نئی نسل ذہین ،حسین اور کامیاب ہو یہ کیسے ممکن ؟

یہ بات تو سچ ہے کہ شریک حیات کے انتخاب کے وقت مرد حسن کے ساتھ ساتھ عورت کی ذہانت کو اہمیت دیتا ہے ، اس کا ایک ثبوت یہ سروے رپورٹ بھی ہے۔برطانیہ میں کیے گئے حالیہ سروے میں کہا گیا ہے کہ مرد شریک حیات کے انتخاب میں عورت کے حسن سے زیادہ ذہانت کو اہمیت دے رہے ہیں ۔برطانوی یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے سروے نے گزشتہ کئی بار کے سروے نتائج کی تصدیق کردی ہےکہ مرد اپنی شریک حیات کا انتخاب خوبصورتی کی نہیں بلکہ ذہانت کی بنیاد پر کرتے ہیں تاکہ وہ ایک ذمہ دار ماں کا کردار ادا کرسکے۔ سروے میں شامل ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ مرد عورت کے ظاہری حسن سے نہیں بلکہ ذہانت سے متاثر ہوکر اسے شریک حیات کے طور پر منتخب کرتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ برادری سے باہر شادیوں سے بچوں کاقد بلند ہوتا ہے اورذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں کی گئی تحقیق کے مطابق ایک ہی طرح کا ڈی این اے رکھنے والے والدین کے مقابلے میں 2 مختلف ڈی این اے رکھنے والے والدین کے بچے زیادہ لمبے اور ذہین ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ برادری سے باہر شادیوں سے مختلف موروثی بیماریوں مبتلا ہونے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں ۔
اگر شادی کے موقع پر لڑکےاور لڑکی کی ذہانت کو مد نظر رکھا جائے اور برادری سے باہر شادی کر دی جائے ، تو یقیناً بچے صحت مند ، خوبصورت اور ذہین ہوں گے ۔ عام طور سے لوگوں کو سرخ سفید گورے چٹے صحت مند اور ذہین بچوں کی خواہش ہوتی ہے ۔دوران حمل ماں آرام ، مصروفیت اور غذاکا خاص خیال رکھے ، تو یہ بھی ممکن ہے۔ حاملہ عورت کو ذہنی سکون اور جسمانی آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ مناسب مصروفیت بھی بے حد ضروری ہے ۔ ٹی وی اور انٹر نیٹ کے استعمال کے بجائے اگر اچھی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے ، تو اس کا بچے کے ذہن اور صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے ۔وٹامن اور کیلشیم سے بھر پور غذا ، خاص طور سے دودھ ، انڈے اور پھلوں کا مناسب استعمال حاملہ عورت اور بچے کو اچھی صحت عطا کرتا ہے ۔
ریسرچ کے مطابق بچوں کے دماغ پر موسیقی کا انتہائی مثبت اثر پڑتا ہے۔
۲۰۱۱؍کی ایک تحقیق کے مطابق صرف ایک ماہ تک موسیقی سیکھنے سے چار سے چھ سال کے بچوں کی زبانی ذہانت میں اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ ۲۰۰۴؍ کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ چھ سال کی عمر کے جن بچوں نے پیانو سیکھنے کی کلاسز لی تھیں وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین تھے جنہوں نے ڈرامہ کلاسز لیں یا کسی قسم کی کوئی کلاس میں داخلہ نہیں لیا تھا۔
۲۰۱۳؍کی ایک تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو بچے زیادہ کامیابی حاصل کرتے ہیں دراصل زیادہ تر معاملات میں وہ موسیقی کی کلاس میں شریک ہوتے ہیں یا موسیقی سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔
گزشتہ دنوں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ایک تحقیق کا حوالہ دیا گیا ،جس کے مطابق گھر کا سب سے بڑا بچہ سب سے ذہین پایا گیا ، اس تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ گھر کے سب سے بڑے بچے کو اپنے بعد آنے والے بھائی بہن پر تین آئی کیو پوائنٹس کی فوقیت حاصل ہوتی ہے تاہم اس کی وجہ جینیات نہیں بلکہ والدین کا اپنے پہلے بچے کو زیادہ توجہ دینا پایا گیا ہے۔
۲۰۰۶؍کی ایک فرانسیسی ریسرچ میں ۲۲۰۰؍بالغ افراد کا پانچ سال کے دورانیے میں ٹیسٹ لیا گیا۔
جدید تحقیق کے مطابق جن افراد کا باڈی ماس انڈیکس ۲۰؍ یا اس سے کم تھا انہوں نے لفظوں کو یاد رکھنے کے امتحان میں ۵۶؍ فیصد اوسط اسکور بنایا جبکہ ۳۰؍یا اس سے زائد بی ایم آئی والے وافراد نے اوسط ۴۴؍ فیصد اسکور کیا۔
درج بالا تحریر کی روشنی میں اگر شریک حیات کے انتخاب سے بچے کی پیدائش اور نرسری اسکول میں داخلے تک خاص توجہ دی جائے ، تو بے پناہ ذہین ، حسین اور کامیاب نسل پروان چڑھے گی ۔ دنیا کا ہر انسان یہی چاہے گا کہ اس کا بچہ خوبصورت ، صحت مند ذہین اور کامیاب ترین انسان ہو ۔ اس کے بعد آنے والی نسل ایسی ہی ہوگی ۔
تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس حوالے سے مزید مطالعات و تحقیقات کی ضرورت ہے۔حالیہ ایک تحقیق میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کو زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل پایا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد زیادہ تر کاموں کے لیے اپنے بائیں ہاتھ کا استعمال کرتے تھے وہ اتنی ہی زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک تھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ موسیقی اور فن تعمیر کے شعبوں میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
بچوں کی بہترین پرورش ، صحت اور ذہانت کے لیے ماں کا دودھ بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ڈیوک یونیورسٹی نےتحقیق کا حوالہ دیا ، جس میں ۳۰۰۰؍سے زائد بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں نےماں کا دودھ پیا تھا اور ان میں FAD32 نامی جین بھی موجود تھا ان کا آئی کیو دیگر بچوں کے مقابلے میں سات پوائنٹس زیادہ تھا۔
ایک اور تازہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹکنالوجی کی ترقی بچوں کی ذہنی نشونما میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لاتی ہے۔بلکہ یہ بچوں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ایک تنظیم کی اطلاع کے بموجب ایسے ممالک جہاں اسکولوں میں کمپیوٹرس استعمال کیےجاتے ہیں وہاں تین چوتھائی بچوں کی ذہانت یا امتحان میں کارکردگی کے لحاظ سے کوئی مثبت فرق نہیں دیکھا گیا۔جنوبی کوریا کے اسکولوں میں بچے اوسطاً۹؍منٹ یومیہ اور ہانگ کانگ میں۱۱؍منٹ یومیہ کمپیوٹروں کا استعمال کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایشیاء کے ان ممالک میں جہاں افراد بڑی تعداد میں اسمارٹ فون اور کمپیوٹرس کا استعمال کررہے ہیں بچوں میں اسکول یا کلاس کے کمپیوٹرس میں دلچسپی کم دیکھی گئی،اس کے برعکس سویڈن میں ۳۹؍منٹ‘یونان میں۴۲؍منٹ اور آسٹریلیاء میں۵۸؍نٹ یومیہ بچے اسکولس کے کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ کمپیوٹر استعمال کرنے والے اور استعمال نہیں کرنے والے طلباء کی کارکردگی میں واضح فرق دیکھا گیا۔ایسے طلباء جو متواتر کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں ان کو بڑی غلطیاں کرتے دیکھا گیا ہے۔وہ ذہانت سے زیادہ کمپیوٹر پر انحصار کرتے تھے،اس سلسلہ میں ایسے بچوں کی ذہانت کا امتحان لینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک امتحان بھی منعقد کیا گیاتھا۔ جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ تعلیم دینے والے اسکولوں کے بچوں اور عام اسکولی بچوں کی ذہانت میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھاگیا۔کمپیوٹر استعمال کرنے والے بچوں میں مطالعہ کا فقدان دیکھا گیا۔بچوں کی دلچسپی ریاضی میں بہت کم تھی اس لیے اس تنظیم نے تدریسی ٹکنالوجی کو موثر بنانے کے لیےاس رپورٹ کی بنیاد پر اقدامات کرنے کافیصلہ کیا ہے۔
امریکی سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق کثیر لسانی بچوں کی ذہانت میں اضافہ کرتی ہے، امریکی سائنسدانوں کی تحقیقات کے مطابق کم ازکم دو زبانیں بولنے والے بچے ذہانت میں زیادہ بہتر پائے گئے ہیں۔
زیادہ زبانوں پر عبور رکھنے والے زیادہ بہتر طریقے سے معاملات و تعلقات نبھا سکتے ہیں یعنی انسانوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔
محققین نے۴؍ تا ۶؍سال کے بچوں کے سامنے چھوٹی درمیانی اور بڑے سائز کی تین کھلونا گاڑیاں رکھیں۔ بچوں کے سامنے مشاہدہ کرنے وا لے شخص کو ایسی جگہ پر کھڑا کیا جہاں سے وہ چھوٹی گاڑی دیکھنے سے قاصر تھا۔
اس کے بعد اس نے بچوں سے سب سے چھوٹی گاڑی کو چلانے کو کہا اور کم سے کم دو زبانوں پر عبور رکھنے والے ۷۵؍ فیصد بچوں نے آبزرور کے سب سے چھوٹی گاڑی کو نہ دیکھ سکنے کا انداز ہ کر لیا اور تعلق قائم کرتے ہوئے درمیانے سائز کی گاڑی کو چلایا۔ جبکہ صرف ایک زبان بولنے والے ۵۰؍ فیصد بچے ہی اس چیز کو سمجھنے میں کامیاب رہے۔
علاوہ ازیں مذکورہ تحقیقات کو ـ’’ دی اکانومسٹ ‘‘جریدے میں اس طرح شائع کیا گیا ہے کہ ’’ زیادہ زبانوں پر عبور رکھنے والے بچوں میں مسئلے کا فی الفور حل نکالنے، فوری فیصلہ کرنے اور تجریدی سوچ کی صلاحیت کازیادہ رحجان پایا جاتا ہے۔اسی طرح ماہرین نے زیادہ زبانیں بولے جانے والے ماحول میں پلنے بڑھنے والے بچوں کے نقطہ نظر اور سوچ میں مزید نکھار آنے کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔اس سے قبل کی تحقیقات میں ایک سے زیادہ زبانوں پر عبور رکھنے والیوںکی دماغی وسعت میں اضافہ کرنے کا تعین ہوا تھا۔‘‘
حسین اور ذہین نسل پروان چڑھانے کے لیے درج بالا تحریر میں جو نکات ہیں ان کا خیال رکھا جائے ، تو کسی حد تکا کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔

پوری دنیا میں ہونے والی مختلف تحقیقات ،تجربات اور مصدقہ سائنسی رپورٹ کی بنیاد پر یہ مضمون تیار کیا گیا ہے ۔

شین۔ د

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com