بازار میں دستیاب ہربل دواؤں کا فریب

 دیتے ہیں دھوکا ، بازی گر یہ کھلا 

ہر بل دواؤں کے اشتہاری پروڈکٹ اور عطائی حکیموں پر اعتبار کرنے سے پہلے یہ مضمون ضرور پڑھ لیں
آج کے تیز رفتار دور میں ہر شخص پریشان حال ہے ، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بازار میں دستیاب غذائی اجناس خالص نہیں رہیں ۔ زیادہ کھپت کی وجہ سے زیادہ پیداوار کی ضرورت نے ایسے کمیائی حربے استعمال کرنے پر کسانوں کو مجبور کر دیا کہ اب اناج ، پھل ، سبزی ترکاری سب اپنی افادیت کھو رہے ہیں اور یہی حال مرغی ، انڈے اور دیگر جانوروں کا بھی ہے ، جن کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے ۔ انہیں ایسے انجکشن لگائے جاتے ہیں کہ یہ وقت سے پہلے ہی بڑے ہو جاتے ہیں اور بازار کی ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے ۔
یہاں ہر کوئی بس یہ دیکھ رہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کاروبار کرے اور رقم حاصل کر لے ، یہ بات تو کاروباری پیشہ افراد یا کسان اور گوالوں کی ہے ۔ مگر ان لوگوں کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں ، جو اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لیے انسانی جذبات کا استحصال کرتے ہیں یا انہیں بیوقوف بناتے ہیں ۔ میری مراد ہے ان دواسازوں سے اور دوائیاں بیچنے والوں سے ، جو اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لیے سراسر جھوٹ بولتے ہیں ، ٹی وی چینل او ر اخبارات میں جھوٹے اشتہارات دیتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان کے ایجنٹ بھولے بھالے اور مرض میں مبتلا لوگوں کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ۔ در اصل آج غذائی اجناس خالص نہیں رہنے اور فضائی و پانی کی آلودگی سے ہر شخص کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہے۔
بہت سے امراض ایسے ہیں ، جو آج بھی لا علاج ہیں ، جو شخص ایسے کسی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے ، وہ مایوسی کی کیفیت سے گزرنے لگتا ہے اور ایسے میں ،کوئی دوست یا رشتہ دار جو بھی مشورہ دے مان لیتا ہے ، کسی بھی اشتہاری دوا کو دیکھ لیتا ہے ، تو اس کو اسی میں اپنی صحت یابی کی امید نظر آنے لگتی ہے ۔ خاص طور سے کینسر ، ایڈز اور آرتھرائٹس ایسے امراض ہیں ، جن کا مکمل علاج اور شفا یابی نہیں ہے ، صرف یہ ہو سکتا ہے ، کہ جو دوائیں دی جاتی ہیں اس سے مریض کو وقتی راحت ہو جاتی ہے ۔ ہر انسان کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ دوا سے وقتی راحت خریدی جا سکتی ہے ، زندگی نہیں ،موت برحق ہے اور اس کا وقت مقرر ہے کسی بھی عمر میں اور کسی بھی حال میں آ سکتی ہے ۔ آج تک ایسی کوئی دوا ایجاد نہیں ہو سکی ، جس سے انسان کو موت نہیں آ سکے ۔ ہاں مگر بیماری کی تکلیف میں مبتلا انسان کو بیوقوف بنا کر اس کے جذبات کا استحصال کر کے جو لوگ دواؤں کے نام پر اپنی دوکانیں چلا رہے ہیں ، ان سے زیادہ گھٹیا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ یہ انتہائی گھٹیا اور غیر اخلاقی حرکت ہے ۔
آپ لوگوں کا یاد ہوگا کہ چیتا کیمپ ممبئی میں ڈاکٹرمنیر خان کینسر کے مریضوں کو دوا دیا کرتا تھا اور اس کے اشتہار کے لیے ٹی وی چینل پر بے بی تبسم ہواکرتی تھیں ، ایک دن ایک مریض نے دوا لی اور دوسرے ہی روز اس کا انتقال ہو گیا ۔ وہ ڈاکٹر ہر مریض سے پندرہ دن کی دوا کے پینتس ہزار روپے لیا کرتا تھا ۔اس شخص کے انتقال کے بعد اس کی بیوی نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ، میڈیا بھی حرکت میں آ گیا اور جب دوا کو لیب میں بھیجا گیا ، تو رپورٹ آئی کہ یہ صرف شہد ہے ۔ یعنی دو سو یا تین سو روپے کا شہد پینتیس ہزار روپے میں فروخت کر کے مریض کا استحصال کرتے ہوئے اس ڈاکٹر کو ذرا بھی شرم نہیں آئی اور اس کا اشتہاری پروگرام پیش کرتے ہوئے ماڈل کا بھی دل نہیں پسیجا ۔ سب کو روپیہ پیارا ہے ، خوا وہ کیسے بھی آئے ۔
آج کل ایسے ہی امراض کے نام سے بازار میں کئی اشتہاری دوائیں آ رہی ہیں ، جن کے تعلق سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہربل ہے ، کوئی مضر اثر (سائڈ افیکٹ) نہیں ۔ یہ درست ہے ، مگر کیا ان دواؤں کے استعمال سے مریض کو مرض سے راحت ہو جاتی ہے ۔ ٹی وی چینل پر ایک بار اشتہار دکھا دینے سے کروڑوں کی آبادی والے ملک میں اگر دس ہزار افراد نے بھی دوا خرید لی ، تو کمپنی کا فائدہ ہو ہی گیا ،مگر مریض کو فائدہ ہو یا نہ ہو ، اس سے انہیں کیا ، وہ تو اپنا مال آن لائن بیچ چکے ہیں ، اب آپ شکایت کے لیے رابطہ کرتے رہ جائیے ۔
اس تعلق سے ہم اپنے ذاتی تجربات بیان کر رہے ہیں ، تاکہ دیگر افراد با خبر ہو جائیں اور ایسے کسی جھانسے میں نہیں آئیں ۔
ہماری والدہ کی طبیعت ناساز ہو گئی ، تمام رپورٹ نارمل تھیں ، بس انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا ، سارے ڈاکٹر پریشان تھے کہ ماجرا کیا ہے ؟ ایسے میں ہمارے بھائی کے ایک دوست عبدالرحیم قاضی نے بتایا کہ بالکل ایسی ہی صورت حال میری والدہ کی بھی ہو گئی تھی اور ہمارے ایک دوست ڈاکٹردیشمکھ ہیں ان کی دی گئی دواؤں سے وہ ایک مہینے میں ٹھیک ہو گئیں اور اب پہلے سے زیادہ صحت مند ہیں ۔ بہر حال ان کے ڈاکٹر دوست دینیش دیشمکھ (دواؤں کی مارکٹنگ کرتے ہیں ) کو بلوایا گیا اور دوئیں لی گئیں ، والدہ کی پندرہ دن کی دوا کے چھ ہزار روپے لیے اور چونکہ ہمیں آرتھرائٹس کی شکایت ہے ، تو ایک ماہ کی دوا دیتے ہوئے دو ہزار روپے لیے ۔ والدہ کا تو دس ہی دنوں میں انتقال ہو گیا ۔ ہم نے ایک ماہ کی دوا برابر استعمال کی ۔ایک بار ہمارے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ کیپسول کو کھول کر دیکھا جائے ، جب کیپسول کو کھولا ، تو اس میں صرف ہلدی کا پاؤڈر تھا ۔ اس تعلق سے جب ہم نے ڈاکٹر دنیش دیشمکھ سے بات کی ، تو انہوں نے کہا کہ یہ ہر بل ہے ، تو ہلدی تو ہوگی ہی ۔ یعنی انہوں نے پچاس گرام ہلدی کا پاؤڈر ہمیں دو ہزار روپے میں یہ کہہ کر فروخت کر دیا تھا کہ اس سے آرتھرائٹس کا مکمل علاج ہو جائے گا اور کبھی جوڑوں میں درد نہیں ہوگا۔
ہمارے والد گزشتہ چار سال سے فالج کا شکار ہیں ، بہت علاج کروایا اور مایوس ہو کر بیٹھ گئے ۔ بھائی کے ایک دوست نے بتایا کہ ایک حکیم صاحب ہیں ، جو فالج زدہ مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور مریض پندرہ دنوں میں چلنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔ یہ سنتے ہی حکیم صاحب کو بلوایا گیا ۔ وہ آئے نبض دیکھی اور اپنے جھولے میں سے دو بوتلیں اور چند پڑیا تھما کر ساڑھے تین ہزار روپے لے کر چلتے بنے ۔ ہم نے دیکھا کہ بوتلوں پر لیبل نہیں ہے ، مگر ایک بوتل میں عرق کاسنی اور دوسری بوتل میں عرق بادیان ہے اور پڑیا میں جو یونانی گولیاں تھیں ، ان میں سے ایک سے سونٹھ اور کالی مرچ کی مہک آ رہی تھی ، دوسرے ہی دن حکیم صاحب کو ہم نے اپنی شناخت بتائے بغیر ایک مریضہ کی حیثیت سے اپنے گھر بلوایا ۔ وہ بھی خوشی خوشی چلے آئے یہ جان کر کہ چلو ایک بکرا اور پھنسا ۔ ہم نے حکیم صاحب کا امتحان لنے کی خاطر کہا کہ’’ آپ حکیم ہیں ، تو نباض بھی ہو ںگے ہماری نبض دیکھ کر بتائیے ، ہم کس مرض میں مبتلا ہیں ؟ ‘‘حکیم صاحب سٹپٹا گئے اور کہا میں ’’اتنا بڑا حکیم نہیں ہوں کہ نبض دیکھ کر بتا سکوں ۔‘‘ ہمارا سوال تھا ،’’ تو آپ کتنے بڑے حکیم ہیں ؟ کیا علاج کے نام پر صرف بڑی بڑی رقمیں اینٹھ سکتے ہیں ؟ـ‘‘ یہ سنتے ہی حکیم صاحب نے نہایت ہی بے شرمی سے کہا ۔’’ ہاں ، میں لوٹ مار حکیم ہوں ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی ہم نے اپنا آپا کھو دیا اور ایک دن قبل ، وہ جو ہمارے والد صاحب کو جعلی دوائیں دے کر ساڑھے تین ہزار روپے لوٹ کر لے گئے تھے ، سیدھے اس حوالے سے بات کی اور ان سے دریافت کیا کہ’’ ان دو بوتلوں میں  عرق بادیان اور عرق کاسنی نہیں ہے ؟ ہم نے اسے سونگھ کر پہچان لیا ہے۔‘‘ کہتے ہوئے حکیم صاحب کا گریبان پکڑ لیا ، حکیم صاحب نے فوراً اعتراف کر لیا ’’ آپ صحیح کہہ رہی ہیں ، یہی ہے ، مگر خدا کے لیے مجھے بخش دو ، میں آپ کی رقم واپس کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ ’’ہم نے کہا واپس نہیں دوگے، تو چوراہے پر ساڑھے تین ہزار جوتے کھانے کے لیے تیار ہو جانا ۔ ‘‘ یہ حکیم صاحب ہفتے میں ایک بار ملاڈ سے ممبرا آتے ہیں اور ہوٹل ساحل میں بیٹھ کر مریضوں کا علاج نہیں استحصال کرکے لوٹتے ہیں ، ان کے بھی ممبرا میں ایجنٹ پھیلے ہوئے ہیں ، جو مریضوں کو پھانس کر اپنا کمیشن بنا لیتے ہیں ۔
اکثر ٹی وی چینل پر کڈوس کی دواؤں کا اشتہار آتا ہے ، ذیا بطیس اور آرتھرائٹس کی دواؤں کا ۔ آرتھرائٹس کے لیے ان کی دوا ہے ۔ V1(Victory over pain) تین مہینے کا کورس دوا کی قیمت ساڑھے تین ہزار روپے ۔ان کا دعوا ہے کہ زندگی میں دوبارہ کبھی جوڑو ںکا درد نہیں ہوگا ، یہ لوگ اپنے ڈاکٹر کا نمبر بھی دیتے ہیں ، تاکہ مریض سے با قاعدہ بات ہو سکے ، مگر ان کا ڈاکٹر کبھی مریض کے رابطے میں نہیں آتا اور اگر کال پر کوئی مل جائے ، تو وہ یہ کہتا ہے کہ اس کے ساتھ فلاں دوا اور منگو لیجیے ، آپ کا کیس ذرا مختلف ہے ، تو اس سے یقیناً آرام آ جائے گا اور اس کے لیے آپ کو صرف دو ہزار وپے دینے ہوں گے ۔ تین ماہ کا کورس پورا کرنے کے بعد میری رپورٹ کے مطابق RA میں بجائے کمی ہونے کے اضافہ ہو گیا ۔ کڈوس کی دوا شروع کرنے سے پہلے آر اے فیکٹر ۳۰۰ ؍ تھا اور دوا کھانے کے بعد ۵۷۶؍ ہو گیا ۔ آر اے فیکٹر کے بڑھ جانے سے آرتھرائٹس یعنی جوڑوں کا درد شروع ہو جاتا ہے یا بڑھ جاتا ہے ۔ میں ایسے موقع پر ڈاکٹر دھریندر کاٹکے ، ڈاکٹر شلپی کاٹکے کے ساتھ ڈاکٹر ونود کا بھی شکریہ ادا کروں گی کہ آروگیہ ہاسپٹل میں جب ہم نے اپنا آرتھرائٹس کا علاج کروانے کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس کا مکمل علاج نہیں ہے ، آپ کسی اور پیتھی کی جانب رجوع کریں ۔ اسے کہتے ہیں اپنے پیشے سے ایمانداری ۔
ہم نے ہر پیتھی سے رجوع کیا اور تین ماہ یا چھ ماہ کا کورس مکمل کر لیا ، مگر علاج کسی سے بھی نہیں ہو سکا ، ایلوپیتھی نے تو پہلے ہی ہاتھ اٹھا دیے کہ اس میں علاج نہیںہے ۔ یونانی والوں نے بڑے بڑے دعوے کر کے ہمیں خوب لوٹا ، اسی طرح آیور وید والوں نے بھی بڑے دعوے کیے اور مہنگی دواؤں کا چورن پکڑا دیا ، کسی میں ہلدی پاوڈر تو کسی کیپسول میں سونٹھ کا پاوڈر بھر کے دے دیا ۔
اکثر موٹاپے کو کم کرنے کی دوائیں ، حربے اور اشیا بھی فریب ہی ہے ، اشتہار میں جن لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے ، وہ اشتہاری کمپنی یا پروڈکٹ کی کمپنی ہی کے افراد ہوتے ہیں اور اشتہار بہترین آفٹر افیکٹس کا کمال ہوتا ہے ۔ نظر کا دھوکا ۔
کسی بھی اشتہاری ہربل پروڈکٹ پر کبھی اعتبار نہیں کریں ، یہ اسی لیے ہوتے ہیں کہ مریض کی تکلیف کو دیکھ کر اس کا جذباتی استحصال کر کے اپنا الو سیدھا کر سکیں ۔ یہ مضمون خاص طور سے اس لیے تحریر کیا گیا ہے کہ جس تکلیف اور تجربے سے ہم دوچار ہوئے ہیں ، اس سے اور مریضوں کو تکلیف نہ ہو ، اور بے جا لوٹ مار کا شکار نہ ہو جائیں ۔ ایسے ہی تجربے سے گزرے ہوئے افراد کی روداد ہم یہاں ضرور شائع کریں گے ، اپنی روداد اپنی زبان میں لکھ کر ہمیں بھیج دیجیے ، تاکہ لوٹ مار کا یہ کاروبار بند کروایا جا سکے اور کسی مریض کا استحصال نہیں ہو سکے ۔
مضمون درج زیل آئی ڈی پر بھیج دیں ۔سچائی پر مبنی ہو اور ہو سکے تو تصاویر بھی بھیج دیں ۔ ہم ایسے ہی مظلوم مریضوں کے ساتھ ہیں ۔
dalvishirinshirin@gmail.com

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com