ممبئی کے ڈمپنگ گراؤنڈ ۔۔۔؟ کوڑے کو ری سائیکل کیا جائے

انسانی سماج اس وقت چو طرفہ آلودگی سے گھرا ہوا ہے ۔آلودگی صرف وہی نہیں ہوتی جسے ہم گھر سے کوڑے کی شکل میں نکال دیتے ہیں اور پھروہ کسی صورت سے اس جگہ پہنچائی جاتی ہے ، جسے عام زبان میں ڈمپنگ گراؤنڈ کہاجاتا ہے ۔ ہم اس وقت بیک وقت فضائی اور پانی کی آلودگی سے بھی جوجھ رہے ہیں ۔ فضائی آلودگی نے گرمی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے پانی اور آلودہ ہوا کے ساتھ شور بھی انسانی سماج کے لیے نقصان دہ ہے ۔
آلودگی کسی بھی قسم کی ہو کرہ ارض پر رہنے والوں کی زندگیوں کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ فضائی آلودگی سے بچنے کے لیےعالمی سطح پر ہر ممکن اقدامات کیےجا ر ہے ہیں اور دنیا بھر میں رہنے والوں کو اس خطرے سے بچنے کی تدابیر بھی بتائی جا رہی ہیں تاکہ اس کا تدارک ہو سکے۔
دنیا کے گرد قدرتی طور پر اوزن کی جو تہہ ہے اس کو دھویں اور دیگر کثافتوں کی وجہ سے شدید خطرہ لاحق ہے دھویں کی آلودگی کے باعث ماحول بدل رہا ہے‘ بیماریاں پھیل رہی ہیں اور موسموں میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی جا رہی ہے یہ فضائی آلودگی ہی ہے جس کی و جہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ دھویں کی تہہ کی وجہ سے سورج کی شعاعیں صحیح انداز سے انسانی جسم تک نہیں پہنچ پاتیں۔ گرمی کی شدت کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنا شروع ہو جاتی ہے جس سے آئے دن بے وقت سیلاب آ رہے ہیں اور سمندر کی سطح بھی بلند ہونے لگتی ہے جس سے تباہ کن طوفانوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندر کی سطح بلند ہونے کے باعث دنیا کے بیشتر ممالک سطح زمین کے اندر دھنس سکتے ہیں۔
گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں فضا کو آلودہ کر رہی رہے ہیں ، مگر اس سے کہیں زیادہ فضا میں آلودگی اس وقت پھیلتی ہے ، جب کسی ڈمپنگ گراؤنڈ میں آگ لگ جاتی ہے ، کیونکہ اس کا دھواں شہری آبادی میں دورتک پھیل جاتا ہے اور دیر تک فضا میں سمایا رہتا ہے ، جو انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہے ، جس سے کئی امراض پھیل سکتے ہیں ۔ ایسے ڈمپنگ گراؤنڈ کے اطراف کی بستیوں کے افراد گلے ، ناک اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا پائے جاتے ہیں ۔
انسانی سماج کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیےصرف حکومت پر انحصار نہیں کیا جا سکتا ، اس کے لیے ہر فرد کو آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔ درخت فضائی آلودگی کو کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں ، اسی لیے شہری انتظامیہ سڑک کے کنارے اور ڈیوائڈر پر درختوں کو لگانے کا اہتمام کرتی ہے اور اسے بارش کے موسم کےبعد باقاعدہ ٹینکر سے پانی بھی فراہم کرتی ہے تاکہ درخت صحیح سلامت رہیں ۔ شہری انتظامیہ کے اس کام میں ہر شہری معاون ہو سکتا ہے اگر وہ اپنے گھر سے نکلنے والے کوڑے پر توجہ دے ۔
اکثر کسی نہ کسی ڈمپنگ گراؤنڈ میں آگ لگ جاتی ہے اور گاڑھا دھواں فضا کو آلوقدہ کرنے لگتا ہے ،گزشتہ برس دیونار ڈمپنگ گراؤنڈمیں آگ لگ گئی تھی ، آگ لگنے کی وجہ کیا تھی ، اس کا محرک کیا تھا ، اس پر کافی بحث ہوئی ، ذرائع ابلاغ نے اس تعلق سے کئی دنوں تک خبریں نشر کیں ، مگر اس آگ سے پھیلنے والے دھویں نے اطراف کی بستی کے مکینوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا ، وہ جس فضا میں سانس لے رہے تھے اس میں کچرے کا دھواں اور اس کی بو شامل تھی ۔ وہ کئی دنوں تک صاف ہوا میں سانس نہیں لے پائے ،جس وجہ سے کئی افراد بیمار ہو گئے اور ایک چھ ماہ  کے بچے کی جان جانے کی خبر بھی شائع ہوئی تھی۔
دیونار ڈمپنگ گراؤنڈ ہی کی طرح شہر اور مضافات میں کئی اور ڈمپنگ گراؤنڈ ہیں ۔ دیونار کے علاوہ ملنڈ اور ممبرا میں بھی بڑے ڈمپنگ گراؤنڈ ہیں ۔ انسانی سماج سے نکلنے والے کوڑے کو بہر حال کہیں پھینکا جانا لازم ہے ، مگر کب تک پھینکا جائے گا اور اس کوڑے کے ڈھیر کا کیا ہوگا؟ یہ کبھی کسی نے سوچا ہے ؟ کب تک ڈھیر لگایا جائے گا ؟ روزانہ ٹنوں کوڑا نکل رہا ہے ، سینکڑوں گاڑیوں کے ذریعے گراؤنڈ تک پہنچایا جاتا ہے ، اس گراؤنڈ کو کس قدر وسیع کیا جا سکتا ہے اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہ سکتا ہے ؟جب اس کوڑے میں آگ لگ جاتی ہے ، تو انتہائی بدبو دار گاڑھا دھواں فضا میں پھیل جاتا ہے اور ماحول کو آلودہ کرتا ہے ، یہ اوزون کی تہہ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔
کوڑےکے بڑھتے ہوئے انبار پر غور کرنے اور اس تعلق سے گفتگو کے دوران یہ بات ہمارے علم میں آئی کہ شہر ممبئی میں کچھ ایسی تنظیمیں ہیں ، جو اس تعلق سے سوچ رہی ہیں اور کام کرنا چاہتی ہیں ۔ اس تعلق سے ڈاکٹر پوجا وجے سکھیجا ، جو کہ ایک غیر سرکاری تنظیم اوآئی سیس کی ایکزیکیٹیو ڈائریکٹر ہیں کہتی ہیں کہ ہمیں عوامی سطح پر کام کرنا ہوگا ، تاکہ کوڑے کے تعلق سے لوگوں میں بیداری لائی جائے ۔ انہوں نے دوران گفتگو کہا کہ اس کے لیے ہم نے سوچا ہے کہ بی ایم سی کے ۱۰۸ ؍اسکولوں سے ۲۰۰ بچے منتخب کریں گے اور انہیں تربیت دی جائے گی ، تاکہ وہ اپنے گھروں اور محلے کے لوگوں کو یہ بتائیں کہ کوڑے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے ، ایک سوکھا کچرا دوسرا گیلا کچرا ۔ سوکھا کچرا ردی بھنگار والے خرید لیتے ہیں ، مگر گیلا کچرا پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔ یہ اگر علاحدہ پھینکا جائے ، تو بی ایم سی اسے کرشر مشین میں ڈال کر درختوں اور پودوں کے لیے کھاد کے طور پر استعمال کر سکتی ہے ۔ ہو سکتا ہے ، اس پر عمل کرنے سے ڈمپنگ گراؤنڈ کی جانب جانے والے کوڑے کے ڈھیر میں کچھ کمی ہو جائے۔
ممبئی ہی کی ایک اور تنظیم ہے ’’ ہند فاؤنڈیشن ‘‘ جس کے چیئر مین  ڈاکٹر عبدالرحمن ونو نے کہا کہ ہماری تنظیم ہند فاؤنڈیشن بھی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر اس کام کی ذمہ داری لے رہی ہے ۔ انہوں نے ڈاکٹر پوجا سکھیجا کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے مزید کہا کہ سوکھے اور گیلے کچرے کو علاحدہ کیا جائے ، تو کسی حد تک مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ ہم جب اعلا تعلیم کی بات کرتے ہیں ، تو اس کے ساتھ اچھے اور صاف ستھرے ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر ہر سوسائٹی میں دو ڈسٹ بین ہوں ، ایک سوکھے کچرے کا اور دوسرا گیلے کچرے کا ، اگر سوسائٹی سوکھا کچرا ردی والے کو فروخت کر دے ، تو اس کی رقم کسی کام آ سکتی ہے اور گیلا کچرا مہا نگر پالیکااٹھا کر لے جائے ، اسے کرشر مشین سے کھاد بنا دے ،تو مہا نگر پالیکا کی جانب سے لگائے جانے والے پیڑوں کے کام آ سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ جو بڑی سوسائٹی ہیں ، وہ خود اپنی مشین خرید لیں اور اپنی سوسائٹی ہی کے پیڑ پودوں کے کھاد کا انتظام کر دیں ، تواس طرح ڈمپنگ گراؤنڈ کی جانب جانے والے کچرا کسی حد تک کم ہو سکتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالرحمٰن ونو نے مزید کہا کہ عوام میں کوڑے کے تعلق سے بیداری لانے کی ضرورت ہے ۔ اگر لوگوں کو کچرے سے ہونے والے نقصانات کے تعلق سے اور کچرے کے صحیح استعمال کے فائدے کے بارے باقاعدہ بتایا جائے، یہ مہم چلائی جائے ، تو بڑی حد تک ڈمپنگ پرقابو پایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر پوجا اور وہ خود ایسی کئی تنظیموں کو اپنے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں ، تاکہ کوڑے کے تعلق سے بیداری مہم چلائی جائے اور اس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے ۔
ڈاکٹر پوجا اور ڈاکٹر ونو نے کوڑے کی آلودگی پر قابو پانے کی بات کی ہے ۔ چلیے اس آلودگی کے تعلق سے بیداری مہم شروع کی جائے ، تو ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں ڈمپنگ گراؤنڈ کی جانب جانے والی گاڑیوں کی تعداد میں کمی آ جائے اور شہری انتظامیہ کی جانب سے لگائے جانے والے پیڑ پودے اچھی کھاد ملنے کے سبب ہرے بھرے ہو کر فضائی آلودگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوں ۔
حکومت کو اس جانب توجہ دینا چاہیے کہ گیلے کچرے کو کھاد کی شکل میں کس طرح استعمال کیا جائے ۔ اس کے لیے نگر پالیکا کے پاس مشینیں ہونی چاہیے۔ شہر میں جو بڑی رہائشی کالونیاں ہیں ، جہاں رہائش کی تمام سہولتیں موجود ہیں ،ایسی کالونیوں میںدرخت اور پودے بھی لگائے جاتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ اس میں اضافہ کریں اور اپنی کالونی سے نکلنے والے گیلے کچرے کو ان ہی پیڑ پودوں کے لیے کھاد کی شکل میں استعمال کریں ، جس کے لیے انہیں اپنی کالونی میں دو ڈسٹ بین رکھنے کے ساتھ ساتھ کرشر مشین کا بھی انتظام کرنا ہوگا۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ اس پر خصوصی توجہ سے ’’ سوچھ بھارت ابھیان ‘‘ کا نعرہ کافی نہیں ہے ، سوچھ بھارت کے لیے اقدام ضروری ہیں ۔ ہمارا ملک ترقی کر رہا ہے ، تو جدید تکنک کا استعمال کرنا چاہیے ، جیسا کہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کیاجاتا ہے ۔
دنیا کے دیگر ممالک میں کوڑا ختم کرنا مقصد نہیں ، بلکہ وہ کوڑے کو ری سائیکل کر کے اسے استعمال میں لانے کی کوشش کرتے ہیں ۔خاص طور پر اسے ایندھن کے طور پر استعمال کرنا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی حرارت سے دوبارہ قابل استعمال توانائی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
امریکی ریاست ورجنیا کی فیرفیکس کاؤنٹی میں روزانہ ہزاروں ٹن گھریلو کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ کچرا ایندھن کے طور پر استعمال کر کے اس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔فیرفیکس کاؤنٹی میں گھروں کا کوڑااکٹھا کرنےکے بعد اسے  دوبارہ قابلِ استعمال بنانےاور ٹھکانے لگانے کے لیےانتہائی جدید طریقہ اور ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ کاؤنٹی حکام کہتے ہیں کہ اس عمل کی کامیابی کا دارومدار public private partnershipہے۔بتایا جاتا ہے کہ کوڑے سے بجلی بنانے کے عمل کا آغاز گھروں اور محلوںسےکوڑا اٹھانے کے بعد اکثروبیشتر یہ کام پرائیوٹ کمپنیاں کرتی ہیں۔پہلے مرحلے میں کوڑا کرکٹ ایک transfer station پہنچایا جاتا ہے، جو کاؤنٹی کی مقامی حکومت کے زیر انتظام کام کرتا ہے۔ اورہر ٹرک یہاں کچرا پھینکنے کے لیےفیس کی شکل میں مناسب  رقم ادا کرتا ہے۔فیر فیکس کاؤنٹی میں کمپنی کےپلانٹ میں ہر سال لاکھوں ٹن کوڑا جدیدطریقے سے جلایا جاتا ہے۔
اس پلانٹ میں ہر روز تین ہزار ٹن کوڑا جلایا جاتا ہے اس کے باوجود فضائی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ماحول دوست ٹیکنالوجی اس سارے عمل کا اہم حصہ ہے۔اس طریقے سے تکلیف دہ دھواں خارج نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی شور ہوتا ہے۔ اسی لیےاس کے قریب بسنے والے مکینوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں شکایت ہوتی ہے۔
اس تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ اس پلانٹ میں پیدا کی جانے والی بجلی کمپنیوں کو فروخت کی جاتی ہے جو تقریباً اسی ہزار گھروں کے لیےکافی ہوسکتی ہے۔
 اس وقت ہمارے ملک میں بجلی کی قلت اور بحران کا رونا رویا جاتا ہے ، کئی ریاستیں لوڈ شیڈنگ کی مار جھیل رہی ہیں ، ممبئی جیسے شہر کے مضافاتی علاقے بھی لوڈ شیڈنگ کی زد پر ہیں ، تو ایسی صورت میں بڑے بڑے ڈمپنگ گراؤنڈ کے کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کے تعلق سے کیوں نہیں سوچا جاتا ؟
انسانی سماج میں آلودگی کے تعلق سے بیداری لانا اور کچرے کو قابل استعمال بنانا بھی ترقی کی ایک منزل ہے ، ترقی کی راہ پر گامزن شہراور شہری ضرور اس تعلق سے مثبت سوچ پیدا کر یں گے، تو ’’ سوچھ بھارت ابھیان ‘‘ تیزی سے آگے بڑھے گا۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com