ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے سربراہ عبدالرحمن ونو’’ کے عزائم

 ہند فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدلرحمٰن ونو زندگی کے مختلف شعبوں میں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کی خدمت بھی کر رہے ہیں ، ان کا یہی جذبہ انہیں سب سے مختلف مقام عطا کرتا ہے 

عبدلرحمن ونو ’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے فاؤنڈر چیرمین ہیں اور اس تنظیم کے تحت گزشتہ کئی برسوں سے تعلیم، علم و ادب ، سیاست ، صحت ، ماحولیات اورکئی محاذ پر جذبۂ حب الوطنی کے تحت کا م کر رہےہیں ۔ممبئی اور مضافات میں لوگ اس تنظیم کے نام سے واقف ہیں ۔ کیونکہ کئی تعلیمی اداروں کی ترقی اور کامیابی میں عبدلرحمن ونو کا مالی تعاون شامل رہا ہے ۔ کئی طلبا اس تنظیم سے رہنمائی اور اسکول و کالج کی فیس حاصل کرتے ہیں ۔
اچھی کتابوں کی اشاعت ’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے شعبۂ نشر و اشاعت نے کی ہے اور اسے مفت تقسیم کروایا ہے ۔

 

مشہور فکشن نگار رحمن عباس کی کے نئے ناول ’’ روحزن ‘‘ اجرا کرتے ہوئے’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘نے ملک کی مختلف لائبریریوں اور کالجوں کے لیے مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ سندیپ واسلیکر کی کتاب کا اردو ترجمہ ’’ ایک سمت کی تلاش ‘‘ کو بھی ہند فاؤأنڈیشن نے مفت فتقسیم کروایا اور ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ کی کتاب کا اردو ترجمہ ’’ تلاش انسان کی ‘‘کی اشاعت کروا کے تمام قارئین کے لیے مفت حاصل کرنے کے لیے اعلان کروا دیا ، جس کی ایک ہزار کاپیاں تقسیم ہو چکی ہیں ۔
یو پی ایس سی اور آئی اے ایس کے طلبا کو رہنمائی اور رہائش بھی فراہم کرتے ہیں ۔

ہمارے ملک کے کسان بارش کی بے اعتدالی اور پانی کی قلت سے پریشان ہیں ، ان کی پریشانی کو دور کرنے کے لیے ’’ کلاؤڈ سیڈنگ ‘‘ کے لیے سائنسداں کے ساتھ مل کر شکر سے چلنے والے ایسے راکٹ ایجاد کروائے ، جس سے اپنی ضرورت کے مطابق مختلف علاقوں میں بارش کروائی جا سکے ۔
ہر سال یوم جمہوریہ اوریوم آزادی کے موقع پر جشن کا اہتمام کرواتے ہیں اور طلبا و طالبات کو انعامات سے نوازتے ہیں ۔
ممبئی شہر کو صاف ستھر ا رکھنے کے لیے کچرا ختم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں ، جس میں مختلف سوسائٹی کو گاربیج کرشنگ مشین رکھنے کا مشورہ دیا اور سوکھے اور گیلے کچرے کو علاحدہ کر کے اسے ری سائیکل کرنے کے مشورے دیے ، جس کے لیے ’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کی ٹیم گھر گھر اور مختلف سوسائٹی میں جا کر لوگوں میں بیداری پیدا کر رہی ہے ۔
’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے ذریعے مریضوں کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے ، صحت عامہ کے لیے مختلف میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ۔
اسپورٹس پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے ، ’’ حنان کرکٹ کلب ‘‘ بھی عبدلرحمن ونو ہی کا قایم کردہ ادرہ ہے ۔ دوہا ، قطر اور خلیجی ممالک میں بر سر روزگار نوجوان اس کرکٹ کلب میں شامل ہو کر کھیل کے میدان میں اپنے جوہر دکھاتے ہیں۔
’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ اور حکومت کے اشتراک سے کوکن میں ایکو ٹورازم کا خواب دیکھا ہے ، جسے وہ بہت جلد حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں ، جس سے اہل کوکن کو روزگار کے ذرائع فراہم ہوں گے اور کوکن کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی ۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے میں یقین رکھتے ہیں ۔
شہر میں جگہ جگہ پودے لگانے کی مہم بھی ہند فاؤنڈیشن کی جاری ہے ، مختلف مقامات پر پودے لگائے جاتے ہیں اور ان خاص خیال بھی رکھا جاتا ہے۔

ان کی مختلف مصروفیات کی تصویریں لمحوں کو یادگار بناتی ہیں ۔

 

’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے بانی و چیئر مین عبدالرحمن ونو کا تعلق کوکن سے ہے ۔ ان کے والد عبدالغفور ونو مجاہد آزادی تھے ۔آزادی کے بعد جب ملک تقسیم ہوا اور فسادات پھوٹ پڑے ، اسی لمحے ایک خاتون نے اسپتال میں اپنے پہلے بیٹے کو جنم دیا اور وہ دن ڈھلنے تک شوہر کا انتظار کرتی رہی ، مگر اسے علم نہیں تھا کہ اس کا شوہر فسادات میں زخمی ہونے والوں کو مختلف اسپتالوں میں پہنچا رہا ہے ، زخمیوں کی مدد کر رہا ہے ، بے سہارا خواتین اور بچوں کو ریلف کیمپ تک پہنچا رہا ہے ، جب شام ڈھل گئی اور رات گہری ہونے لگی ، تو مجاہد آزادی عبدالغفور ونو کو اس بات کا خیال آیا کہ شریک حیات حفیظہ ونو سے ان ملاقات نہیں ہو سکی اور وہ اسپتال پہنچے ، جہاں ان کی شریک حیات کی گود میں ان کا بیٹا بھی انتظار کر رہا تھا ، اس بیٹے کا نام انہوں نے عبدالجلیل رکھا ۔ عبدالغفور ونو کے کل چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ، جن میں انہوں نے چھوٹے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھا ۔ عبدالرحمن ، چونکہ والد سے بہت متاثر تھے ، انہوں نے والد کی انگلی تھام کر چلنا سیکھا ، تو انہیں کے نقش قدم پر چلتے رہے ۔
ایک مجاہد آزادی کے دل میں حب الوطنی کا جو جذبہ ہوتا ہے ، وہی جذبہ عبدالرحمن ونو کو ورثے میں ملا ہے ۔
عبدالرحمن ونو ملک کی مٹی سے ہمیشہ وابستہ رہے ، ساتھ ہی تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہااور ایم بی اے کر لیا۔
انہوں نے ’’ حنان کرکٹ کلب‘‘ قایم کیا ، جس کی رکارڈ توڑ کامیابی کا سبھی اعتراف کرتے ہیں ، کہ ۵۰؍ میں سے ۴۸؍ٹورنامنٹ میں فتح حاصل کر کے ٹرافی لے آئے ۔ اسپورٹس کا شوق انہیں بچپن ہی سے تھا ۔ وہ طالب علمی زمانے سے اسپورٹس میں حصہ لیا کرتے تھے ، ان کے اسی شوق نے بچپن ہی میں ان کا دامن فتح کی ٹرافیوں سے بھر دیا ۔ ۷۸؍۱۹۷۷؍فٹ بال ٹورنامنٹ میں ٹیم کی چمپین کے حیثیت سے شریک تھے ، رمضان کا مہینہ تھااور ۱۰۲؍ڈگری بخار مگر حوصلہ اور شوق اس قدر حاوی تھا کہ میچ میں فتح حاصل کر لی اور کامیابی کی ایک اور ٹرافی اپنے ساتھ لے آئے۔ ونو صاحب کا کہنا ہے کہ صحت مند معاشرے کے لیے صحت منداور چست جسم کے ساتھ ساتھ صحت مند ذہن کی بھی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا ، جب اچھی غذا، اچھی تعلیم ور اچھی سوچ ہوگی ۔ اس کے لیے ملک کی عوام کی بنیادی ضرورت روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ ،تعلیمی و طبی سہولت بہت اہم ہے۔

 

قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس کا درس دیتے ہیں ۔ اس کی مثال اس طرح بھی دی جاسکتی ہے ، ممبئی میں وہ جہاں رہتے ہیں ،اس سوسائٹی میں وہ تنہا مسلم ہیں ، مگر سوسائٹی کے تمام ممبر ان کا احترام کرتے ہیں اور وہ بھی دل سے سب کا احترام کرتے ہیں ۔ وہ اپنی سوسائٹی میں ہر سال یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر جشن کا اہتمام کرتے ہیں ، ترنگا لہراتے ہیں ، ہولی اور دیوالی کے موقع پر اپنے پڑوسیوں کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور عید پر سب کو مدعو کرتے ہیں ۔ گزشتہ کئی برسوں سے عبدالرحمن ونو نے ریاست میں پانی کی قلت کے پیش نظر بغیر پانی کی ہولی کا اہتمام کیا تھا ، جس میں انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ صرف رنگوں سے ہولی کھیل کر یہ پیغام دیا تھا کہ رنگ زندگی کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں ، انسانی زندگی کے ہر پہلو میں اچھے رنگ ہونا چاہیے ۔
عبدالرحمن ونو کو ہمیشہ ملک کی ترقی ، نوجوانوں کی اعلا تعلیم اور روزگار کی فکر رہتی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام عوام تعلیم یافتہ اور بر سر روزگار ہوں گے ، تب ہی ملک ترقی کر سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ عبدلرحمن ونو مختلف تعلیمی اداروں کی مالی اعانت کرتے ہیں اور طالب علموں کی رہنمائی و مدد بھی کرتے ہیں ۔
ملک کی ترقی کی لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی بے حد ضروری ہے ۔ اسی خیال سے انہوں نے آٹھ سال قبل ’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ نامی ادارہ قایم کیا ۔ اس ادارے کا مقصد ہے ملک کے عوام کو سرکاری سطح پر دی جانے والی تعلیمی اور طبی مراعات کو حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے ۔ تاکہ حکومت کی پالیسوں پر عمل ہو سکے اور ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکے ۔ آزادی کے بعد سے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور مہنگائی کے ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے ، اس مشکل پر قابو پانے کے لیے ہر وہ شخص سوچتا ہے ، جس کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ ہو ۔ اسی لیے عبدالرحمن ونو نہ صرف سوچتے ہیں ، بلکہ عمل بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں ، حالات کو بہتر بنانے کے لیے عزم و عمل کے ساتھ ساتھ طاقت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے علم ۔ وہی ملک تیزی سے ترقی کرتا ہے ، جہاں کے عوام اعلا تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ علم ہی سے یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ خود اپنی حالت ،معاشرے کی حالت اور ملک کے حالات کو کس طرح بہتر بنایا جائے ۔ ملک میں تعلیمی بیداری آ رہی ہے ۔ لوگ علم حاصل کر ر ہے ہیں ، ڈگریاں حاصل ہوتے ہی نوجوان خلیجی ممالک یا یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں ۔ ملک کی سیاست میںیا ایڈ منسٹریشن میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کرتے ۔ ڈاکٹر، وکیل ، انجنیئر اور پروفیسر بن جاتے ہیں ، مانا کہ یہ بھی قوم کی خدمت کرتے ہیں ، مگر آئی پی ایس اور یو پی ایس سی کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا اور نہ ہی ملک کی سیاست میں حصہ لینے کی کوئی کوشش کرتا ہے ۔ہمارے نوجوان اپنے ہی ملک میں اپنی خدمات انجام کیوں نہیں دیتے ؟ دیگر ممالک کا رخ کیوں کرتے ہیں ؟ یہ ایک اہم سوال ہے ، اچھی سوچ اور اچھے ٹیلنٹ کا استعمال اپنے ہی ملک میں ہونا چاہیے ۔ اس صورت میں ہمیں اس کا محاسبہ کرنا ہوگاکہ ہمارا مستقبل کتنا روشن ہے ؟ہم اکثر یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ ایڈمنسٹریشن میںشامل ہونے کے لیے لوگ کم ہی توجہ دیتے ہیں ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہم اس پر عمل کیوں نہیں کرتے کہ یہ فیصد بڑھ جائے ؟اپنے بچوں کو اس کے لیے تیار کیوں نہیں کرتے ؟ہم استحصال کی شکایت کرتے ہیں ، تعصب کی شکایت کرتے ہیں ، نعرے بازی کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں ، عملی طور پر اس مقام پر پہنچنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ، جہاں سے قوانین نافذ کیے جاتے ہیں ۔ ہم حکومت کی پالیسیوں کا انتظار کرتے ہیں ، پالیسی بنانے والے کیوں نہیں بن جاتے ہمارے نوجوانوں اور آنے والی نسل کو یہ ذہن نشین کرانے کے ساتھ ضروری ہے کہ ان میں تعلیمی بیداری اور سیاسی شعور بھی بیدار ہو ۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ملک کی ترقی ہوتی رہے ۔ملک اسی وقت ترقی کر سکتا ہے ، جب ہر شخص خوش حال ہوگا۔ عدم توازن نہ ہو ، ابھی ہم عدم توازن کا شکار ہیں ، اسے دور کرنے کے لیے اتحاد ضروری ہے ۔

موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کئی تجاویز ہیں ۔ مثلاً بے روزگاری کو دور کرنا سب سے اہم کام ہے ۔ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں خود کفیل ہوں ، اس کے لیے کوشش کرنا ، اوئیرنیس کیمپ کا انعقاد کرنا ۔ اسی کے ساتھ پولس فورس میں شمولیت کے لیے تیاری کروانا، مقابلہ جاتی امتحانات مثلاً آئی ایس اور آئی پی ایس کے لیے رہنمائی و تربیت کرنا ’’ ہند فاؤنڈیشن‘‘ کا اصل مقصد ہے۔تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں خود کفیل بنانے کے لیے’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘کی کوشش جاری ہے ، کئی بے روزگار نوجوانوں کو بر سر روزگارکرنے کا کام ہند فاؤنڈیشن نےکیا ہے۔
کوکن کے اضلاع میں ایکو ٹورازم کی جانب توجہ مبذول کرانا بھی عبدالرحمن ونو کا خواب ہے ، کہ یہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے ۔ کوکن ایسا علاقہ ہے ، جہاں کے لوگوں نے ابھی تک کوآپریٹیو سوسائٹی کے ذریعے حکومت کی اسکیموں کا فائدہ نہیں اٹھایا ، خواہ وہ کوئی بھی پیشہ ہو ، ماہی گیری ، سیاحت ، زراعت ، پولیٹری فارم ، بکریوں کا ریوڑ ، ڈیری فارم یا پھر باغبانی ۔ ان تمام پیشوں کے لیے حکومت کے پاس فنڈ ہے ، مگر اہل کوکن اس سے محروم ہیں اس پر بھی توجہ دی جائے گی ، دراصل ہم ملک کو ایک اکائی کی شکل میںدیکھتے ہیں ، مگر کہتے ہیں روشنی پہلے اپنے گھر میں کی جاتی ہے ، تو چونکہ ہم ممبئی میں رہتے ہیں اور کوکن ہمارا آبائی وطن ہونے کے ساتھ ساتھ ممبئی سے قریب بھی ہے ، اس لیے کام یہاں سے شروع کیا جا سکتا ہے ۔ یہ زرین خیالات ’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے بانی اور چئیر مین عبدالرحمن ونو کے ہیں ، جو فاؤنڈیشن کے ذریعے حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا پل ثابت ہو سکتے ہیں ۔

چار سال قبل ’’کوکن یونائیٹیڈ فورم‘‘ کے زیر اہتمام یوسف مہر علی سینٹر ، تارا ، پنویل میں ہونے والی ’’آل کوکن سیاسی بیداری کانفرنس ‘‘ کی صدارت کی تھی اور اپنے زرین خیالات سے اہل کوکن کی رہنمائی کی تھی ۔ ’’ اے ، ایم ،پی جے‘‘ کے کرئیر فیسٹ پروگرام کی سرپرستی اور تائید کی تھی ، جس کے چیئر مین عامر ادریسی ہیں ۔ عامر ادریسی کی کوششوں سے اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے کئی نوجوانوں نے شرکت کی تھی اور اس تعلق سے نوجوانوں میں مستقبل سازی کے تعلق سے رہنمائی کا کام ہوا تھا ۔
ایس این ڈی ٹی کالج ممبئی میں یوم خواتین کے موقع پر عبدلرحمن ونو بحیثیت مہمان خصوصی مدعو رہے اور انہوں نے معاشرے میں خواتین کی اہمیت اور عزت و احترام کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی تھی ۔
عبدالرحیم ونو کے بنائے ہوئے طغروں پر مبنی 2012کا اردو انگریزی کلینڈر ’’ روزنامہ ہندستان‘‘ اور ’’ہند فاؤنڈیشن‘‘ کے اشتراک سے منظر عام پر آیا تھا، جس میں اعلا تعلیم حاصل کرنے کا پیغام بھی دیا گیا تھا ۔
’’ گل بوٹے اسکالر شپ امتحانات ‘‘ مانامہ گل بوٹے کی فخریہ پیش کش ہے ، جس کے ذریعے مختلف جماعتوں کے طلبا کو اپنے ہی نصاب کے سالانہ امتحان کی تیاری کی تحریک دی جاتی ہے اور انہیں اسکالر شپ سے نوازا جاتا ہے ، عبدالرحمن ونو نے ایسے جذبے کی تائید و ستائش کرتے ہوئے ’’ہند فاؤنڈیشن‘‘ کے ذریعے گل بوٹے کے قدم سے قدم ملائے اور طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے اسکالر شپ کا انتظام کیا ۔
اندھیری کے کرسچن آشرم کے بچوں کے ساتھ کرسمس نائٹ منا کر ان بچوں کی دلجوئی کرتے ہیں ، جس کے لیے جونئیر محمود اور دیگر آرٹسٹوں نے ’’ہند فاؤنڈیشن‘‘ کے زیر اہتمام مزاحیہ اور میوزیکل پروگرام پیش کیا تھا ۔
ڈونگری ممبئی بچوں کی جیل میں نئے سال کا جشن منانے کے لیے بھی ’’ہند فاؤنڈیشن ‘‘کی ٹیم عبدالرحمن ونو کی سربراہی میں پہنچ گئی تھی ، جہاں ایڈیشنل کمشنر کرشن کمار بھی تھے ،اس وقت بھی جونئیر محمود اور ان کی ٹیم نے بچوں کا دل بہلایا تھا اور ’’ہند فاؤنڈیشن‘‘ کی جانب سے بچوں کو کپڑے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں ، ساتھ ہی دوپہر کے کھانے کی دعوت بھی تھی ۔
ممبئی کے پولس کمشنر ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ کی کتاب ’’ انسانیت کی تلاش ‘‘ ہندی کی اصلاحی تحریر سے متاثر ہو کر اسے اردو میں نشر کرنے کا ارادہ کر لیا تھا ،’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے شعبہ نشر و اشاعت کے زیر اہتمام ’’ تلاش انسان کی ‘‘ عنوان سے یہ کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آ گئی ، جس کی کوئی قیمت نہیں ہے ،’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘نے اسے تحفتاً پیش کرنے کا ارادہ کر لیا ۔’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے چیئر مین عبدالرحمن ونو کا کہنا ہے کہ زریں خیالات کا مول نہیں ہوتا ، یہ انمول ہوتے ہیں ۔

مراٹھی کے مصنف سندیپ واسلیکر کی کتاب ’’ ایکا دشے چا شودھ‘‘ کا اردو ترجمہ پڑھ کر وہ بہت متاثر ہوئے اور ان کا کہنا ہے کہ سندیپ واسلیکر نے جس کتاب کو ’’مراٹھی مانس‘‘ کی شاہ کلید کہا ہے ، اسے ڈاکٹر عبدالروؤف پٹھان نے اردو والوں کے لیے پیش کرنے کی کوشش کر کے ایک اہم کام کیا ہے اور ہم اس کتاب کو مفت اردو والوں تک پہنچائیں گے ۔ آج بھی کسی کو اس کتاب کی ضرورت ہو ، تو ’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ کے دفتر سے رابطہ قایم کر کے مفت حاصل کر سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کتاب صرف مراٹھی اور اردو کے لیے نہیں ، بلکہ پورے ملک اور پوری دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے لکھی گئی ہے ، اس کی جس قدر زیادہ نشر و اشاعت ہو ،ملک اور قوم کا انسانیت کا فائدہ ہوگا ۔ عبدالرحمن ونو کو مطالعے کا بے حد شوق ہے ، وہ کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ۔ اردو ، ہندی ، مراٹھی ، گجراتی ، عربی اور انگریزی زبانیںروانی سے بول اور لکھ پڑھ سکتے ہیں ۔
سماجی سیاسی حلقوں میں عبدالرحمن ونو کا نام تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com