فلو کس طرح پھیلتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کے کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے سے منہ سے جو آبی بخارات نکلتے ہیں ،اس سےفلو کے جراثیم یا وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتے ہیں۔منہ یا ناک سے سانس لیتے وقت اگر یہ بی بخارات  دوسرے شخص کے جسم میں داخل ہو جائیں تو وہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔متاثرہ جگہ کو چھونے کے بعد اپنے منہ یا ناک یا آنکھوں کو چھونے والے شخص کو بھی انفیکشن ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے وائرس جگہ یا چیز کو چھونے سے بھی پھیلنے لگتے ہیں۔
متاثرہ آدمی مرض شروع ہونے کے ایک دن پہلے خود بیماری کی علامات محسوس کیے بغیر ہی کسی دوسرے آدمی کو متاثر کر سکتا ہے اور بیمار ہونے کے۵ سے۷ دن تک مسلسل اس وائرس پھیلا سکتا ہے۔بچے ٹھیک ہونے اور علامات ختم ہونے کے 7 دن کے بعد بھی وائرس پھیلا سکتے ہیں۔جس شخص کوفلو ہوا ہو وہ بیماری کی علامات پیراسيٹامول یا آئی بو بروفین جیسی ادویات کھائے بغیر اپنے آپٹھیک ہونے کے بعد بھی ایک دن تک متاثر رہتا ہے۔
فلو سے بچنے یا پھیلنے سے روکنے کے لیےکیا کیا جائے؟
فلو سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس شخص کے رابطہ میں کبھی نہ آئیں جو اس مرض میں مبتلا ہو، لیکن یہ مشکل ہے نا ممکن  نہیں۔صحت مند شخص کو دفتر، بس یا میٹرو، كلاس روم اور گھر میں کسی بیمار رشتہ دار سے یہ مرض لگ سکتا ہے۔اس شخص سے دور رہیں جو کھانسی ،چھینک یا کسی اورعلامت سے مرض کی عکاسی کر رہا ہو۔چونکہ فلو ان  ہی افراد سے پھیلتا ہے جب وہ ایک دوسرے کے آس پاس رہتے ہیں، برسات اور موسم سرما کے مہینوں میں گھٹن زدہ یا محدود مقامات میں نہ جائیں۔
اگرچہ فلو ہوا سے پھیلتا ہے، پھر بھی صابن سے ہاتھ دھونے یا سیناٹائزر کا استعمال کرنے سے اس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے | ایسے کسی دروازے کی کنڈی، لفٹ بٹن، دستانے یا برتن جن کا استعمال کسی مریض شخص کی طرف سے کیا گیا ہو، ان کو چھونے والے شخص کو منہ، ناک یا آنکھوں پر ہاتھ نہیںلگانا چاہیے۔
یہ ضروری ہے کہ جنہیںفلو مرض ہوا ہو وہ گھر پر ہی رہ کر ٹھیک ہوں بجائے اس کے کہ وہ دفتر یا اسکول جا کر دوسرے لوگوں کو متاثر کریں۔دفتروں اور اسکول والوں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ لوگوں کو گھر پر رہنے کی اجازت دیں ۔
اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کوپسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر ہمارے صفحہ کو لائک اور شیئر کریں، کیونکہ اس سے اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com