امراض و علاج انسانی زندگی کے ساتھی ہیں, ہومیوپیتھی بہتر متبادل

امراض و علاج انسانی زندگی کے ساتھی ہیں
ہومیوپیتھی بہتر متبادل

کہتے ہیں مخلوق کے پیدا ہونے سے قبل ہی اس کا رزق پیدا کیا جاتا ہے ، یہ قدرت کا نظام ہے ۔ اسی طرح ہر مرض کا علاج بھی دنیا میں موجود ہے ۔ زمانۂ قدیم میں یونان کو اس میں کافی اہمیت حاصل تھی ۔ یونانی جڑی بوٹیوں کے ماہر ہوا کرتے تھے ۔ آیور وید کی تاریخ بھی ہزاروں سال پرانی ہے ۔ انسان نے ہر مرض اور ہر تکلیف کا علاج تلاش کر ہی لیا ، یہ الگ بات ہے کہ قدرت ہمیشہ اس میں معاون رہی ۔ حکیم لقمان کا ذکر بھی آتا ہے ، تو اسے بھی ہزاروں سال گزر گئے ۔ ماضی قریب میں ہندستان میں یونانی پیتھی میں حکیم اجمل خان کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح ایک تھے حکیم نا بینا ، جو نبض پر ہاتھ رکھتے ہی مریض کی کیفیت بتا دیا کرتے تھے ۔ جڑی بوٹی کے علم ہی سے وہ دوایا غذا کا مشورہ دیا کرتے تھے ۔ جڑی بوٹیوں سے علاج کے معاملے میں چینیوں کی بھی اپنی ایک الگ شناخت اور تاریخ ہے ۔ قرآن میں شہد کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے ۔ اسی لیے یونانی دوائیں شہد میں بنائی جاتی ہیں ۔ یونانی پیتھی میں شہد کو دواؤں کا ٹرانسپورٹ کہا جاتا ہے کیونکہ شہد کے ذریعے دوا تیز اثر ہو جاتی ہے اور یہ ایک طرح سے دواؤں کو محفوظ بھی رکھتی ہیں ۔ اسی طرح ایلو پیتھی بھی ہے ، جہاں تیز اثر دوائیں پائی جاتی ہیں ، فوری آرام اور اگر مرض دواؤں سے ٹھیک نہیں ہو سکے تو سرجری۔ یعنی گال بلیڈر میں پتھری ہے ، تو اسے کاٹ کے پھینک دیں ۔ دل کی نسوں میں کولسٹرل جم جائے ، تو بائی پاس ، یعنی دوسری نسیں جوڑ کر دوران خون کا راستہ ہی بدل دیا جائے ۔ بہر حال ہر مرض کی دوا ہر پیتھی میں موجود ہے ۔ سب کا طریقۂ علاج مختلف ہے ۔ اسی طرح ہومیوپیتھی ہے ، جہاں مرض کا علاج نہیں کیا جاتا ، بلکہ انسانی جسم میں پیدا ہونے والی غیر معمولی علامتوں کو دور کر دیا جاتا ہے یا پھر انسانی جسم کی قوت مدافعت کو بڑھا دینے سے مرض خود بخود ختم ہو جاتا ہے ۔ انسانی جسم کی قوت مدافعت ہی ہر مرض پر قابو پانے کا بہترین علاج ہے ۔ ہومیو پیتھی میں سرجری کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ البتہ یہاں نا محسوس سرجری ہوتی ہے ، جس کے لیے کسی ’’ نائف ‘‘ کا استعمال نہیں ہوتا ۔
ڈاکٹر ہنی مین کو بابائے ہومیو پیتھی کہا جاتا ہے ۔ وہ ایم ڈی میڈیسن ( ایلو پیتھی ) تھے ، مگر جب انہوں نے ایلو پیتھی کے علاج بالضرب کے مقابلے ہومیو پیتھی کے علاج بالمثل کو پیش کیا ، تو کئی لا علاج امراض کا علاج ہونے لگا ۔ مگر اسی وقت ایلو پیتھی کو اپنا مارکٹ خطرے میں نظر آنے لگا ۔ دنیا میں ایک اور نظام ہے ، صارفیت کا نظام ، جسے ہم مارکٹنگ کہتے ہیں ، جس کی پیش کش جتنی عمدہ ہوگی اور قیمت زیادہ وہی چیز مارکٹ میں بکتی ہے، یہ عام انسانی ذہنیت ہے ۔ خوبصورت پیکنگ اور خوشنما رنگ و شکل کی دوائیں اور ان کی بھاری قیمتیں عام لوگوں کو متاثر کرتی ہیں ۔ اب یونانی اور آیورویدک دوائیں بھی اسی نقش قدم پر چل رہی ہیں ، کہ یہ وقت کا تقاضا ہے ۔ کیونکہ عام لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یونانی اور آیورویدک دوائیں جلد اثر نہیں کرتیں ۔ دھیرے دھیرے کام کرتی ہیں ۔
ایلو پیتھی میڈیسن کے قانون کے مطابق کسی بھی مرض یہاں تک کہ معمولی بخار کے لیے بھی ٹیسٹ ضروری ہے ۔ کبھی کبھی مریض ہزاروں روپے ٹیسٹ اور اس کے مطابق دواؤں پر خرچ کرتا ہے اور نتیجہ ندارد ۔ یہ ٹیسٹ ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگے بھی ہوتے ہیں ، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اگر یہ ٹیسٹ نہ کروائے جائیں ، تو ان مشینوں کا کیا ہوگا ، جن کا مارکٹ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ؟
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ امراض کا علاج ہو سکتا ہے ، موت کو نہیں ٹالا جا سکتا ، موت برحق ہے ۔ خواہ پیتھی جو بھی ہو ۔عام طور سے ہومیو پیتھی کے تعلق سے بھی عام لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ دھیرے دھیرے اثر کرتی ہے اور دیر سے اثر کرتی ہے ، تو ہم بتا دیں ایسا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ پیش ہے، ایک لڑکی کا دسویں بورڈ امتحان شروع ہونے میں صرف تین دن باقی تھے اور چہرے پر بڑا سا پھوڑا آ گیا ، اس پھوڑے کو منہ نہیں تھا ۔ ڈاکٹروں نے فوراً کاٹ کے صاف کرنے کی بات کی ، مگر اس صورت میں وہ امتحان نہیں دے سکتی تھی اور چہرہ خراب ہونا یقینی تھا ۔ اس دوران اسے ایک ہومیوپیتھ ڈاکٹر نے دو خوراک دوا دے دی اور کہا رات سونے سے قبل چار گولیاں کھائے اور پھر دوسرا دن گزر جائے ، تو رات میں پھر چار گولیاں کھا کر سو جائے ۔ پہلی چار گولیاں کھانے کے بعد وہ لڑکی صبح اٹھ کر اپنے تمام کام کررہی تھی وہ یہ بھول گئی تھی کہ اس کے چہرے پر کوئی پھوڑا بھی تھا ، کیونکہ رات میں وہ پھوڑا بہہ گیا تھا اور چہرہ تقریباً نارمل ہو گیا تھا ۔ اس نے دوسری خوراک لی اور پھر اسے کسی دوا کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی ۔ ایسے ہی معاملات کو کہتے ہیں ’’ سرجری وِداؤٹ نائف‘‘ ۔ ایک شخص دل کے دورے سے بے ہوش ہو گیا تھا ۔ وینٹی لیٹر پر چل رہا تھا ، پانچ دن تک کوما میں تھا ۔ ایک ہومیوپیتھ ڈاکٹر نے ان کے اہل خانہ کو مشورہ دیا کہ وہ جو دوائیں لکھ کر دے رہے ہیں ، اسے لا کر مریض کے جسم اور پیشانی پر ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے لگائیں ۔ پانچ دن سے جو مریض وینٹی لیٹر پر تھا وہ دس گھنٹے میں ہوش میں آ گیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ تو یہ دوائیں بھی تیز اثر ہوتی ہیں ، بشرطیکہ مریض کے مزاج اور علامتوں کو صحیح انداز سے سمجھا جائے ۔ کسی بھی مرض کے علاج میں اہم مقام حاصل ہوتا ہے مرض کی تشخیص کو ، ایک بار مرض سمجھ میں آ گیا ، تو علاج مشکل نہیں ۔ ہومیو پیتھی ایک ایسی پیتھی ہے جہاں مریضوں کو کسی بھی قسم کی جانچ کے لیے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا ہوتا ہے ۔ ہومیوپیتھی کا ماہر ڈاکٹر کبھی بھی مریض کو مرعوب کرنے کی خاطر یاکسی قسم کا احساس دلانے کی خاطر کوئی بھی جانچ کا آلہ استعمال نہیں کرے گا۔ وہ مریض کے حرکات و سکنات اور انداز گفتگو پر نظر رکھتا ہے ، اس کے جلد کی رنگت اور پلکوں کے جھپکنے کی رفتارکو دیکھتا ہے وہ مریض کے اعصاب میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھتا ہے اور انسانی فطرت میں ہونے والی مضر تبدیلیوں پر نگاہ رکھ کر ان علامتوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے ، جن کے ہونے سے ایک انسان نارمل نہیں لگتا ۔ اس طریقہ ٔ علاج کی خوبی یہ ہے کہ انسانی جسم کے کسی حصے کو کاٹنے کی نوبت نہیں آتی یہاں تک کہ جیب بھی نہیں کٹتی وہ بھی محفوظ رہتی ہے ۔ مگر صارفیت کے جال نے اسے انسانی ذہن سے دور رکھا ہے ، یہ انسان کی بد قسمتی ہے ۔ آج کے دور نفسا نفسی کا دور ہے ، فضائی آلودگی کا دور ہے ، پانی اور غذا بھی خالص میسر نہیں ہے ان حالات میں نئے نئے امراض پیدا ہو رہے ہیں ، دراصل یہ امراض نئے نہیں ہیں ، بلکہ یہ انسانی جسم ہی میں موجود ہوتے ہیں ، قوت مدافعت کے کم ہونے اور ذہنی اور جذباتی ٹھیس پہنچنے سے انسان کمزور ہو جاتا ہے ، اس صورت میں اس کی قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے اور مرض کی علامتیں نمایاں ہو جاتی ہیں ۔ ایسی صورت میں ہومیو پیتھی ہی ایک ایسی پیتھی ہے ، جو مریض کو راحت پہنچا سکتی ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس پیتھی میں بھی کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور یہ پیتھی بھی بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ بدلتی جا رہی ہے ۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، مگر فی الحال اتنا ہی کافی ہے ۔

٭ شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com