فضائی آلودگی سے بچے پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں 

آلودگی کئی قسم کی ہوتی ہے ، زمینی ، آبی اور فضائی ۔ زمینی آلودگی کو دور کیا جا سکتا ہے اور آبی کثافت کو بھی کسی حد تک صاف کیا جا سکتا ہے ۔ پینے کے پانی کے لیے فلٹر کا استعمال کرنے یا پانی کو ابال کر پینے سے بہت سے نقصانات سے ہم محفوظ رہ سکتے ہیں ، مگر فضائی آلودگی سے حفاظت کیسے ممکن ؟
فضائی آلودگی صحت پر بہت بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے اور لاکھوں ہندستانی بچے شہر کی زہر آلودہ ہوا سے پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ چونکہ بچے بڑوں کی نسبت زیادہ دیر تک گھر سے باہر رہتے ہیں اور ان کے جسم اور اعضا کے بڑھوتری کا وقت ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ زہر آلود فضا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔
’’ لنگ ہیلتھ اسکرننگ ٹیسٹ ‘‘ ( ایل ایچ ایس ٹی) نے یہ تعین کیا ہے کہ پھیپھڑوں میں کتنی تیزی سے ہوا اندر جاتی ہے اور باہر آتی ہے اور کتنی دیر تک پھیپھڑے ہوا کو اندر روک سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا کہ کتنے اچھے انداز سے پھیپھڑے آکسیجن لیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج کرتے ہیں ۔ اس معائنے سے پھیپھڑوں کے امراض کا علم ہو جاتا ہے اور اس کی متاثرہ حالت کی بھی جانچ ہو جاتی ہے ۔ ایل ایچ ایس ٹی کی جانچ کے منفی نتیجے کا مطلب پھیپھڑے خراب ہیں یا پھر پھیپھڑوں سے متعلق کئی بیماریوں کا اندیشہ زیادہ ہے ۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی ملک میں سب کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے اور یہ بچوں کے لیے مزید خطرناک صورت حال ہے۔ کیونکہ ان کے جسمانی اعضا ابھی کمزور ہیں اور ان کی قوت مدافعت ابھی اس قدر مضبوط نہیں ہوئی ہے ۔ لہٰذا اس وقت یہ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اس مسئلے کے تعلق سے سنجیدگی کے ساتھ لوگوں کو آگاہ کیا جائےاور اس سے نمٹنے کی کوششوں کو کارآمد بنایا جائے ۔
ڈمپنگ گراؤنڈ میں کوڑے کے جلنے سے اور ٹریفک کے دھویں سے ، جس قدر فضائی آلودگی ہو رہی ہے ، اس پر قابو پانا بے حد ضروری ہے ۔ شہروں میں پیڑ پودے لگانے کے رجحان کو بڑھانا ہوگا اور اس طرف توجہ دینا لازم ہے ۔
سروے کے مطابق ۳۵؍ فیصد بچے ،جن کی رپورٹ بہت خراب ہے ، یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں ہوا کا معیار بہت خراب ہے ۔ رپورٹ میں جو نتائج سامنے آئے ہیں ان میں سب سے خراب نتیجہ دہلی کا ہے ۔ کیونکہ دہلی کا نتیجہ ۲۱؍ فیصد بنگلور میں ۱۴؍ فیصد ممبئی میں ۱۳؍ فیصد اور کول کاتا میں ۹؍ فیصد ہے۔
فضائی آلودگی میں اضافہ کے سبب سانس کی بیماریاںگلے اور ناک کان کے امراقض  ،جلد اور آنکھوں میں الرجی ، نسیان ، ڈپریشن پھیپھڑے کی بیماریاں اور دل کے دورے جیسے امراض میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com