ حکومتیں بدلتی رہیں ، مگر عوام کے حالات نہیں بدلے مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ، بے روزگاری نے اور برا حال کر رکھا ہے ۔ حکومت خواہ کسی بھی پارٹی کی رہی ہو ، عوام کی پریشانی کبھی کم نہیں ہو سکی ۔ جو غریب ہیں ، دن بدن ان کی غربت میں اضافہ ہوتا رہا اور ، جو امیر ہیں ان کی دولت میں اضافہ ہوتا گیا ۔ ہزارہا کروڑ کے گھپلے گھوٹالے ہوتے رہے اور عوام کی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی ۔
دنیا کے جن ممالک میں تعلیم اور طبی سہولت حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی گئی ہے ، وہاں کے عوام خوشحال ہیں اور وہ ملک بھی ترقی کی راہ پر ہیں ۔ ہمارے ملک میں تعلیم حاصل کرنا اور علاج کروانا ، دونوں ہی بہت مہنگا ہو گیا ہے ، اس صورت میں آج بھی ملک کے عوام کو کچھ تعاون حاصل ہے ، تو وہ غیر سرکاری اداروں سے ۔غیر سرکاری ادارے NGO بھی چلانا بہت مشکل ہے ۔ اس کے باوجود کچھ ایسے لوگ ، جو انسانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں ، خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہیں ، وہ اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ ایسے اداروں کے لیے وقف کر کے عوام کے لیے فلاح کا کام کر رہے ہیں ۔
ایسی ہی غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے فلاحی کام کرنے والوں میں ایک نام دانش لامبے کا بھی ہے ۔یوں تو دانش لامبے کوکن کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم کرلا کے نیو انگلش اسکول سے حاصل کی ، ابھی چوتھی جماعت میں تھے کہ والد کے ساتھ کوئی ایسا حادثہ پیش آیا ، جس کی وجہ سے انہیں شری وردھن لوٹنا پڑا ۔ پانچویں جماعت اے آر اندرے انگلش اسکول سے مکمل کرنے کے بعد شری وردھن کے جامعیہ حسینیہ میں داخلہ کروا دیا گیا ، جہاں سے حفظ اور عالمیت کا تین سالہ کورس کرنے کے بعد گجرات کے دار العلوم اشرفیہ سے دینی تعلیم مکمل کر لی اور پھر عملی دنیا میں قدم رکھا ۔
ابتدائی دنوں میں گول کوٹ چپلون کے مدرسے میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ، اسی کے ساتھ کمپیوٹر ہارڈ ویئر اور سافٹ وئیر کے کورس کیے ۔ چند ہی برسوں میں پونا منتقل ہو گئے ۔ پونا سے آئی ٹی کرنے کے بعد ممبئی لوٹے اور یہاں سے پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ۔ ’’ لینڈ اسکیپنگ اور گارڈن پلاننگ کو ذریعۂ معاش بنایا ۔ ان کا یہ کاروبار ’’ سوریہ شکتی ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔


دانش لامبے کو جب اپنے پیروں تلے زمین اور سر پر آسمان کے ہونے کا یقین ہو گیا ، تو ۲۰۰۷ میں ’’ اسٹار فاؤنڈیشن ‘‘ نامی ادارہ شری وردھن میں قایم کیا یہ فیملی اینڈ فرینڈ ٹرسٹ ہے ۔ اس ادارے کے ماتحت ’’ لیگل اویرنیس کیمپ ‘‘ اور ’’ ایڈمنسٹریٹیو ایجوکیشن ‘‘ کیمپ کا انعقاد کیا جاتا رہا ۔ اسی کے ساتھ اعلا تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو دیگر اداروں سے مالی مدد فراہم کروا کے ان کی تعلیم مکمل کرنے میں مدد کی جاتی رہی ۔ ۱۱؍ سال میں اپنے قدموں کو مستحکم کرنے کے بعد مزید حوصلے بلند کیے اور اب پوری ریاست کے عوام کی خدمت کا ارادہ ہے ۔ اس ارادے کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے ۱۵؍ اگست ۲۰۱۷ کو ’’ اسٹار ۲۵؍ مشن ‘‘ لاؤنچ کیا گیا ۔ اس کا مقصد ہے ہر سال ۲۵؍ طلبا کا انتخاب کر کے انہیں تعلیمی سہولت و رہنمائی فراہم کر کے آئی اے ایس ، یو پی ایس سی جیسے مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے تیار کروانا ، تاکہ کامیابی کے بعد وہ ایڈ منسٹریشن میں شامل ہو سکیں ۔ قابل اور سند یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دلانے میں مدد اور رہنمائی کی جاتی ہے ۔ اسی کے ساتھ یہ عزم بھی ہے کہ پوری ریاست سے ۱۵۰۰۰؍ نوجوان ہر سال مقابلہ جاتی امتحان میں شریک ہوں ۔
نوجوانوں کی بے روزگاری دور کرنے اور خواتین کو خو کفیل کرنے کے غرض سے اسکیل سینٹر قایم کرنے کا عزم ہے ۔ ایسے اسکیل سینٹر تربھے ، کوپر کھیرنے اور ممبرا میں قایم کیے جا چکے ہیں ، جہاں ۲۵؍ لڑکیاں بیوٹیشن کا کورس کر رہی ہیں اور ۷۵؍ لڑکیاں ٹیلرنگ سیکھ رہی ہیں ، تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں اور اپنی خوداری اور عزت کی حفاظت کر سکیں ۔ ایسے فلاحی کاموں کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے ، جس کے لیے 12A80G رجسٹر کروایا ہے ۔ عزم کو پورا کرنے کے لیے اخراجات بھی ہوتے ہیں ، جس کے لیے ’’ اسکریپ کلیکشن‘‘ شروع کر دیا ہے ۔ ردی یعنی جن اشیا کو ہم اپنے گھروں میں رد کر دیتے ہیں پھینک دیتے ہیں یا اونے پونے دام میں بھنگار والوں کو دیتے ہیں ، وہ سب اسٹار فاؤنڈیشن جمع کر کے اسے ری سائیکل کرتا ہے ، جس سے بہت سے نوجوانوں کو اجرت حاصل ہوتی ہے ، کئی بے روزگار نوجوان روزگار حاصل کر رہے ہیں ۔ ری سائیکل کر کے جو اشیا تیار ہوتی ہیں ، انہیں یہ نوجوان ریلوے اسٹیشن کے باہر فروخت کرتے ہیں ۔ اس ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ردی اشیا کی ری سائیکلنگ کرنا ماحول کو فضائی آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے ۔
’’ اسٹار فاؤنڈیشن ‘‘ کی ’’ دانش اکیڈمی ‘‘ کے زیر اہتمام اسکیل سینٹر جاری کیے جا رہے ہیں ، تاکہ نوجوان ہنر مندی سے روزگار حاصل کر سکیں ۔ اکاؤنٹنٹ ، کمپیوٹر آپریٹر ، ٹیلرنگ ، بیوٹشین ، جیسے چھ ماہ یا ایک سال کے تربیتی کور س کے ذریعے ہنر مند بنا کر بر سر روزگار کیا جاتا ہے ۔
الثر یہ دیکھا گیا ہے کہ چھوٹےپیمانے پر جو اشیا بنائی جاتی ہیں ، انہیں فروخت کرنے کے لیے مارکٹ نہیں ہوتا ،اچھی پیکنگ اور ٹریڈ مارک نہیں ہونے کی وجہ سے ان کی فروخت نہیں ہو پاتی ، اس لیے YIIPEE ایک تجارتی نام رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے ، تاکہ چھوٹے پیمانے پر جو لوگ ایسی اشیا بنا رہے ہیں ، ان کی کوالٹی چیکنگ اور پیکنگ کے ساتھ انہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی اور اگر ایکسپورٹ کرنا ہے ، تو وہ سہولت بھی فراہم کی جا سکتی ہے ۔ بدلتے زمانے کے ساتھ ایسا مال آن لائن فروخت کرنے کا پورا انتظام کر لیا گیا ہے ۔ دیگر کئی ایسے ادارے ہیں ، جہاں خواتین ، فنائل ، اگر بتی ، صابن ، پاپڑ ، اچار ، مربہ ، جام، چٹنی اور مصالحے بناتی ہیں ، مگر ان کی فروخت نہیں ہو پاتی ، ان کے مال کو فروخت کرنے کا زریعہ پیدا کیا گیا ہے ۔ سماجی اداروں کے ذریعے تیار کیے گئے مال کو انٹر نیشنل مارکٹ میں فروخت کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے ۔
دانش لامبے کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔اچھی تخلیقات اچھی ذہنی صلاحیت کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ اچھی صلاحیت کے ساتھ نیت اچھی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کاروں ضرور اپنی منزل کو پہنچے گا ۔ دانش لامبے قوم کے لیے اتنا کچھ سوچتے ہیں اور ان قیادت میں ایک ٹیم کام کر رہی ہے ۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے ، مستقبل میں اچھے نتائج سامنے ہوں گے ۔ آج بھی اس مشن میں دانش تنہا نہیں ہیں ، اپنی دانش مندی کے ساتھ ایک ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور امید ہے کہ اس ٹیم میں روز بروز مخلص لوگوں کا اضافہ ہوتا جائے گا اور یہ کارواں آگے بڑھتا رہے گا ۔

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com