مکمل نیند، صحت کے لیے کئی فائدے

یہ نظام قدرت ہے کہ رات آرام کے لیے بنائی گئی ہے ، اگر رات میں پوری نیند نہیں ہو سکے ، تو صحت پر اس کے مضر اثرات ہونے لگتے ہیں اور اب جدید تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ نیندصحت کے لیے بہت مفید  ہے ۔
زیادہ تر بڑی عمر کے لوگوں کو سات یاآٹھ گھنٹے سے کم سونے کی وجہ سے صحت سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو دو گھنٹے اور زیادہ سونا چاہئے اور ان سے چھوٹے بچوں کو تھوڑا سا زیادہ۔ تیز رفتار زندگی اور الیکٹرانک میڈیا کی یلغار سے بچے ، بڑے  اور بوڑھے سبھی نیند کی کمی کا شکار ہو کر بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ رات دیر تک ٹی پروگرام دیکھنا اور اب انٹرنیٹ کا استعمال عام ہو گیا ہے ، دیر رات تک دوستوں کے ساتھ چیٹ کرنا وغیرہ ایسی وجوہات ہیں ، جس سے نیند پوری نہیں ہو پاتی ۔ اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ، طالب علم پڑھائی کرنے کے لیے بھی نیند قربان کرتے ہیں ، مگر انسانی زندگی پر اس کے مضر اثرات ہو رہے ہیں ۔
نیند کی کمی سے ذیابیطس ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کی انسانی جسم کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ نیند کی کمی کی وجہ سے  قوت مدافعت ماند پڑ جاتی ہےلہٰذا موسم سرما کے وائرس جلد ہی حملہ کر سکتے ہیں ، جس سے فلو ، نزلہ زکام جیسے امراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دل کی بیماریاں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔تحقیق  سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں، انہیں بڑی آنت اور بریسٹ کینسر کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
اکثر نیند کی کمی سے وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے ،مکمل نیند پوری کرنے والوں کے مقابلے میں جو لوگ باقاعدگی سے نیند پوری نہیں کر پاتے ان کا وزن زیادہ ہوتا ہے، یہ جدید تحقیق میں پایا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کم سونے سے کچھ ہارمون تبدیل ہوتے ہیں جو بھوک بڑھا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وزن بڑھتا۔
خوبصورت ملائم جلد اور مضبوط پٹھوں کی خواہش کسے نہیں ہوتی ، جس کے لیے کیا کیا جتن کیے جاتے ہیں ، مگر  لوگ یہ نہیں جانتے کہ صرف رات کی بھر پور نیند اس کمی کو کسی حد تک پورا کر سکتی ہے۔  ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ جو لوگ اچھی نیند لیتے ہیں وہ الٹراوائلیٹ  روشنی کے اثر سے بہتر طریقے سے مقابلہ کر پاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی جلد پر سورج کی روشنی کے مضر اثرات نہیں ہوتے ،آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نظر آتے ہیں اور نہ ہی چہرے پر جھائیوں کے نشان ہوتے ہیں ۔
 سونے کا وقت مقرر اور مکمل کیے بنا جب تک پٹھوں کو مکمل آرام نہیں ملے گا، جسم کے خلیات اور نسوں کو صحت مند کر  کےپٹھے بنانے کا عمل ٹھیک سے نہیں ہو پائے گا اور اس کا اثر جسم کے وزن پر بھی ہوتا ہے ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ادھوری یا کم نیند کی وجہ سے اکثر لوگ اكھڑپن یا چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ  فطرت کی عکاسی  ہے ،چاہے کوئی دفتر میں کام کر ہا  ہو یا گھر میں، نیند کی کمی کی وجہ سے کام کی رفتار اور كوالٹی ٹھیک نہیں ہو سکتی اوراس سے تخلیقی صلاحیت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔
اگر کوئی مستقل سر درد یا درد یا مائگرین کے مرض میں مبتلا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سونے کا غلط انداز ہو۔ صرف یہی وجہ ہو ایسا نہیں ہے لیکن جائزوں میںپایا گیا ہے کہ کم نیند والے افراد کے یہاں مائیگرین  کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
کوشش کی جائے کہ عمر کے مطابق نیند کا کوٹا پورا کر صحت کے کا خیال رکھا جائے۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com