عبدللہ کمال ، شاعر: جو غزل جی رہا تھا

عبدللہ کمال کی آٹھویں برسی پر خراج عقیدت

عبدللہ کمال (کمال صاحب) کی شخصیت اور شاعری پر لکھنا میرا منصب نہیں ہے اور دشواری یہ ہے کہ بیک وقت اور بیک قلم ان کی شاعری اور شخصیت پر لکھنا میرے لیے ممکن نہیں ۔ ایک بار خوشبو کو پھول سے اور رنگ کو روشنی سے جدا کیا جا سکتا ہے ،لیکن عبداﷲ کمال کی شاعری اور شخصیت کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ، جو ان کی شاعری ہے ، وہی ان کی شخصیت ہے اورجو ان کی شخصیت ہے ، وہی ان کی شاعری ہے ۔ غالباً اسی لیے ’شاعری جینا ‘ یا ’ غزل جینا ‘ کی اصطلاح ان کے نام سے منسوب ہے … اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وہ شعر لکھتے نہیں ہیں ، شعر جیتے رہے…


عبداﷲکمال میرے شریکِ جہاد ہی نہیں ، میرے لیے ایک مکمل یونیورسٹی تھے اور میں اس یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھی۔بہت کچھ میں نے سیکھا ہے ان سے ۔مجھے کہنے دیجیے کہ آ ج میں جو کچھ ہوں ، انہی کے فیضِ تربیت کے طفیل ہوں … اور یہ اعتراف کر کے میں اپنے آپ کو چھوٹا نہیں محسوس کر رہی ہوں ، یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ عبداﷲ کمال جیسی شخصیت کی نصف بہتررہی ہوں میں ۔
عبداﷲ کمال مجھے نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ ؔ کہتے تھے۔ یہ شاید وہ مذاق میں کہتے ہوں ، پھر بھی میرے لیے یہ عزت افزائی سے کم نہیں ۔ شیفتہ غالبؔ کے شاگرد تھے ، لیکن ایک غیر معمولی سخن شناس شاگرد ۔یہ ان کا وصفِ سخن شناسی ہی تھا کہ غالب ؔ اپنی ہر غزل سب سے پہلے شیفتہ کو سناتے تھے اور ان کے اکثر مشوروں کو اہمیت دیتے تھے ۔ خدا نخواستہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ غالب شیفتہ کو اپنا استاد مانتے تھے ، مگر وہ ان کی شعر فہمی اور تنقیدی شعور کے قایل ضرور تھے ۔ شاید عبداﷲ کمال غالبؔ کے تتبع میں ایسا کرتے ہوں ، کیونکہ اکثر وہ بھی مجھ ناچیز کے مشوروں کو توقیر بخشتے تھے ۔
عبداﷲ کمال غزل کے Dedicated شاعر اور Submitted عاشق تھے۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فنا فی الغزل ہیں ۔خود کہتے تھے …

جانتا ہوں ترے عشق کا ما حصل ،اے غزل
یا فنا فی الغزل یا بقا فی الغزل ، اے غزل

وہ غزل کے ایک شعر پربھی اتنی ہی محنت کرتے تھے ، جتنی پوری غزل پر کی جا سکتی ہے … کیونکہ وہ غزل کے ایک شعر کو بھی مکمل غزل کا درجہ دیتے تھے۔ وہ غزل کو مکملیت کا استعارہ مانتے تھے۔ یوں بھی مزاجاً وہ مکملیت پسند یعنی Perfectionist تھے ۔زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو ، وہ اسی مکملیت پسندی کو پیشِ نظر رکھتے تھے ۔ چاہے وہ کسی اخبار کا کالم لکھنا ہو ، یا کسی دوست کو خط ، وہ غزل ہی کے ڈیکورم کو پورا کرتے تھے ۔ اپنے اطمینان کی حد تک کاٹ چھانٹ کرتے تھے۔ املے کی غلطی تو دور رہی ، وہ پنکچویشن تک کی لاپروائی کو برداشت نہیں کرتے ۔ ان کے اسی مزاج کی وجہ سے اکثر کاتب یا کمپیوٹر آپریٹر ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے گھبراتے تھے… روزنامہ ہندستان کو جب انہوں نے جوائن کیا تھا ، تو ایک ماہ کے عرصے میں پانچ آپریٹر بدلے تھے ۔ چنانچہ، مجبوراًمجھے آپریٹنگ سیکھ کر انہیں جوائن کرنا پڑا تھا ۔اس بات پر سرفراز آرزو صاحب نے یہ کہا تھا ، ’’ غم مت کیجیے کمال صاحب ، یہ آپریٹر بھاگے بھی ، تو آپ ہی کے گھر جائے گا ۔ ‘‘ کمال صاحب کی تحریر یوں بھی ماشااﷲ اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ میرے سوا مشکل ہی سے کوئی پڑھ سکتا ہے … اکثر،خود کمال صاحب بھی نہیں ؟کمال صاحب بہت ہی آزاد مزاج کے انسان تھے ، وہ کہیں بر کرتے تھے اور ان کی تحریروں پرآنے والی دھمکیوں کے سامنے ڈٹ جاتے تھے ، کبھی بھی حق بات سے منہ ھی ملازمت کرنے کے قائل نہیں تھے ، اکثر دو چار ماہ سے زیادہ کہیں کام نہیں کر پاتے تھے ، جب۱۹۹۱؍ روزنامہ ہندستان کو انہوں نے با قاعدہ جوائن کیا ، تو شہر میں اسی بات کے چرچے تھے کہ ’’ چند دنوں کی بات ہے ، کمال صاحب جلد ہی چھوڑ دیںگے ۔‘‘ مگر ایسا نہیں ہوا ،عبدللہ کمال اپنی زندگی کی آخری سانس تک روزنامہ ہندستان سے وابستہ رہے ، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہندستان کے ایڈیٹر سرفراز آرزو عبدللہ کمال کی تحریر اور نظریات کی قدر کرتے تھے اور ان کی تحریروں پرآنے والی دھمکیوں کے سامنے ڈٹ جاتے تھے ، کبھی بھی حق بات سے منہ نہیں موڑتے تھے ۔

روزنامہ ہندستان سے عبدللہ کمال کا بہت پرانا رشتہ ہے ۔ عبدللہ کمال اپنے آبائی وطن مظفر پور ، بہار سے جب پہلی بار ممبئی آئے ، تو سب سے پہلے انہوں نے روزنامہ ہندستان کے بانی و مدیر جناب غلام احمد خان آرزو سے ملاقات کی اور ان ہی کی مشفقانہ سرپرستی اور کوششوں سے عبدللہ کمال کا مہاراشٹر کالج میں داخلہ ہو گیا ۔ اس وقت کالج کی عمارت زیر تعمیر تھی، اسی کے ساتھ باڑی بندر پر واقع جعفر سلیمان ہوسٹل میں قیام کا انتظام ہو گیا ۔
عبدللہ کمال نے ممبئی آتے ہی مہاراشٹر کالج میں داخلہ لے لیا ، وہ فاؤنڈر بیچ کے طالب علم تھے ۔ مہاراشٹر کالج کے ’’ بزم اردو‘‘ کے پہلے جنرل سیکریٹری ہونے کا اعزاز بھی عبدللہ کمال کو ملا تھا ۔اسی کے ساتھ ممبئی کے روزنامہ اخبارات کے لیے انگریزی سے اردو ترجمہ کا کام کیا کرتے تھے ، جس سے ان کے اخراجات اور ضرورتیں پوری ہوا کرتی تھیں ۔ انہوں نے نیو سلور بک ایجنسی میں ملازمت حاصل کر لی اور پھر بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے لگے ، جسے نیو سلور بک ایجنسی شائع کیا کرتی ، ایسی تقریباً ۱۵۰ کتابیں ان کی شائع ہو چکی تھیں ، جو اس زمانے میں ۲۵؍ ۵۰؍ پیسے میں بچے شوق سے خرید کر پڑھا کرتے تھے ۔
بحیثیت صحافی عبدللہ کمال کئی اخبارات میں کام کر چکے ہیں ۔ ان کے دو کالم بہت مشہور ہوئے تھے ۔ ہفت روزہ ’’ الفتح‘‘ میں شائع ہونے والا ’’ ہمزاد ‘‘ اور ہفت روزہ ’’ اخبار عالم‘‘ میں شائع ہونے والا ’’ گستاخ قلم ‘‘ ۔ ’’گستاخ قلم ‘‘روزنامہ ہندستان میں بھی دس سال تک شائع ہوتا رہا اور اسی کے ساتھ ہندستان کے اتوار کے ایڈیشن میں ’’ دنیا مرے آگے ‘‘ بھی کافی شہرت پا چکا تھا ۔
ہفت روزہ ’’ الفتح ‘‘ اسلم کرتپوری نے جاری کیا تھا اور ہفت روزہ ’’ اخبار عالم ‘‘ مشہور صحافی خلیل زاہد کے ساتھ شراکت میں جاری کیا گیا تھا ، جسے چند ہی برسوں میں بند کرنا پڑا ۔
اس کے بعد ممبرا سے پہلا اردو کا ہفت روزہ اخبار ’’ اخبار وطن ‘‘ جاری کرنے کا اعزاز بھی عبدللہ کمال ہی کو جاتا ہے ۔’’ اخبار وطن‘‘ تکنیکی مسائل کی وجہ سے بند کرنا پڑا اور پھر ممبرا ہی سے دوسرا ہفت روزہ جاری کیا ’’ جمعہ میگزین ‘‘ جو ہر جمعہ کو منظر عام پر آتا تھا ۔ پانچ یا چھ سال کے بعد اسے بھی بند کرنا پڑا کیونکہ بقول ڈاکٹر عبدللہ کمال کے دل کا سائز بڑھنے لگا تھا۔ دل کا سائز اس قدر بڑھ گیا تھا کہ انہیں ۱۹۹۷؍سے ۲۰۱۰؍تک کل ۱۴؍ دل کے دوروں کا سامنا کرنا پڑا۔اس تعلق سے عبدللہ کمال ہی کا ایک شعر ملاحطہ ہو:

دل کو پھر درد سے آباد کیا ، کون ہے تو
اے مری روح کے رقاص بتا ،کون ہے تو

دلی سے جاری ہونے والے اخبار ہفت روزہ ’’ ہماری زبان ‘‘ میں بحیثیت مدیر کام کیا ، اسی دوران ترقی اردو بورڈ کے زیر اہتمام مرتب کی جانے والی ’’ مختصر اردو لغت ‘‘ کے جدید الفاظ کے مدیر رہے ۔ ایک ہزار صفحات پر مشتمل اے فور سائز کی اس لغت کا نام مختصر اردو لغت سن کر حیرت ہوتی ہے۔یہ لغت ۱۹۸۶ ؍ میں شائع ہوئی تھی ۔
عبدللہ کمال فلم ڈائریکٹر بننا چاہتے تھے ، انہوں نے کئی فلموں کی اسکرپٹ بھی لکھی اور دس سال تک راج کھوسلہ کے ساتھ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے ۔ اس دوران جو فلمیں ریلیز ہوئیں ، ان میں ’’ میں تلسی تیرے آنگن کی‘‘ ’’ فلم ہی فلم ‘‘ اور ’’ نقاب‘‘ ہیں ۔ ’’ فلم ہی فلم ‘‘ میں ڈائیلاگ لکھے تھےا ور ’’ نقاب ‘‘ میں عبدللہ کمال کو اسٹنٹ ڈائریکٹر کا کریڈیٹ ملا تھا، ’’ بند دروازے ‘‘ ریلیز نہیں ہو سکی ۔ ۱۰؍جون ۱۹۹۱؍ کو راج کھوسلہ کا انتقال ہو گیا اور عبدللہ کمال نے فلمی دنیا چھوڑ دی ۔
وہ اکثر مکتبہ جامعیہ کی سنیچری بیٹھکوں کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہاس وقت وہاں  اس دور کےبڑے بڑے ادیب اور شاعر بیٹھا کرتے تھے ، نوجوان ان کے آگے زانوئے ادب طے کیا کرتے تھے ، کسی کی ہمت نہیں تھی کے ان کے آگے لب کھول سکیں ۔ باقر مہدی کی عادت تھی کہ وہ انگریزی کے بڑے بڑے ادیبوں کے نام لے کر سب سے پوچھا کرتے تھے کہ فلاں کو آپ نے پڑھا ،لو گ خاموش ہو جاتے ، تو کہتے ’’پہلے انہیں پڑھیے ، اگر نہیں پڑھا ، تو کیا پڑھا ؟‘‘
ایک دن عبدللہ کمال نے باقر مہدی سے سوال کیا’’ ڈون بریڈ مین ‘‘ کو آپ نے پڑھا ۔ باقر مہدی خاموش ، پھر تھوڑی دیر میں مکتبہ جامعیہ سے اٹھ کر چلے گئے ۔ وہاں موجود دیگر لوگوں کے لب پر مسکراہٹ آ گئی ۔ باقر مہدی کئی دنوں کے بعد مکتبہ جامعیہ آئے اور عبدللہ کمال کو دیکھا ، تو دو الفاظ ان کے منہ سے نکلے ’’ کمبخت ، مردود‘‘ ایک بار باقر مہدی کی علالت کی خبر آئی وہ اپنے بستر سے اٹھ نہیں رہے تھے ، بہت سارے لوگ ان کی عیادت کو جا رہے تھے ، اسی دوران عبدللہ کمال نے ان کے لیے ایک مضمون لکھا اور ان کی عیادت کو گئے ، وہاں ان کی اجازت سے مضمون سنا دیا ، اس کے بعد باقر مہدی بستر سے اٹھے اور اپنی جوتی اٹھا کر عبدللہ کمال کو دوڑا دیا ۔عبدللہ کمال کی زندگی ایسے کئی واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔ اگر یہ سب لکھنا شروع کر دیا جائے ، تو ایک کتاب مرتب ہو جائےگی۔
روزنامہ ہندستان کے بانی و مدیر جناب غلام احمد خان آرزو کی زندگی اور حالات پر ایک کتاب مرتب کر رہے تھے ’’ غلام احمد خاں آرزو حیات و خدمات ‘‘ وہ ادھوری رہ گئی ، جسے بعد میں مکمل کرنے کا شرف مجھے حاصل ہوا ، جو ابھی زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکی ۔
افسانہ نگاری بھی اسی دوران شروع کر دی ، تنقیدی مضامین بھی لکھنے لگے مگر شاعری سے ان کا لگاؤ بڑھنے لگا اور ۱۹۷۶؍ میں کا پہلا شعری مجموعہ ’’ میں ‘‘ منظر عام پر آ گیا ۔
پہلے مجموعہ کلام ’’ میں ‘‘ میں غزل اور نظم کا تناسب برابر ہے ۔ دونوں اصناف میں سے کسی ایک پر بھی انگلی رکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سے کس کو زیادہ نمبر دیا جائے ۔ خود کمال صاحب غزل کے ساتھ نظم کی اہمیت کے قایل تھے ، مگر غزل سے جو انہیں دلی لگاؤ اور عقیدت تھی ، وہ شاید نظم سے نہیں اور اس میں قطعی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ خود غزل بھی عبداﷲ کمال کے مزاج سے قریب ہے ۔ عبداﷲ کمال غزل کو جس وارفتگی کے ساتھ جیتے رہے ، وہ انہی کا حصہ ہے …اس تعلق سے عبدللہ کمال ہی کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

آج بھی پورے جی جان سے جی رہاہوں تجھے
لکھ رہاہوں لہو سے رجز اور رمل ، اے غزل
اے غزل ، تو عروسِ سخن ،تیرا نوشاہ میں
کوئی تیرا بدل اور نہ میرا بدل ، اے غزل

شاید اسی لیےان کے دوسرے شعری مجموع ’’ بے آسماں ‘‘ میں صرف غزلوں کو جگہ دی گئی ہے ؟
غزل … جسے اساتذہ نے محبوب سے ہم کلام ہونے کا مفہوم دیا تھا اور محض حسن و عشق کی معاملات بندی تک ہی محدودرکھا تھا ۔ یہاں تک کہ غالبؔ جیسے شاعر نے بھی اپنے بیان کی وسعت کے لیے غزل کے دامن کو تنگ جاناتھا ۔ یہ اور بات ہے کہ غالبؔکی شہرت و عظمت غزل ہی کے کندھوں پر دھری ہوئی ہے ۔چنانچہ ،آج غزل صرف شاعری نہیں ، زندگی بن گئی ہے ۔
غزل جینا ، بظاہر ایک نئی اور اجنبی اصطلاح ہے ، جسے اردو ادب کے لیے بلا شبہ عبداﷲ کمال کی عطا کہا جا سکتا ہے ، جس کا یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ غزل عبداﷲ کمال کے لیے زندگی کی طرح ہے ۔ یعنی جس طرح زندگی جینا آسان نہیں ،اسی طرح غزل کہنا بھی دشوار ہے۔ عبداﷲ کمال کے نزدیک جو زندگی کاقانون ہے ، وہی شاعری کی بوطیقا بھی ہے ۔
عبداﷲ کمال کی شاعری کے ہزاروں لاکھوں قاری اور سامع ہو سکتے ہیں ، لیکن ان کی زندگی کی واحد قاری میں ہوں اور جس طرح عبداﷲ کمال غزل یا شاعری جیتے رہے ، اسی طرح میں عبداﷲ کمال کو جیتی رہی ۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ جس طرح غزل جینا ایک مشکل عمل ہے ، اس سے کہیں زیادہ مشکل عبداﷲ کمال کو جینے کا عمل ہے۔ وہ اپنی غزل ہی کی طرح سخت ،دشوار اور پیچیدہ تھے ۔ دیکھیے ، خود عبداﷲ کمال اپنا اور غزل کا تقابل کس طرح کرتے ہیں …

ہم بھی ہیں سخت جان غزل کی طرح کمالؔ
بس ،ان دنوں ذرا سی طبیعت رواں نہیں
تو بھی غزل جی سکے ، جھیل سکے کرب ِذات
تو بھی سمجھ لے اگر میرے لہو کی زباں
اٹھا نہ دیر تک احسان موسمِ گل کا
میں زندگی ہوں ، مجھے جی ، مرے عذاب میں آ

 

’’میں ‘‘ سے ’’بے آسماں ‘‘ تک عبداﷲ کمال کی غزل کا ایک شعر بھی زندگی سے خالی نہیں ۔ ان کے یہاں غزل اور زندگی اس طرح مربوط و ہم رشتہ ہیں کہ دونوں میں تفریق کرنا مشکل ہے ۔ یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کہ غزل عبداﷲ کمال کے آگے خود سپردگی کر رہی ہے یا عبداﷲ کمال غزل کے آگے؟ملاحظہ ہو …

میں نے جی ہے غزل ، لکھا کیا ہے
زندگی کا یہ تجرِبہ کیا ہے
ایک اک شعر میں بسر ہونا
خرچ ہونا ، یہ حوصلہ کیا ہے
ذات ہے میری یا کہ زخم ساکچھ
پسِ اظہار ، خوں شدہ کیا ہے
یہ زماں اور مکاں ہیں مرے اور ترے درمیاں
میں ظہورِ ابد ، تو نمودِ ازل ، اے غزل
اسے لکھتے نہیں ہیں ، جیتے ہیں
روز مرہ ہے ، زندگی ہے غزل

ممتاز نقاد جناب کلیم الدین احمد نے غزل کو ’’ نیم وحشی صنفِ سخن ‘‘ کہا ، تو برِ صغیر کے نقادانِ فن لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑ گئے۔ آج بھی غزل کے تعلق سے کوئی مضمون لکھا جاتا ہے ، تو کلیم الدین احمد کے اس تبصرے کو رد کر نا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ عبداﷲ کمال ان نقادوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں …
’’ کلیم صاحب نے غزل کو نیم وحشی کہہ کر رعایت برتی ہے ، ورنہ غزل تو ایک مکمل وحشی صنفِ سخن ہے … میر ؔ سے غالب ؔ تک جن جن شاعروں نے اسے مسخر کیا ہے ، انہیں شاعر سے زیادہ رنگ ماسٹر کہنا مناسب ہے … غالبؔ نے غزل کو غزالِ رعنا کبھی نہیں سمجھا ۔ غزل اس کے لیے ہمیشہ سرکش اور وحشی رہی اور اس نے ایک با کمال رنگ ماسٹر کی طرح اس وحشی کو اپنی مہارتِ فن اور چابک دستی سے رام کر کے تابع فرمان ( نیم وحشی ) کر لیا ۔یہی غزل کی معراج ہے ۔ اگر اس کی وحشت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ،تو پھر وہ غزل کی بجائے کوئی ویجیٹیرین صنف ہو کر رہ جاتی اور ادب کا ہر برہمن غزل کا دعویدار ، بلکہ غزل پر سوار نظر آتا ۔ ‘‘( ملاحظہ ہو پیش لفظ ’’ بے آسماں‘‘ ) غالباً اسی لیے مشہور محقق و شاعر کالی داس گپتا رضا نے عبداﷲ کمال کو ’’ وحشی غزل کا نیا رنگ ماسٹر ‘‘ کہا تھا ۔( ملاحظہ ہو ’’ عبداﷲ کمال … وحشی غزل کا نیا رنگ ماسٹر ‘‘ ’’اِثبات و نفی ‘‘ شمارہ : ۱ جنوری ؍ مارچ ۱۹۹۷ء )۔
عبداﷲ کمال غزل کو نیم وحشی نہیں ، روح کی مہذب طلب قرار دیتے ہیں ۔ملاحظہ ہو …


تو مہذب طلب روح کی ، نیم وحشی سہی
دشتِ جاں سے نکل ، میرے لب پر پگھل ، اے غزل

کسی زمانے میں عبداﷲ کمال کے تعلق سے یہ مشہور کر دیا گیا تھا کہ وہ ملحد ہیں ۔ خدا اور مذہب میں یقین نہیں رکھتے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی تھی ۔ ایک سوچتے ذہن کے فنکار کے اوپر اثبات و نفی کی کیفیت طاری ہوتی رہتی ہے ۔مثال کے طور پر ’’ میں ‘‘ کے دور کی شاعری میں کہیں کہیں اس کا عکس نظر آتا ہے …

بلندیوں کے دھندلکے میں تھا ، خدا سا لگا
جو میں قریب سے گزرا ، تو وہ شناسا لگا
حصار کھینچ لوں اک روز خود ہی اس حد پر
کہ اس کے بعد مرے سامنے خدا بھی نہیں
کچھ سازشیں ؍یعنی خدا
سب جھوٹ ہے ؍میرے سوا
لیکن یہ کیفیت زیادہ دنوں تک نہیں رہی اور جلد ہی وہ اس دورِ الحاد سے واپس آ گئے …
شدتِ نفی نے بیدار کیا مجھ کو
دشتِ انکار میں دیکھا کہ خدا کیا ہے

…اور پھرتو ایسا ہوا کہ جیسے عبداﷲ کمال نے غزل کی طرح خدا کو بھی اپنے وجود کا حصہ بنا لیا اور ان کی سوچ خدا بنیاد ہو کر رہ گئی ۔خدا نے قرآن میں جگہ جگہ سوچ و فکر کی ہدایت کی ہے ۔ چنانچہ ، ’’ بے آسماں ‘‘ کی شاعری میں خدا جگہ جگہ روشن ہے ۔ شاید یہ قلبِ ماہیت ترقی پسندوں کے ساتھ تصادم میں ہوئی ہو ۔ چنانچہ ، ’’ بے آسماں ‘‘ کے پیش لفظ میں عبداﷲ کمال ایک جگہ لکھتے ہیں …
’’ میں کوئی فناٹک نہیں ہوں ۔کسی بھی ذہنی تحفظ یا مشروطیت کے بغیر خدا اور مذہب پر مکمل ایمان و ایقان رکھتا ہوں ۔البتہ ، اتنا ضرور ہے کہ میرا خدا خوف نہیں ، محبت ہے … اور میں محبت میں جنون کا قایل ہوں ۔ چنانچہ ، خدا کے ساتھ دیوانہ ہو جانا مجھ پسند ہے …


کلیجہ چاہیے تنکیرِ بطل کرتے ہوئے
مگر یہ حوصلہ ہاں کو نہیں سے ملتا ہے
اک عمر یوں تو ہم نے نہیں میں گزار دی
اک بار ہاں جو کی ، تو نہیں کے نہیں رہے
ڈبوتا ہے وہ میرے دل کو بحرِ غم میں جب ، میں بھی
اسی کے نام کو دل کے لیے لنگر بناتا ہوں
سارے جھوٹے خداؤں سے انکار ہے ، تیرا اقرار ہے
میرا ایقان ، جو ردِ اوہام ہے ، وہ ترا نام ہے
ان دنوں زندگی سخت دشوار ہے ،سانس تلوار ہے
پھر بھی دل کو مرے جس سے آرام ہے ، وہ ترا نام ہے


جیسا کہ عرض کیا گیا ، عبداﷲ کمال کے لیے غزل مکملیت کا استعارہ ہے ۔وہ غزل کے انتہائی اوجِ پرواز کے ساتھ مقامِ محمود کی ان بلندیوں کو چھوتے ہیں ، جہاں عبودیت ،ابدیت او رسرمدیت سے ہم آ ہنگ ہوتی ہے اور شانِ بندگی کا ایک انوکھا رنگ الہٰیت کے رنگ سے سرشار ہو کر سامنے آتا ہے ، جو عجز و ایقان کا خوبصورت آمیزہ اور جنون و عشق کا ازلی پیکر ہوتا ہے اور بار بار درِ دل پر دستک دیتا ہے …
ذات میری ترا حسنِ تمثیل ہے ، تجھ سے تکمیل ہے
اے خدا ، جس سے مشتق مرا نام ہے ، وہ ترا نام ہے
تو غزل ہے مری اور تو ہی مرا حسنِ ردیف
روزِ محشر بھی مرا حرفِ مکرر تو ہے
اب ازل اور ابد میرے دل کے نشانے پہ ہیں
میرا مفہومِ وسعت کھلا دل کے سایے تلے
لا مکاں کی پراسرار دستک مکاں پر ہوئی
آ گئے آدمی اور خدا دل کے سایے تلے

اس قلبِ ماہیت کے بعد عبداﷲ کمال کی شاعری میں جو تبدیلی آئی ،اس پر الٰہی نور غالب ہے ۔ چنانچہ ، جب وہ خدا کے حوالے سے ’میں ‘کا اعلان کرتے ہیں ، تو کچھ لوگوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ عبداﷲ کمال انا کا شکار ہیں … ڈاکٹر ظ۔ انصاری نے ’’ میں ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے عبداﷲ کمال کو انانیت پسند قرار دیا تھا ۔انہوں نے ہی نہیں بلکہ بیشتر ترقی پسند نقادو ں کو ’’ میں ‘‘ نوکِ نیزہ کی طرح چبھا تھا ۔ ڈاکٹر ظ۔ انصاری نے اپنے غم و غصے کا اظہار کھل کر کیا تھا ۔ ( ملاحظہ ہو’’ کتاب شناسی ‘‘)
عبداﷲ کمال اپنی انا کی وضاحت کرتے ہوئے’’ بے آسماں‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں ۔
’’ میں ‘‘ محض فرد کی اہمیت اور احترام کا اظہار ہے ، لیکن اس کے ڈانڈے میری ذات یا انا کے منفی پہلو سے ملا دیے گئے ۔ا س لیے اس کی تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے … انا کے تعلق سے میرا اپنا ایک معروضہ ہے …میں انا کو جوہرِ تخلیق کا ایک ناگزیر حصہ سمجھتا ہوں کہ انا ہی قوتِ تخلیق بہم پہنچاتی ہے ۔ بالخصوص ایک تخلیقی فنکار کے لیے انا اتنی ہی ضروری ہے ،جتنی ایک سانپ کے لیے اس کی ریڑھ کی ہڈیوں کا زہر ۔ اگر سانپ کی ریڑھ کی ہڈیوں میں زہر نہیں ، تو وہ سانپ نہیں ، زمین پر رینگنے والا بے ضرر کیچوا کہلائے گا ۔ اسی طرح جس فنکار کے یہاں انا نہ ہو ،وہ فنکار نہیں ، ایک بے ضرر سا غیر تخلیقی نا جنس کہلائے گا ، جو نہ تو رگِ یزداں میں چبھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اور نہ ہی رگِ انساں میں ۔ ‘‘( پیش لفظ’’ بے آسماں ‘‘)
اس تعلق سے عبدللہ کمال کے چند اشعار ملاحظہ ہوں :

بہت سنبھال کے رکھی ہے میں نے اپنی صلیب
کہ میری ذات کی پہچان ہے انا اب تک
انہیں غرورِ انا سے نجات دے یارب
جو تیرے فیضِ کرم سے تباہی مانگتے ہیں
تجھ سے قایم ہے میری کج کلاہی بھی
مجھ کو یا رب ، غرور تیرا ہے
تو ہی چھلکے وجود سے میرے
سب نشہ اور سرور تیرا ہے

 


عبدللہ کمال اپنی غزلوں میں شہر ممبئی کے دوستو کا تذکرہ کس طرح کرتے ہیں ، ملاحظہ ہو :
ترے غم میںآخر بسر ہو گئے
تیرے منتظِر ، منتظَر ہو گئے
میرے ایسے آئے کئی شہسوار
اڑی دھول رخت سفر ہو گئے
ملیں کیا رفیقان پارینہ سے
نہ تھے ممبئی سے، مگر ہو گئے
ہیں گوشہ نشیں قیصرالجعفریؔ
’’چراغ حرا ‘‘ میں بسر ہو گئے
وہ شب گردوں کا رفیق ، ارتضیٰؔ
غروب اس کے شام و سحر ہو گئے
غزل در بغل سے تھے نعمان امامؔ
قصیدے میں صرف ہنر ہو گئے
بہت دور رہتے ہیں سوز ؔاور سازؔ
بہت دن ملاقات کر ہو گئے
ہوئے خان ارمان بے انقلاب
الہٰ آباد جا کے ظفرؔ ہو گئے
کئی سال بعد آئے طارق سعیدؔ
اور آتے ہی پھر بے خبر ہو گئے
شمیم ؔ اور فاروقؔ ملتے نہیں
نہ تھے دور اس طرح پر ہو گئے
نکلتے ہیں کم گھر سے اعجازؔ بھی
کلیم اپنے اندر شرر ؔہو گئے
نئے شاعروں میں ہیں عرفانؔ ایک
غزل کہہ کے کچھ معتبر ہو گئے
نہ اب دل پہ لیتے ہیں ہم کچھ کمالؔ
بہت ڈر رہے تھے ، نڈر ہو گئے
عبداﷲ کمال کی بیشتر غزلیں مختلف اسپتالوں کے بسترِ علالت پر ہوئیں ، جو حیرت انگیز طور پر صحت مند و توانا نظر آتی ہیں ۔
عبداﷲ کمال ۱۹۹۷ ؍سے ۲۰۱۰ ؍تک تک دل کے ۱۴؍وروں کو جھیل چکے تھے۔پہلے دورے کے موقع پر نائر اسپتال میں جو غزلیں ہوئیں ان کے چند شعر ملاحظہ ہوں …
دل سے تھا درد کا سلسلہ ، دل کے سائے تلے
مجھ پہ ہوتا رہا تجربہ ، دل کے سائے تلے
رقصِ خوں تیز ہوتا رہا ، شب گئے اور میں
روح کے گیت سنتا رہا ، دل کے سائے تلے
اب ازل اور ابد میرے دل کے نشانے پہ ہیں
میرا مفہومِ وسعت کھلا، دل کے سائے تلے
لا مکاں کی پر اسرا دستک مکاں پر ہوئی
آ گئے آدمی اور خدا ، دل کے سائے تلے
مرگِ خوش رنگ نہیں ، خوشبوئے قاتل بھی نہیں
کیوں دیا آہوئے وحشی کا پتہ ، کون ہے تو
اسی طرح آنکھ کے آپریشن سے پہلے کی غزل سے یہ اشعار …
عقدۂ نور چشمِ گنہگار پرکھول دے
اے خدا ، دل زدوں پر یہ بندِ نظر کھول دے
اے خدا ، حسن کو میری آنکھوں سے اوجھل نہ کر
تتلیوں کے لیے یہ چمن رہ گزر کھول دے
میری آنکھوں کی ہے منتظر اک نئی روشنی
اے خدا ، رامش و رنگ بھی آنکھ بھر کھول دے
اسی طرح آنکھ کے آپریشن کے بعد کی غزل سے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں …
نئے بابِ فتح و ظفر کھول دے
مری کشتیوں پر سفر کھول دے
زمیں کی ہے پازیب ، جنگل تمام
زمیں اپنی پازیب ، گر کھول دے
بہت سنگ سر ہے کمالؔ اے خدا
کبھی اس کے سر میں بھی سر کھول دے
تصور کیجیے ،جنگل کو زمین کی پازیب قرار دینے کا منظر کتنا خوبصورت نظر آتا ہے ، لیکن دوسرا مصرعہ پڑھنے کے بعد ایک ہیبت طاری ہو جاتی ہے …زمیں اپنی پازیب گر کھول دے …؟
عبداﷲ کمال کی شاعری میں دل کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور وہ درد کو عبودیت کا جزوِ اعظم سمجھتے ہیں ۔ان کے یہاں در د و غم سے خالی دل کا کوئی تصور ہی نہیں …
سلسلہ دل کا تھا ، میں نے درد سے جوڑا اسے
درد کے رشتے سے عالم گیر ہونا تھا مجھے
دل کی گہرائیوں میں رہتی ہے
درد نیزہ ہے اور انی ہے غزل
عبداﷲ کمال بچوں سے بہت پیار کرتے تھے ۔وہ بچوں کو سچائی اور معصومیت کا استعارہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ انسان کے اندر جب تک بچہ زندہ ہے ، انسان زندہ ہے، سچ زندہ ہے ۔یعنی انسانیت زندہ ہے ۔ ان کی شاعری میں جگہ جگہ اس کا اظہار ملتا ہے…
تاشی، رومی، سعدی، طوبیٰ میں جیتا ہوں، یعنی
میں خود کو دوہراتا ہوں اپنے بچوں کے اندر
جنت سے اک چڑیا آئی
اپنا نام بتائے یسرا
ایک ننھی پری ، نام تمثیل ہے
چاند تاروں بھری اس کی زنبیل ہے
گھر میں اک ننھا سا مرد اور بھی ہے
حرفِ اظہار عجب ہے اس کا
اپنے بچوں کو کس دنیا میں لے جاؤں
میری آنکھوں میں کس دنیا کا نقشہ ہے
علی ،وجدان دو آنکھیں ہیں میری
اور ان آنکھوں میں سارے خواب میرے
میں اپنے چاند ستاروں کو ڈھونڈتا ہوں کمالؔ
کہ پھر سے اپنا بجھا آسمان چمکاؤں
’’بچوں کی دنیا ‘‘کے عنوان سے کمال صاحب نے ایک خوبصورت منظوم اسکٹ بھی لکھی ہے ، جس میں ہر عمر کے بچوں کے حوالے سے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
میری روٹھی گڑیا سی ہے؍ دنیا چاند کی بڑھیا سی ہے
سپنوں کے شہزادے جیسی ؍ دنیا جھوٹے وعدے جیسی
ممی کی بک بک ہے دنیا ؍ اب تو پپا تک ہے دنیا
میرے پپا تک ہے دنیا

عبدللہ کمال نے عشق بھی کیا ہے ، بلکہ عشق ہی کیا ہے ، اس تعلق سے ملاحظہ ہو عبدللہ کمال کے دوسرے شعری مجموعہ سے ایک اقتباس:
’’ میں عشق بھی کرتا ہوں ، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ میں عشق ہی کرتا ہوں ۔۔۔مگر میرا عشق مابعد الطبعیاتی نہیں ، خالص زمینی ہے … میرا معشوق ماورائی نہیں ، اس کے خمیر میں اسی زمین کی مٹی سانس لیتی ہے… میں نے جوئے شیر تو نہیں نکالی ، مگر ہمیشہ تیشہ بدست رہا ہوں اور خسرو کے دام، فریب کو کاٹ کر فرہاد کی حسر ت نا یافت کا ازالہ کیا ہے… میں نے شیریں کو حاصل کر لیا ہے اور اب کوہ ِ بے ستوں کاٹ رہا ہوں ۔ میں عشق کرتا ہوں اور اس کے سارے عذاب و خواب سے جوجھتا ہوں ۔۔۔ کی تمام مسرتوں اور اذیتوں سے گزرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ… عشق بن یہ ادب نہیں آتا …
میرے عشق کا کینواس میری غزل اور میری زندگی ہی کی طرح بہت وسیع ہے ۔ میرا عشق میری غزل اور میری زندگی … تینوں ، تین متوازی لکیریں بناتے ہیں ، آپس میں ضم اور مد غم ہوتے ، ایک ہی سمت میں سفر کرتے ہیں … ان کا نقطۂ ارتکاز ایک ہی ہوتا ہے ۔میرا دل … ‘‘ ( پیش لفظ ، بے آسماں ، صفحہ ۲۹)
واقعی عبدللہ کمال نے عشق کیا ہے ، ان کا اولین شعری مجموعہ’’میں ‘‘ کا انتساب’’استحالہ‘‘ اپنی معشوقہ زرین تاجؔ کے نام ہے۔ملاحظہ ہو:

زریں …
’’میں ‘‘تمہارے نام!
تمہارے بعد جو بچتا ہے ،
وہ، میں ہوں
تمہارے بعد
(لیکن)
’’کون‘‘ بچتا ہے !!

یہ بھی سچ ہے ، عبدللہ کمال نے کہا ، ’’ لیکن تمہارے بعد بچتا کون ہے؟‘‘ زرین سے چند دنوں کی دوری نے عبدللہ کمال کو پوری طرح اندر سے توڑ دیا تھا ، وہ جدائی کے اس درد کو اپنی شاعری میں ڈھالتے رہے ، اسی دوران ۱۹۹۷؍ میں انہیں دل کا شدید دورا پڑا ، اس کے بعد گویا دل کے دوروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔استحالہ کے لغوی معنی ہوتے ہیں ، حالت کا بدلنا ، شکل و صورت اور خاصیت کا بدلنا ، سو وہ تبدیلی محسوس کی گئی ، عبدللہ کمال میں ۔
دل کے دورے سے قبل جولائی ۱۹۹۷ میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’ بے آسماں‘‘منظر عام پر آیا ، جس کا انتساب ان کی دوسری معشوقہ کے نام تھا ۔ بے آسماں کے پیش لفظ میں وہ اپنے عشق اور معشوق کا تذکرہ کر چکے ہیں ۔
انتساب :
شیریں کے نام

سخن برجستہ تم سے ، حدیث بر محل تم
بیاض دل میں میری ، کوئی تازہ غزل تم
کہ شہزادہ کمال اب کہیں تنہا نہیں ہے
کہیں ہو جنگ اس کی ، رجز تم ہو، طبل تم

طلب شیریں ہے اب تک ، جسارت کوہ کن ہے
میں جوئے شیر لاؤں ، میرے تیشے کا بل تم

درج بالا شعر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ شیریں کی طلب ابھی باقی ہے ، اس لیے کوہ کنی کی جسارت بھی ابھی باقی ہے ۔ دراصل عبدللہ کمال پوری طرح غزل ہی کے عاشق رہے اور غزل ان کی معشوقہ ۔
درج بالا ، دو کتابوں کے انتساب ہیں ، یہاں بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ شیریں ، غزل کا استعارہ ہے اور عبدللہ کمال نے اپنے عشق کو غزل کے لیے ہی مخصوص کر دیا ۔ عبدللہ کمال کی بڑی خواہش تھی کہ ان کا تیسرا شعری مجموعہ بھی منظر عام پر آئے ، مگر ایسا نہیں ہو سکا ۔ ان کے انتقال کے بعد تیسرا شعری مجموعے کی اشاعت کی ذمہ داری کو میں نے محسوس کیا اور جتنی غزلیں غیر مطبوعہ تھیں وہ سب شامل کر لیں ، ’’ شب کی دیوار میں روزن‘‘ منظر عام پر آ گیا ، میں نے اس کتاب کا انتساب ان کی اصل معشوقہ غزل کے نام کر دیا ہے ، ملاحظہ ہو عبدللہ کمال ہی کی غزل ، ’’ غزل کے نام ‘‘۔

جانتا ہوں ترے عشق کا ما حصل، اے غزل
یا فنا فی الغزل یا بقا فی الغزل ،اے غزل
تو مہذب طلب روح کی ، ’’ نیم وحشی ‘‘ سہی
دشت جاں سے نکل ، میرے لب پر پگھل ، اے غزل
اے غزل ، تو عروس سخن ، تیرا نوشاہ میں
کوئی تیرا بدل اور نہ میرا بدل ، اے غزل
اب سخن دست ناجنساں ،بردہ فروشاں میں ہے
ان سے بچ کے نکل ، آ میرے ساتھ چل ، اے غزل

اتنی بھر پور شاعری کرنے کے باوجود عبداﷲ کمال خود کو شاعر نہیں مانتے تھے۔ اس کی وجہ ان کے اشعار ہی سے دریافت کی جا سکتی ہے ۔ ملاحظہ ہو …

مجھے شاعر نہ سمجھو
میں شاعر سے بڑا ہوں
غزل لکھتا نہیں میں
غزل میں جی رہا ہوں

مگر دل کے متعدد دوروں کے بعد شاید وہ درد کی زیادہ میزبانی کرنا مناسب نہیں سمجھتے …؟ کہتے ہیں …

درد سے کہہ دو ، بہت دیر نہ ٹھہرے دل میں
اب یہاں اور مدارات نہیں ہو سکتی
اور پھر … اس کے بعد واقعی کمال صاحب نے درد کو دل میں ٹھہرنے نہیں دیا …اپنے دل کے دروازے بند کر دیے … صرف درد کے لیے نہیں ہم سب کے لیے !
آخر میں عبداﷲ کمال کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
کسی بچے کے ہاتھوں کا غبارہ تھے ہم
بہت دکھ ہے ، پلٹ کر اب نہیں آئیں گے
٭٭

شیریں دلوی

 

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com