مضبوط کالے گھنے بالوں کا راز

مضبوط کالے گھنے بالوں کا راز

انسان اگر صحت مند ہو ، توجسم کے تمام اعضا پر اس کا اثر دکھائی دیتا ہے ۔ اسی طرح بالوں اور ناخن کا تیزی سے بڑھنا بھی صحت کی علامت ہے ۔ مگر کیا بات ہے کہ آج کے دور میں اچھے خاصے صحت مند انسانوں کے سر سے بال غائب ہو رہے ہیں ۔ کم عمر میں ہی مردوں کے گنج آ رہا ہے اور خواتین بھی اپنے بالوں کو کھو رہی ہیں ۔ آج کل نوجوانوں کے بال سفید ہو رہے ہیں ۔ آج سے چالیس پچاس سال پیچھے دیکھیں ، تو بہت کم مرد ایسے ہوتے تھے ، جن کے گنج نکل آئے اور کم عمر میں بال سفید ہونا شروع ہو جائیں اور لڑکیاں تو لمبے گھنے سیاہ بالوں والی ہی ہوا کرتی تھیں ۔ آج بھی اگر ہم اپنے خاندان کے بزرگ خواتین اور مردوں کی جانب دیکھیں ، تو ان کے بال آج کے نوجوانوں کے مقابلے سیاہ اور گھنے نظر آئیں گے ۔ آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ آج سے تیس سال قبل بھی اگر بالوں کی ڈائی کے اشتہار ات آتے تھے ، تو ادھیڑ عمر کے لوگوں کو دکھایا جاتا تھا اور آج ہیر ڈائی کے اشتہارات میں بھی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دکھا ئی جاتی ہیں ۔ نئی نسل کے بالوں کی تباہی کی وجوہات کئی ہو سکتی ہیں ، اگر ان پر قابو پایا جائے ، تو ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ بالوں کی کمزوری کے جو مسائل ہیں وہ حل ہو جائیں ۔
ہم آج بھی اپنے گھروں میں ۷۰؍۸۰؍ سال کے یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ ان کے بال مضبوط ہیں ، پوری طرح سفید نہیں ہوئے ہیں ، تو اکثر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ااُن دنوں اچھا اور اصلی مال کھایا ہے ، اس لیے ایسے ہیں ۔ کئی بزرگ ایسے نظر آتے ہیں ، جنہیں عینک کی ضرورت نہیں لاٹھی کی ضرورت نہیں ، ان کے جوڑوں میں در د نہیں ہوتا ، وغیرہ وغیرہ اور ان کے مقابلے آج کی نسل کمزور نظر آتی ہیں ۔ آئیے ہم اس بات پر غور کریں کہ ایسا کیوں ؟
ہم نے پہلے ہی درج کر دیا ہے کہ کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ پرانے زمانے کےلوگ اپنے بالوں کو دھونے کے لیے کسی بھی قسم کا شیمپو نہیں لگایا کرتے تھے ، کیونکہ اس وقت مارکٹ میں یہ چیزیں دستیاب نہیں تھیں ، زیادہ تر ریٹھا بھگو کر اس سے بال دھویا کرتے تھے یا پھر جس صابن سے نہاتے تھے اسی سے بال دھوتے تھے۔ بالوں کو اچھی طرح سکھانے کے بعد ناریل یا سرسوں کا گھانی سے نکلا ہوا تیل لگایا کرتے تھے ۔ ریفائنڈ تیل نہیں ہوا کرتا تھا ۔ گھر کے پکے ہوئے کھانے خاص طور سے روٹی ، پراٹھے ، سبزیاں ، گوشت ، انڈے ، مچھلی وغیرہ غذا میں شامل ہوا کرتا تھا اور ساتھ ہی کچی سبزیاں چلتے پھرتے کھایا کرتے تھے ۔
ایک بار ایک حکیم صاحب سے ہم نے دریافت کیا کہ بازار میں مختلف قسم کے تیل مل رہے ہیں ، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کے بالوں کو لمبا اور گھنا بنا سکتے ہیں ، کیا آپ بتا سکتے ہیں ، کہ اس میں کون سا تیل استعمال کرنا بہتر ہوگا ؟
حکیم صاحب کا جواب تھا ’’ کسی بھی قسم کا خوشبو دار تیل بالوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، آپ سادہ ناریل ، سرسوں یا بادام کا تیل لگا سکتے ہیں ، مگر سب سے زیادہ آپ کو اپنی غذا پر دھیان دینا ہوگا ، بال لمبے گھنے خوبصورت ہوں ، اس کے لیے گاجر ، چقندر اور لوکی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے ۔ یا ان تینوں کا جوس پیا جائے ۔ ساتھ ہی بالوں کو دھونے کے لیے بہتر ہوگا کہ ریٹھا اور شکاکائی کا استعمال کیا جائے ۔ اس کے بعد آپ ایک سال میں خود بخود اپنے بالوں میں تبدیلی دیکھیں گے ۔ ‘‘ حکیم صاحب نے بات صحیح کہی تھی ، کیونکہ برانے زمانے میں یہی سب طریقے رائج تھے اور ایک اہم بات یہ تھی کہ اس دور میں پانی بھی خالص ہوا کرتا تھا ، کنویں ، ندی یا تالاب کا ۔ آج بڑے شہروں میں جو پانی ہمارے گھروں تک پہنچ رہا ہے ، اس میں انسانی صحت کے خیال سے جراثٰم کش دواؤں کا استعمال کیا جاتا ہے ،ہو سکتا ہے ، وہ بھی کسی کی جلد کے مناسب نہ ہو ، مگر اصلی تیل یعنی ریفائنڈ نہ ہو ، ملاوٹ نہ ہو ،تو وہ بالوں کے لیے بے حد مفید ہے ،اس کے علاوہ اچھی غذا کا بھی اہم رول ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com