صحت مند رہنے کے لیے غذائیت کے لیبل ضرور جانچ لیا کریں 

صحت مند رہنے کے لیے غذائیت کے لیبل ضرور جانچ لیا کریں

تیز رفتار زندگی اور خواتین کا بر سر روزگار ہونا اور اس کے علاوہ بہت سی مصروفیت نے ڈبہ بند غذا کے استعمال کو عام کر دیا ہے ۔
ایک سروے کے مطابق لوگ کھانے کے تعلق سے صحت مند اقدام کرنا چاہتے ہیں، لیکن آج کل دوکانوں اور شاپنگ مال میں پروسیسڈ اور پیک کھانے خریدنے کے معاملے میں ہمیشہ یہ آسان نہیں ہوتا۔ فروزن یا كین میں ملنے والی یا پلاسٹک اور کاغذ کے کارٹن میں بند غذا اب ہمارے روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور اس وقت تک بنی رہے گی جب تک کسی قہر کی وجہ سے دنیا بھر کی تمام فیکٹریاں تباہ نہ ہو جائیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک صحیح اشیا منتخب کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہی ہے کہ جب بھی ایسے کھانے کی اشیاء خریدنے کی ضرورت پیش آئے ، تو کین کے لیبل پر غذائیت کی رپورٹ کے اندراج کو سمجھیں۔ یہ اس وقت اور زیادہ ضروری ہے جب اپنے خاندان یا بچوں کے لیے خریداری کی جا رہی ہو، کیونکہ بچوں کو صحیح غذائیت نہ ملنے پران کی صحت پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں اور وہ زندگی بھر کے لیے متاثر ہو سکتے ہیں ۔
یہ بات پہلے ذہن نشین کر لیں کہ محض برانڈ کے دعووں کو زیادہ درست نہیں ماننا چاہیے ، کیونکہ یہ دعوے ان کے اشتہیاری پینترے ہو سکتے ہیں ، سچ نہیں ہو سکتے ۔ مثلاً ’’ وٹامن سے بھر پور‘‘ ’’ پروٹین سے بھر پور‘‘ وغیرہ یہ جملے اکثر غذائی پیکٹ ہر تحریرہوتا ہے ، یا ٹی وی اور اخباری اشتہارات میں یہ جملہ سنائی اور دکھائی دیتا ہے ۔ کوئی کمپنی دعوا کرتی ہے کہ ’’ خالص گندم سے بنا ‘‘ کوئی دعوا کرتا ہے ، چربی نہیں ہونے یا ایسے ہی نقصان دہ اجزا کے استعمال نہیں کرنے کا اور مفید اشیا کے استعمال سے غذائی اشیا بنانے کا دعوا کیا جاتا ہے ۔ ‘
بھارتی کھانے کی تحفظ اور معیارات اتھارٹی نے بھارت میں پیک فوڈ کے لیےلیبل کے لیے نا گزیر ہدایات بنائی ہیں۔
غذائیت کے بارے میں جاننے کے لیےپیکٹ پر لکھی معلومات کو سمجھنا سیکھیں۔ صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے تحت بھارتی کھانے کی حفاظت اور معیارات اتھارٹی نے تمام طرح کے پیکٹوں پر فوڈ پر کلو كیلوريز میں توانائی ویليوکی قدر کو ظاہر کرنے کی ہدایات دی ہیں، جس میں فی ۱۰۰گرام یا فی۱۰۰؍ملی پر پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، شکر اور چربی وغیرہ کی مقدار تحریر کی جاتی ہے۔ اس نظام کو سمجھ کر اسےچریٹڈ چربی اور اضافی شکر جیسی صحت کے لیے نقصان دہ مادہ پر مشتمل کھانے کی اشیاء سے گریز کریں ۔
صرف شکر اور چربی ہی نہیں بلکہ نمک میں پایا جانے والا سوڈیم بھی انسانی صحت کے لیےتشویش کی وجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے دل کی بیماریاں اور ہائی بی پی جیسےمرض لاحق ہو سکتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ کئی طرح کے پیکٹ فوڈ جیسے چپس، پاپکارن وغیرہ نمکین اشیا میں زیادہ مقدار میں نمک ہوتا ہے اور بہت سے برانڈ پیکٹ پر اس کا ذکر تک نہیں کرتے کیونکہ اتھارٹی نے سوڈیم کے ذکر کو ضروری نہیں سمجھا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے زوردار سفارش کی جاتی ہے کہ بالغوں کو دن بھر میں ۲؍رام سوڈیم یعنی ۵؍گرام نمک سے زیادہ اپنی خوراک میں شامل نہیں کرناچاہئے اور بچوں کو اس سے کافی کم۔ ڈیڑھ گرام روزانہ سے بھی کم استعمال ہو ، تو یہ مثالی ہوگا ، مگر یہ کہنا آسان لگتا ہے۔
وٹامن اور معدنیات جیسے ضروری غذائی اجزاء کے لیے کئی بار یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ ان کی کتنی مقدار کافی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ان کی یونٹس ملی گرام یا مائیکروگرام میں درج ہوں. لیبل پر غور سے دیکھنا چاہیے اور دیکھیں کہ روزمرہ کی ضروری غذائیت اس پر درج ہے یا نہیں۔ کھانے کی اشیاء کے مینوفیکچررز کے جھوٹے دعووں اور ان کے شکار نہ بنیں۔ مثال کے طور پر ایک گرینولا کین پر لکھا ہو سکتا ہے وہ وٹامن اور معدنیت سے بھرپور ہے ،لیکن ہو سکتا ہے کہ اس میں موٹی اور شکر زیادہ ہو۔ اس سے بہتر ہے کہ بہتر غذائیت کے لیے تازہ گری دار میوے، پھل، سبزیاں وغیرہ خریدی جائیں۔
آخر میں پروٹین چیک کرنا نہ بھولیں۔اگر پروٹین زیادہ ہوگا تو وہ کھانا صحت کے لیے زیادہ منافع بخش ہو جائے گا۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com