اپنی غذا میں شکر کا استعمال کم کریںاور صحت مند رہیں 

بازار میں دستیاب پیک کھانے اور مشروبات میں بہت زیادہ شکر ہوتی ہے ، اس لیے یہ ہماری صحت کے لیے بہت مضر ہوتے ہیں ۔ ایک مطالعہ کے مطابق بازار میں دستیاب مشروبات میں بہت زیادہ شکر ہوتی ہے ان مشروبات کے پینے کی وجہ سے پوری دنیا میں ہر سال ۱۸۴۰۰۰؍ لوگوں کی جان جاتی ہے۔کھانے میں شکر کم کرنے سے وزن نہیں بڑھتا اور دل کی بیماری اور ذیابطیس جیسی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
لائیو سائنس کے مطابق ذیابطیس ، کینسر اور دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کا سیدھا تعلق پھلوں کے مشروبات ، سوڈا، طاقت دینے والے مشروبات اور آئس ٹی پینے سے ہے ۔
داریوش موزافرین ، جو ڈین ہیں ’’ فریڈم اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسیایٹ ٹفٹس ان یونیورسٹی میساچسٹس ‘‘ اور تحقیقی مقالے کے مصنف ہیں ان کا کہنا ہے کہ’’عالمی سطح پر اس بات کو ترجیح دینی چاہیے کہ مشروبات میں شکر کی ایک معقول مقدار شامل ہو۔‘‘
جن مشروبات میں زیادہ شکر ہوتی ہے انھیں پینے سے موٹاپا اور موٹاپے سے ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔اور اس وجہ سے ایک سا ل میں کئی ملین لوگوں کی جان جاتی ہے۔
جامع اسٹڈی کے مطابق سوڈے کا ایک کین روزانہ پینے سے ایک سال میں آٹھ کلو وزن بڑھ سکتا ہے اور موٹاپے کی بیماری ہو سکتی ہے۔
بہت سارے مطالعے اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ زیادہ شکر والی غذا سے لبلبے کا کینسر ہونے کا خطرہ ہوتاہے اور کینسر کی اس قسم سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ مقدارمیں شکر کے استعمال سے جسم میںٹرائیگلاسرائڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو دل کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
گیتانجلی سنگھ اسسٹنٹ پروفیسرٹفٹس سائنس جنھوںنے ٹفٹس اسٹڈی کی رہنمائی بھی کی ہے ۔ایک نتیجہ پیش کیا کہ زیادہ شکر والی مشروبات سے پوری دنیا میں کتنے لوگ مرتے ہیں ان کے اعدادوشمار کے مطابق ۱۳۳۰۰۰اموات ذیابطیس ٹائپ ٹو کی وجہ سے ہوتی ہیں اور۴۵۰۰۰؍اموات دل کی بیماری کی وجہ سے اور ۶۴۵۰؍ اموات کینسر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
بیس ممالک جہا ں زیادہ شکر والے مشروبات کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح زیادہ ہے ۔لاطین امریکہ میں آٹھ اور اس علاقے میں کیربین میں تعداد سب سے زیادہ ہے ۔
سنگھ کے مطابق مشروبات بنانے کے لیے استعمال کی گئی شکر گنے ، شلجم یا پھر زیادہ گلوکوز والے مکئی سیرپ سے بنائی جاتی ہیں
محقیقین کہتے ہیں کہ میکسیکو میں ۳۰؍فیصد اموات جو پینتالیس سال کی عمر میں ہوتی ہیں ان اموات کی وجہ شکر والے مشروبات ہیں۔ایسا ملک جہاں پر ۱۰؍فیصد ذیابطیس کے مریض ہیں اور جہاں پرزیادہ اموات ذیابطیس کی وجہ سے ہوتی ہیں
اس کے برعکس جاپان میں شکر والے مشروبات سے ہونے والی بیماریا ں نہ کے برابر ہیں اس کی وجہ یہاں بڑے پیمانے پر بنا شکر والی چائے کا استعمال ہے۔
ہندستان میں محققین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہاں پر امریکہ کے مقابلے پانچ گنازیادہ اموات ایسے مریضوں کی ہے جن کی موت ذیا بطیس کی وجہ سے ہوتی ہے اور مرض کی تشخیص بھی نہیں ہوتی۔تاہم سائنسداں ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ کیا شکر والے مشروبات ۱۸۴۰۰؍اموات کی ہی بنیادی وجہ ہے ۔یہ نتائج ملکی سطح پر مشروبات پینے کے رجحان، شرح اموات اور شکر کی دستیابی پر منحصر ہیں۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی گائیڈ لائن کے مطابق عورتوں کے لیے ایک دن میں اضافی شکر سے حاصل کی گئی کیلوریز ۱۰۰؍ کیلوریز سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور آدمیوں کے لیے اضافی شکر سے حاصل کی گئی کیلوری۱۵۰؍کیلوریز سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے (ایک دن میں)تقریباً چھ چائے کے چمچہ شکر عورتوں کے لیے اور نو چائے کے چمچہ شکر مردوں کے لیے مناسب مقدار ہو سکتی ہے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com