چاکلیٹ کھائیں صحت بنائیں ، یادداشت بڑھائیں

چاکلیٹ کھائیں صحت بنائیں ، یادداشت بڑھائیں

چاکلیٹ سے کون واقف نہیں اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے چاکلیٹ نہیں کھایا ۔ چاکلیٹ اور کافی کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ یہ سردیوں کی غذا ہیں ۔ یہ اشیا سردیوں کے لیے کس قدر مفید ثابت ہو سکتی ہیں ،اس کا انکشاف جدید سائنسی تحقیق نے کیا ہے کہ چاکلیٹ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔چاکلیٹ میں موجود اجزا انسانی جلد کے لیے بھی مفید ہوتے ہیں ۔
جدید سائنسی تحقیق سے یہ با ت بھی ثابت ہوئی ہے کہ وہ افراد جن کے خون کی روانی دماغ کی طرف کم ہو جاتی ہے وہ اگر روزانہ گرم چاکلیٹ کے دو کپ ایک مہینہ پئیں تو ان کی دماغی کارکردگی میں فرق پڑسکتا گا۔
محققین نے ایک نئی جانچ کی جس میں ۷۰؍ افراد کو جو ۷۳؍سال کے تھے دو گروہ میں تقسیم کیا اور ان پر تحقیق کی جس کا نتیجہ یہ رہا کہ ہاٹ چاکلیٹ کے دو کپ روزانہ پینے سے یادداشت میں بہتری آتی ہے ،۷۰؍رضاکاروں پر ایک ماہ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی جن کی اوسطاً عمر۷۳؍ برس تھی اور ان لوگوں میں جن کی شریانیں سکڑ گئی تھیں یا کسی وجہ سے تنگ ہو گئی تھیں۔ ان کے دماغ کی جانب میں خون کی روانی میں بہتری پائی گئی ۔۴۲؍افراد جن کی خون کی روانی صحیح تھی ان کی یادداشت میں کوئی بہتری سامنے نہیں آئی،جبکہ ۱۸؍افراد جن کی خون کی روانی درست نہیں تھی ان لوگوں میں خون کی روانی میں۸:۳؍ فیصد بہتری پائی گئی۔
محققین نے یہ پایا کہ اس سے دماغی کار کردگی والا حصہ زیادہ کام کر رہا ہے اورمزید بہتر ہوگیا ہے۔’’یہ بہت دلچسپ ہے کہ اس کو تین مہینے تک جانچا جائے ‘‘ڈاکٹر اسٹیون ڈیکوسکی جو کہ یونیورسٹی آف پٹس برگ میں نیورولوجسٹ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ’’ میں نے ان لوگوں کے دماغ میں بہت شاندار وسعت محسوس کی اور ہم جانتے ہیں کہ اس کا تعلق بڑھتی عمر کے ساتھ ہونے والی یادداشت سے ہے۔‘‘یہ بات بھی یاد رہے کہ یادداشت کی بہتری کا تعلق نارمل یادداشت سے ہے اس کا نسیان (الزائمر) کی بیماری سے تعلق نہیں اس میں فلیونول کوئی خاص مدد نہیں کرتا۔اس کے لیےمزید تحقیقات جاری ہیں ۔اس سلسلے میں مزید ریسرچ کی پلاننگ ہے کہ فلیونول کیوں یادداشت کو بہتر بنانے میں مددکرتا ہے ،ایک خیال تو یہ ہے کہ وہ دماغ میں خون کے بہاؤ کو بہتر کرتا ہے اور اس کی وجہ یہ کہ اس بہاؤ کو دماغ کی نسوں تک پہنچا کر ان میں بہتری لاتا ہے۔
بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے لوگ اپنی یادداشت کھو چکے ہوتےہیں،ایک اورسائنس میگزین’ جنرل نیچرنیوروسائنس ‘میں یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ صحت مندلوگ جو کہ۵۹؍ سے ۷۰؍سال تک کے ہوتے ہیں اورجو ہائی اینٹی آکسیڈنٹ مکسچرپیتے ہیں جس کو ’’کوکو فلیونول ‘‘ کہتے ہیں ۔کوکو فلیو نول کے تعلق سے کہا کہ کچھ لوگوں کویہ مکسچرتین مہینے پلایا گیا۔اور اسکے بعد ان کا میموری ٹیسٹ لیا گیا تو انہوں نے ان لوگوں سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو کہ کم مقدارمیں فلیونول مکسچرپی رہے تھے ۔ڈاکٹر اسکاٹ اے اسمال جو کہ نیورولوجسٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’ایک اندازے کے مطابق جو لوگ ہائی فلیونول مکسچر باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں ۔وہ میموری ٹاسک ٹیسٹ میں اپنے سے۲۰؍ اور ۳۰؍سال کےچھوٹے افراد کی طرح کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پائے گئے ۔ان کی کارکردگی کم فلیونول استعمال کرنے والے گروپ کے افراد سے ۲۵؍فیصدبہتر تھی۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکے نیوروبایو لوجسٹ کریگ اسٹارک کا یہ کہنا ہے کہ ’’یہ ایک دلچسپ نتیجہ تھا ،اور یہ تو ابھی ابتدائی تحقیق و مطالعہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اور دیکھو یہ چاکلیٹ ہی ہے ،کون ہے جوچاکلیٹ سے اختلاف کر رہا ہے ۔‘‘
مزید حالیہ تحقیق یہ بھی ہے کہ فلیونول خاص کر خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے ۔دل کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔چاکلیٹ کولیسٹرول لیول کو بھی کم رکھتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایلی نوایس کے مطابق کہ اگر کوئی روزانہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھائے،تو اس کا کولیسٹرول لیول کم ہوتا ہے اور بلڈ پریشر بہتر ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چاکلیٹ میں کوکا فلیونول پائے جاتے ہیں۔ چاکلیٹ کھانے کاایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ ہمارے متوازن اور اچھے کولیسٹرول کو بڑھاتاہے۔
چاکلیٹ کھانے سے دل کے جملہ امراض میں بھی کمی واقع ہوتی ہے ایک نئی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جولوگ روزانہ ۷۰؍فی صد ڈارک چاکلیٹ کا بیس گرام استعمال کرتے ہیں ایسے افراد کی خون کی روانی میں بہتری آتی ہے بہ نسبت ان کےجو بہت زیادہ تیاری کے مراحل سے گزر کر تیار کی گئی چاکلیٹ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ ایسے چاکلیٹ میں کوکا پاؤڈر کی مقدار کم ہوتی ہے یہ کہا جاتا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ میں جو مثبت اثرات پائے جاتے ہیں ،وہ اس کے فلیونول کی وجہ سے ہے جو جسم میں نائٹرک ایسڈ کو خارج کرتا ہے، یہ ایک ایسا کمیائی عمل ہے ،جو دوران خون کو بہتر کرتا ہے
کچھ مشاہدوں سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ ڈیری پروڈکٹ جیسے کہ دودھ کے ساتھ ڈارک چاکلیٹ کا استعمال کم کرنا چاہیے یا نہ کے برابر کرنا چاہیے کیونکہ دودھ میں موجود کیسین نام کا پروٹین فلیونول کو جسم میں جذب کرنے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح چاکلیٹ خون کی گٹھلیاں، دل کا دورہ، اور فالج کے اثرات کو بھی کم کرتی ہیں۔
یہ بات بھی حیرانگیز ہے کہ چاکلیٹ کے استعمال سے جلد بہتر ہوسکتی ہے۔
جرمنی کے محقق کے مطابق جو لوگ چاکلیٹ کا استعمال باقاعدگی سے کرتے ہیں ان لوگوں پر سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے جلد پر ہونے والے اثرات یا جلد کا جھلسنا چھ ہفتہ کے وقت میں پندرہ فی صد کم ہو جاتا ہے بہ نسبت ان افراد کے جو چاکلیٹ کا استعمال بالکل نہیں کرتے ۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ چاکلیٹ میں ایسے کمپاؤنڈز بھی پائے جاتے جو الٹروائلٹ فلٹر کا کام کرتے ہیں۔ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ جدید تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں کئی سبز غذاؤں کے مقابلے میں سے سب سے زیادہ اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں یہ اینٹی آکسیڈنٹ چاکلیٹ کےکھانے سے جلد کو اور زیادہ صحت مند پرکشش اورتر و تازہ بناتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ یہ ہماری جلد کو خراب ہونے اور جھریاں پیدا ہونے سے بھی بچاتا ہے۔
تنبیہ :کسی بھی چیز کا زیادہ استعمال نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ۔ کسی بھی مرض میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ چاکلیٹ کے تعلق سے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں ۔
اس مضمون کی تیاری میںجدید سائنسی تحقیقاتی رپورٹ سے مدد لی گئی ہے ، تاکہ چاکلیٹ کے تعلق سے قارئین تک یہ معلومات فراہم کی جائے ۔
اگریہ مضمون پسند آئے ، تو اسے ضرور سوشیل میڈیا پر شیئر کیجیے ، تاکہ یہ معلومات اوروں تک پہچانے میں مدد مل سکے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com