کوکن کے پھل

کوکن کے پھل

آم

٭کوکن کا ذکر ہو اور آم کا تذکرہ نہیں کیا جائے ، ایسا ممکن نہیں ۔ کیو نکہ کوکن کے آم بہت مشہور ہیں ، خاص طور سے الفانسو ، جسے ہاپوس بھی کہتے ہیں ۔ ویسے کوکن میں ہاپوس کے علاوہ بھی آم کی دیگر قسمیں پائی جاتی ہیں ۔ ہاپوس قلمی آم ہوتا ہے ۔ دوسرے آموں میں رائیول ، پائری ،راجہ پوری اور سیپو خاص قسمیں ہیں ۔ رائیول آم رسیلا ہوتا ہے ۔ اسے کاٹ کر نہیں کھاتے ، یہ آم چوسنے والا ہوتا ہے ۔ سیپو آم اسے کہتے ہیں جس میں آم کی خوشبو کے بجائے سیپو( سویا سبزی)کی خوشبو آتی ہے ۔کیونکہ کوکن میں سویا سبزی کو سیپو کہتے ہیں ۔ یہ ذرا کٹھا میٹھا ہوتا ہے ۔ بالکل میٹھا نہیں ہوتا ۔ رائیول اور سیپو کے پودے عام طور سے خود رو ہوتے ہیں ۔ خود رو سے مراد یہ گٹھلی کے ذریعے ہی جڑ پکڑ لیتے ہیں ، مگر ہاپوس آم کے لیے قلم لگائی جاتی ہے اور باقاعدہ اس کی نگہداشت کی جاتی ہے ۔ اب کوکن میں توتا پائری آموں کی پیداوار ہونے لگی ہے ، اس کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے آم یہاں پائے جاتے ہیں ۔ آم روٹی بھی بنائی جاتی ہے ، جسے لوگ شوق سے کھاتے ہیں ۔اب کوکن کے مختلف گاؤں میں مینگو پلپ کی فیکٹریاں بھی لگائی جا رہی ہیں ، جس آم کے رس کو محفوظ کیا جاتا ہے ۔ آم کے مشروبات کی فیکٹریاں بھی کوکن کی معیشت کا حصہ بنتی جا رہی ہیں ۔ آم کوکن کی معیشت کا ایک حصہ ہے ۔ ہر سال گرمی کے موسم میں کوکن کے چھوٹے چھوٹے گاؤں سے لاکھوں روپے کے آم مارکٹ میں پہنچتے ہیں ۔ کوکن کے آم عالمی منڈی میں بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں ۔ یہاں سے آم دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں ۔

کوکم

٭ کوکم ، کوکن کا مشہور پھل ہے ۔ایک عرصے تک کوکن کے لوگوں کو اس کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ نہیں تھا ۔ گرمی کے موسم میں کوکم کے درخت پھلوں سے لد جاتے ہیں اور پکنے کے بعد آلو بخارا کی طرح سرخ ہو جاتے ہیں ، جو ذائقے میں ترش اور شیریں ہوتے ہیں ۔ کوکن کے لوگ انہیں درختوں سے اتار کر سکھا کر رکھ لیا کرتے تھے ، تاکہ مچھلی کے سالن ، جھنکا اور اوتل (تازہ بومبل کے ابلے ہوئے شوربے کو کہتے ہیں )میں کھٹائی کے طور پر استعمال کریں ۔
گزشتہ ۲۵؍ برسوں سے اس کا شربت بننے لگا ہے ، جو انتہائی فرحت بخش ہوتا ہے ۔ جگر اور معدے کے لیے مفید بھی ہے ۔ جب سے کوکم کا شربت مارکٹ میں چل پڑا ، کوکن کے لوگوں نے کوکم کی پیداوار پر توجہ دینا شروع کر دی ورنہ کوکم کے پیڑ عام طور سے جنگلوں میں خود رو پودوں کی طرح اگتے تھے اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوا کرتا تھا ۔ اب باقاعدہ کوکم کے پیڑ لگائے جارہے ہیں اور کوکم کو بھی کوکن کی معیشت میں ایک مقام حاصل ہوتا جا رہا ہے ۔
بد ہضمی ، گیس ، پت اچھلنا اور اسی قسم کے جگر اور صفراوی امراض میں کوکم کا شربت بے حد مفید ہوتا ہے ۔ اس کی تاثیر سرد ہوتی ہے ۔ مایگرین کے مریضوں کو بھی اس سے راحت محسوس ہوتی ہے ۔ کوکم کے شربت میں اگر تھوڑا سا زیرے کا سفوف اور سیاہ نمک شامل کیا جائے ، تو نہ صرف یہ کہ اس کا ذائقہ بڑھ جاتا ہے ،یہ جگر کے لیے مفید ہو جاتا ہے ۔ بہر حال دیر آید درست آید ۔ کوکن کے لوگوں کو کوکم کی اہمیت کا اندازہ تو ہوا ۔٭٭

کاجو

٭ کاجو کوکن کا ایک اہم پھل ہے ۔ اس کی پیداور یہاں بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ کاجو کے پھل سے زیادہ اہم اس کا بیج ہوتا ہے ۔ کوکن میں اس کی اہمیت اتنی ہی ہوا کرتی تھی کہ پھل کو نمک لگا کر یا ابال کر کھایا جاتا تھا ۔ کیونکہ اس پھل کو نمک لگائے بنا کھایا جائے تو زبان پر بس بساہٹ شروع ہو جاتی ہے ۔ مگر کاجو کا بیج بہت اہم ہوتا ہے ۔ اس کا شمار خشک میوے میں ہوتا ہے ۔ مگر کوکن کے لوگ اس کو سبزی یا سالن کی طرح بھی پکاتے ہیں اس کا جوڑ ہوتی ہیں چاول کی روٹیاں ۔کاجو کو سبزی کی طرح پکانے کا رواج صدیوں سے چلا آ رہا ہے ۔
کاجو کے درخت کے پاس سے گزرتے ہوئے اگر آپ کو ، کوئی پھل نیچے گرا ہوا نظر آئے ، تو آپ بے شک اٹھا کے اسے کھا سکتے ہیں ، مگر پھل کھا کر بیج کو درخت کی جڑ میں رکھ دیں ۔ کیونکہ کوکن کے قانون کے مطابق کاجو کے بیج کا حق دار وہی ہوگا ، جس کا وہ درخت ہے ۔ دیگر پھلوں کے تعلق سے بھی یہی قانون ہے جس نے پایا وہ لے سکتا ہے ۔ کاجو کے بیج اکثر درختوں کی جڑوں میں رکھے نظر آتے ہیں ۔ انہیں کوئی چرا نہیں سکتا ۔ ایسی صورت میں جماعت کی طرف سے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے ۔ کاجو کے بیج سے نکلنے والا عرق واٹر پروفنگ کے کام میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اگر جلد پر لگ جائے ، تو چھالے آ جاتے ہیںیا جلے ہوئے نشان رہ جاتے ہیں، ایسے نشان کو کنی میں پھانپھرے کہلاتے ہیں ۔
آج کل کاجو کا شربت بنایا جا رہا ہے ، یہ معتدل ، مقوی ہوتا اور فرحت بخش بھی ہوتا ہے ۔ ہلکے سنہرے رنگ کا یہ شربت بے حد لذیذ ہوتا ہے ۔ کاجو بھی کوکن کی معیشت کا ایک حصہ ہے ، تازہ پھل ، تازہ کاجو ، سوکھائے ہوئے کاجو اور کاجو کا شربت یہ سب کوکن کے بازار میں دستیاب ہیں اسی کے ساتھ ممبئی میں بھی پہنچ رہی ہیں ۔٭٭

کروندے

کروندے کی خود رو جھاڑیاں ہوتی ہیں ۔ یہ جامنی رنگ کے گول گول چھوٹے پھل ہوتے ہیں ۔جب یہ کچے ہوتے ہیں ، تو کھٹے لگتے ہیں ۔ اسی لیے کوکن کے بازار میں ملنے والے کیری (آم) کے اچار میں بھی یہ نظر آتے ہیں، کروندوں کو لوگ پودوں سے توڑ کر یوں ہی حاصل کر لیتے ہیں اور نمک کے پانی میں بھگو کر کھا لیتے ہیں ، مگر غریب دیہاتی اسے توڑ کر ، ساگوان کے پتوں کے دونے میں ایس ٹی اسٹینڈ پر یا مقامی بازار میں فروخت کرتے نظرر آتے ہیں ۔ کروندے کو شکر کے شیرے میں پکا کر سرخ رنگ میں سرخ اور میٹھا کر دیا جاتا ہے ، اس طرح اسے میٹھے پکوان میں شامل کیا جاتا ہے یا اسے آرائش کے طور پر میٹھے پکوان پر رکھا جاتا ہے ۔

 

کٹہل یعنی پھنس

پھنس ( کٹہل ) بھی ابہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اس کے درخت گرمی کے موسم میں پھنس سے لد جاتے ہیں ۔ یہاں دو قسم کے پھنس پائے جاتے ہیں ۔ جسے کوکنی میں کہتے ہیں کاپا ( خشک) برکا (لجلجا) ۔ بہر حال پھنس کوئی سا بھی ہو، کوکن کے لوگوں کو بے حد پسند ہے ۔ جب یہ کچا ہوتا ہے ، اگر کچا پھل درخت سے گر جائے ، تو اس کی ترکاری بنائی جاتی ہے ۔ کچے پھنس بھی بازار میں بکتے ہیں ۔ جب یہ پک جاتا ہے ، تو اس کا گودا کھایا جاتا ہے اور بیج جمع کیے جاتے ہیں ۔ ان بیجوں کو ابال کر بھی کھاتے ہیں ، یا ترکاری، سالن بنا کر بھی کھاتے ہیں ، کچھ لوگ بیجوں کو سکھا کر توے میں سینک لیتے ہیں اور چھلکا اتار کر کھاتے ہیں، بہر حال یہ بیج ہر صورت میں لذیذ ہوتے ہیں ۔

جامن

جامن کے باقاعدہ درخت ہوتے ہیں ۔ جامن کے تازہ پھل کوکن کے بازار میں فروخت ہوتے ہیں ، ساتھ ہی اس کے بیج کا پاوڈر اور جامن کا شربت بھی کوکن میں خوب بکتا ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com