بڑھتی ہوئی آلودگی اور احتیاط ، بچوں کے والدین محتاط رہیں 

بڑھتی ہوئی آلودگی اور احتیاط ، بچوں کے والدین محتاط رہیں 

بھارت میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، یہ مسئلہ صرف بھارت ہی کا نہیں بلکہ دنیا کے ان ممالک کا بھی ہے ، جہاں بڑھتی آبادی کےساتھ آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ان میں سب سے اہم ہے فضائی آلودگی ۔ روز بروز فیکٹریوں کی بڑھتی تعداد اور سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے اضافے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسے روکنا ، بے حد مشکل ہے ۔ جس رفتار سے فضا میں آلودگی کا اضافہ ہو رہا ہے ، اسی رفتار سے سڑک کے کناروں ، خالی جگہوں ، اسکول کے دالان اور گھروں کے آس پاس پیڑ پودے لگانے کا کام نہیں ہو رہا ہے ، بلکہ اس کے برعکس جنگلوں کی کٹائی ہو رہی ہے ، نئی تعمیرات کے لیے پیڑوں کو کاٹا جا رہا ہے ، جبکہ فضائی آلودگی کو کم کرنے میں پیڑ پودے معاون ہوتے ہیں ۔
روز بروز پانی بھی آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور پانی کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے حکومت نے کئی طریقے اختیار کر لیے ہیں ، مگر پھر بھی پانی کے لیے گھر میں اچھے فلٹر کا ہونا لازم ہے اور نہیں ، تو پانی کو ابال کر پینا چاہیے ۔ جو لوگ پانی کے تعلق سے لاپروا ہوتے ہیں ، وہ اکثر مختلف امراض میں گھرے ہوتے ہیں ۔ بہر حال پانی کے لیے ہم فلٹر استعمال کر سکتے ہیں یا ابال کر پی سکتے ہیں ، مگر فضائی آلودگی کے لیے کیا کر سکتے ہیں ؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔
ابھی اگر یہ اعلان کر دیا جائے کہ ہر پیڑ سے آپ کو مفت وائی فائی سہولت مل سکتی ہے ، تو ہر گھر ہی نہیں گھر کی ہر کھڑکی سے باہر ایک پودا نظر آئے گا ، ہر انسان کم از کم ایک پیڑ یا دو چار پودے ضرور لگا دے گا ، مگر وائی فائی سے زیادہ اہم ہے ہماری زندگی کے لیے صاف ستھری ہوا ، جس میں ہم سانس لے سکیں ، اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ، جان ہے ، تو جہان ہے ، وائی فائی بھی تب استعمال کر پائیں گے ، جب زندگی ہوگی ۔
بھارت میں آلودگی کی سطح تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے بچوں میں سانس لینے سے متعلق بیماری اور الرجی کی شکایتیں بڑھ رہی ہیں۔ بچوں کی صحت کے لیے والدین کو صحیح احتیاطی تدابیر برتنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ آلودگی کی وجہ بہت سے لوگوں کو سانس لینےمیں دشواری اور پھیپھڑوں کی دیگر بیماریاں ہو رہی ہیں وہیں، ایک تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اوسط سے زیادہ طالب علموں کو آنکھوں کی تکلیف اور هائپرٹینشن کی شکایتیں پیدا ہو رہی ہیں، جس کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق چترنجن نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ۲۰۰۲؍ سے ۲۰۱۰؍کے دوران کیے گئے تجربےمیں پایا گیا کہ ہندستان کے کئی شہروں، خاص طور پر دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بہت بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی سے فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے سرپرست کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ اس میں سرکاری سطح پر اقدام و عمل کی ضرورت ہے۔ لیکن سرپرست اپنے بچوں کی صحت پر نظر رکھ سکتے ہیں اور آلودگی کے منفی اثرات کو سمجھ کر وقتاً فوقتاً ان کا چیک اپ کر کے صحیح احتیاط و تدابیر کر سکتے ہیں ۔
چونکہ بچوں کا جسم اور مزاج مدافعت کے لیےمکمل طور پر تیار نہیں ہوتا ہے،اسی لیے وہ متعدی بیماریوں کے شکار جلدی ہو جاتے ہیںاور یہی وجہ ہے کہ وہ آلودگی کےعناصر کو جلد قبول کر لیتے ہیں اور پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ چونکہ بچے زیادہ جسمانی سرگرمیوں میں یعنی گھر سے باہر کھیل کے میدان یا اسکول کے میدان میں کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں ، اسی کے ساتھ وہ روازانہ اسکول آنے جانے کے لیے ان ہی سڑکوں پر سفر کرتے ہیں ، جہاں ٹریفک کا دھواں پھیلا ہوا ہوتا ہے ، جس سےوہ تیز سانس کے ذریعہ زیادہ آلودہ ہوا اپنے پھیپھڑوں میں لیتے ہیں، جو ان کی صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے ۔ بھارت میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کو روکنا بھی نا ممکن ہے اور اس سے بڑھنے والی فضائی آلودگی کو روکنا بھی مشکل ہی ہے ۔ فضائی آلودگی کے تعقل سے ایک تحقیقی مضمون میں یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ بچوں کے پھیپھڑوں اور بلڈ پریشر کی با قاعدہ جانچ کروانی چاہیے ۔
‘دہلی میں اسکول کے بچوں میں پھیپھڑوں سے متعلق بیماری کی شکایتیں بڑھنے کی وجہ سے نو سال سے زیادہ عمر کے تمام بچوں کو سال میں کم از کم ایک بار پھیپھڑوں کی جانچ کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور جنہیں پھیپھڑوں سے متعلق شکایتیں ہیں، انہیں مسلسل مانیٹر کیا جانا چاہئے۔ اسکولوں میں جو میڈیکل سہولیات ہیں، ان میں صحت یونٹ مختلف ہونا چاہئے،اس یونٹ میں سپیروميٹر اور تربیت یافتہ ٹیکنیشین ہونے چاہئے۔
آلودگی کی وجہ سے ہونے والے مسائل کی فہرست میں بلڈ پریشر پر اس کا اثر غیر معمولی طور پر دیکھا گیا۔’’دہلی میں بچوں میں هائپرٹنشن کا فیصد بڑھ رہا ہے، ایسے میں اسکولوں، میڈیکل سینٹریا دیگر مقامات پر سال میں کم از کم دو سے تین بار بار بچوں کو بلڈ پریشر چیک کروائے جانے کی ضرورت ہے۔ هائپرٹنشن یا موٹاپے کے شکار بچوں کے لیے یہ چیک اپ اور کم وقفہ میں باقاعدگی سے ہونا چاہئے۔ چونکہ هائپرٹیشن کی وجہ دل کا سائز بڑھ جانے یا گردے اور آنکھوں میں دیگر بیماریوں کےہونے کے مسائل بھی ہو سکتےہیں تو ان سب کی جانچ ہوتے رہنا چاہئے۔
پالیسی اور منصوبہ بندیکے معامالت کے مد نظر ، اس تحقیق میں مشورہ دیا گیا ہے کہ نئے اسکولوں کی تعمیر کے وقت توجہ دی جائے کہ یہ اسکول بھاری آلودگی والےعلاقوں جیسے فیکٹری یا سڑکوں سے قریب نہ بنائے جائیں۔بچوں کے تعلیمی ادارے اور کھیل کے میدان فیکٹریوں اور بڑا شاہراہوں سے دور ہونا چاہیے ۔
اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پرلائک اور شیئر کیجیے ، تاکہ یہ معلومات اوروں تک بھی پہنچ سکے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com