اچھی غذا کے استعمال سے خون کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے

اچھی غذا کے استعمال سے خون کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے

ہمارے ملک ہندستان کے دیہی علاقوں کی خواتین میں خون کی کمی پائی جاتی ہے ، جسے انیمیا کہتے ہیں ۔انیمیا سے بہت سے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ، اس سے جوڑوں میں درد بھی شروع ہو جاتاہے ۔ ایسا اکثر شہر میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ اس مرض میں خواتین ہی مبتلا ہوں ، مرد اور بچے بھی مبتلا نظر آتے ہیں ۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کی وجہ غربت یا غذائی اجناس کی عدم دستیابی ہو، دراصل زیادہ تر لوگ اس بات سے واقف ہی نہیں ہوتے کہ انہیں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں اور کس مقدار میں کھانا چاہیے ۔
پرورش کے بارے میں صحیح معلومات اور صحت کے مطابق خوراک کے بارے میں شعور نہ ہونے سے بھی یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے ، اسی لیے اکثر افراد انیمیا کا شکار ہو کر تھکن اور کمزوری کے احساس میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ جب بھی تھوڑی سی محنت کے بعد تھکن اور کمزوری کا احساس ہو ، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ضرور کوئی مسئلہ ہے ۔ اکثر عورتوں اور بچوں کے تئیں امتیاز بھی ان کی پرورش میں کمی کی ایک وجہ ہے۔یہ صورت حال تقریبا پورے ہندستان میں ہے۔صحت اور غذائیت کے تعلق سے بیداری لانا زیادہ اہم ہے ۔ کچھ تنظیمیں یہ کام کر رہی ہیں ، مگر اس پر مزید محنت کی ضرورت ہے ۔ کچھ علاقوں کے لوگ ان کے علاقے میں دستیاب ہونے والی غذائی اجناسا کا استعمال کرتے ہیں ، جیسے ساحلی علاقے کے لوگ سمندری غذا پر انحصار کرتے ہیں ، چاول ، جوار ، باجرہ ، ناریل، دالیں اور اسی قسم کی اشیا کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ، دودھ ، دہی ، پنیر ، مکھن کے علاوہ پرندوں اور جانوروں کے گوشت کا استعمال بھی کم ہی کرتے ہیں ۔ ساحل سمندر سے دوررہنے والے اکثر گیہوں ، چاول ، گوشت اور دودھ سے بننے والی اشیا کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ، مختلف علاقوں میں پیدا ہونے والے پھل بھی مختلف ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے عام انسان کی پھلوں تک رسائی نہیں ہو پاتی ۔ کل ملا کر یہ کہ متوازن غذا نہیں ہونے کی وجہ سے اکثر انسان خون کی کمی یا انیمیا کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں گاجر ، چقندر اور کھجور انتہائی اہم رول ادا کرتے ہیں ۔متوازن غذا کے ساتھ ساتھ اگر ان چیزوں کا استعمال کی جائے ، تو خون کی کمی کے مرض کو روکا جا سکتا ہے ۔ گاجر کھجور اور چقندر پورے ملک میں آسانی سے دستیاب ہیں ۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن علاقوں میں یہ اشیا پیدا ہوتی ہیں ، وہ کسان انہیں فروخت کرتے ہیں اور اپنی غذامیں کم ہی شامل کرتے ہیں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں کے لوگ غذائی محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں ، اس سے کسانوں کی غربت کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔
متوازن غذا جس میں اناج ، دالیں ، سبزیاں ، پھل اور دودھ سے بننے والی اشیا شامل ہیں اگر روزمرہ خوراک میں شامل کی جائیں ، تو یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوگا اور انیمیا کے شکار افراد اس طرح کی غذا لینا شروع کر دیں ، مسلاً گاجر ، چقندر ، کھجور ، پالک ،کلیجی ، مچھلی اور انڈے وغیرہ ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ خون کی کمی کے موقع پر لوگ دوائیں لینا شروع کر دیتے ہیں ، جو کہ غذائی اجزا سے بہتر نہیں ہو سکتا ۔ یہاں ہمارا مقصد دواؤں سے کلی طور پر انکار نہیں ہے ، مگر اچھی غذا لینے سے دواؤں ضرورت کم رہ جاتی ہے ، یہ صحت کے لیے بے حد مفید ہے ۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے ۔
اس مضمون کو پڑھنے کے بعد سوشل میڈیا پر ضرور شیر کیجیے ، تاکہ اور لوگ اس معلومات سے فیض یاب ہو سکیں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com