ڈینگو سے احتیاط

موسم باراں قریب ہے،یہ آپ کو گرمی سے راحت تو دے گا لیکن کچھ اور مصیبت بھی لیتا آئے گا۔ موسم کی نمی کے ساتھا امراض بھی آتے ہیں۔ اس موسم میں شدت کے ساتھ اور زیادہ تر ہونے والی بیماریوں میں سے ایک ڈینگو بخار بھی ہے۔ اس کی علامات، علاج اور احتیاط کے تعلق سے معلومات رکھنا آپ اور آپ کے خاندان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس مرض کو سمجھ کر اس سے احتیاط کرنے اور اس کے علاج کے تعلق سے ہماری جانب سےخصوصی رہنمائی و احتیاطی تدابیر درج کی جا رہی ہیں ۔
متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں داخل ہونے والے چار میں سے ایک وائرس کی وجہ سے ڈینگو کا مرض ہوتا ہے۔ ڈینگو هیموریجك فیور (ڈی ایچ ایف ) اس بیماری کی خطرناک صورت حال ہے، جس کا بروقت اور ٹھیک علاج نہ ہونے سے جان بھی جا سکتی ہے۔
ڈینگو صرف مچھر کے کاٹنے  ہی سےپھیلتا ہے۔ متاثرہ شخص کی طرف سے کسی اور شخص کو نہیں ہوتا۔ اگر کسی شخص میں علامات نہیں دکھائی دے رہی ہیں ،لیکن وہ متاثر ہے تو ایسے شخص کا خون چوس کر مچھر کسی اور شخص کو بھی متاثر کر سکتا ہے، سات دن کے وقت کے دوران اس کا امکان رہتا ہے۔
درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:
اگر آپ ڈینگو کی علامات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو جانیں کہ چھوٹے بچوں یا پہلی بار اس بیماری کا شکار ہونے والوں میں اس کی علامات ہلکی نظر آتی ہیں اور بڑے بچوں یا بالغوں میں عام طور اس  واضح اور ور زیادہ علامات نظر آتے ہیں۔ ان علامات پر توجہ دیں:
تیز بخار (102) یا (9-38) ڈگری سے زیادہ بخار کا ہونا تشویشناک ہوتا ہے، لیکن اگر یہ 103 ڈگری ہے۔ (39۔4 ڈگری ) سے زیادہ ہو تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔
آنکھوں کے پیچھے تیز درد کے ساتھ سر درد پٹھوں، جوڑوں اور ہڈیوں میں درد ناک یا مسوڑوں سے خون بہنا
بہت سے معاملات میں، یہ بتانا مشکل ہو جاتا ہے کہ ڈینگو عام فلو سے مختلف ہے یا نہیں، تاہم موسمی فلو میں اس طرح خون نہیں بہتا، جیسا ڈینگو میں۔ علامات ایک جیسی ہونے کی وجہ سے کئی بار اس کا پتہ نہیں چل پاتا۔ بہت اہم یہ ہے کہ علامات نظر آنے پر ابتدائی 2-3 دن تک انسان کو خوب پانی پینا چاہئے اور تب تک بھی، جب تک بیماری ٹھیک نہ ہو جائے۔ اگر یہ بخار ڈینگو ہوا تو بیماری اور شدید ہونے اور ڈي ایچ ایف  ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
ڈینگوہیموریجک فیور کی علامات:
ڈینگو کے اس قدرسنگین طور پرہونے میں بخار دو سے سات دن کے درمیان چڑھتا  اترتا ہے اور اس کی خصوصیات پہلے بتائی گئی علامات کی مانند ہوتی ہیں۔ بخار ہلکا ہونے پر 24 گھنٹے کے دوران اس کی کچھ اور علامات نظر آتی ہیں جیسے مسلسل قے، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں مشکل ہونا۔یہ وقت بہت نازک ہوتا ہے اور اس دوران صحیح طبی سہولت و انتظام ضروری ہے کیونکہ جسم کی نقل و حمل کے نظام میں شدید گڑبڑ ہو سکتی ہے اور مریض کی حالت انتہائی خراب ہو سکتی ہے (یہ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں اعضاء تک کافی خون یا آکسیجن نہیں پہنچتی) ایسی صورت میں مریض کا ٹھیک علاج نہ ہونے پر موت بھی ہو سکتی ہے۔
اگر کسی شخص میں ڈینگو کی علامات هیں ، یعنی ہیموریجك فیور کی علامات نظر آتی ہیں تو اسے فورا ہسپتال لے جانا چاہئے۔
علاج
ڈینگو یا ڈٰ ایچ ایف کا کوئی طے  شدہ علاج اب تک نہیں ہے۔ عام طور سے پیراسٹامول پر مشتمل دافع درد دوا کی مدد سے اس کا علاج ہوتا ہے لیکن اسپرین پر مشتمل دواؤں سے بچنا چاہئے اور بچوں کو یہ بالکل نہیں دینا چاہئے۔ مریضوں کو طبی مشورہ لینا چاہئے اور یقینی کرنا چاہئے کہ وہ مکمل آرام اور بھر پور مشروبات لیں ۔
اگر 24 گھنٹے میں بخار تیز ہوتا ہے اور مریض اور خراب محسوس کرتا ہے یا قے اور پیٹ درد کی شکایت کرتا ہے تو اسے فورا ہسپتال لے جاکر ضروری جانچ اور علاج کروائیں۔ابتدا ہی میں پتہ چلنے پر ڈی ایچ ایف کا علاج عاممشروبات کے استعمال کی تھراےپي سے کیا جاتا ہے۔ لیکن، ہر حال میں مریض کا ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے۔
دفاع:
ڈینگو سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ آپ مچھروں کے حملےسے بچیں۔ جہاں تک ممکن ہو، مچھر پنپنے والے مقامات سے دور رہیں، کھڑکیوں کو مناسب طریقے سے بند رکھیں ، دیواروں پر پڑی درار کو بھریں، صفائی رکھیں اور مچھرکش دواؤں کااستعمال کریں۔ مطالعہ میں پتہ چلا ہے کہ سب سے موثر مچھرکش دوا وہ ہوتی ہیں، جن میں کم از کم 20 فیصد ڈيي ای ای ٹی ہوتا ہے۔
مچھروں کے پنپنے کے مقامات کو تباہ کرنا ڈینگو پھیلنے سے روکنے کا بہترین حل ہے۔ بارش کا یا کسی بھی طرح کا ٹھہرا ہوا پانی  فوراً ختم کریں ۔پانی رکھے ہوئے برتنوں کو فوری طور پر خالی کریں کیونکہ یہاں مچھر پنپتے ہیں اور انڈے دیتے ہیں۔ پالتو جانوروں کے کھانے کے  کرنے کے برتن بھی باقاعدگی سے صاف رکھیں تاکہ ان میں بھی مچھروں کے انڈوں یا لاروا کے پنپنے کا خطرہ نہ رہے۔ آپ کے ارد گرد ایسا ماحول رکھیں کہ مچھروں کی تعداد میں اضافہ نہ ہونے پائے۔
تردید: اس ویب سائٹ پر شائع طبی مضمون اور تجاویز صرف علم میں اضافےکے لیے شامل کیا گیا ہےاور یہ کسی طرح سے بھی مستندڈاکٹر (لائسنس رکھنے والے فزیشین)کے ساتھ کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے، اس سلسلے میں قاری کی اپنی رائے ہوگی۔ اگرچہ NewsPie.in تمام اطلاعات معتبرذرائع کی تصدیق کے ساتھ پیش کرتا ہے، لیکن یہاں پر دی گئی معلومات کی بنیاد پر قاری کی طرف سے کی گئی کسی قسم کی کارروائی کے لیے اخبار مصنف اور ناشر کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ NewsPie.in یہ سفارش کرتا ہے کہ صحت سے متعلق معاملات کے لئے ہمیشہ مستند اور سرکاری سطح پر منظور شدہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کوپسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر ہمارے صفحہ کو لائک اور شیئر کریں، کیونکہ اس سے اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com