ہیموفیلس انفلوائنزا ٹائپ بی کے بارے میں اہم معلومات

ہیموفیلس انفلوائنزا ٹائپ بی ’’ایچ آئی بی‘‘ اس کا شارٹ فارم ہے یہ ایک قسم کے بیکٹریا ہوتے ہیں جو مختلف قسم کی بیماریوںکی وجہ بنتے ہیں اور یہ بیکٹریا کمزور قوت مدافعت رکھنے والوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس بیکٹریا کے نام میں لفظ انفلوائنزا ہے لیکن اس کی وجہ سے فلو نہیںہوتا لوگ بیمار نہیں ہوں پھر بھی اپنے ساتھ بیکٹریا رکھتے ہیں اور کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہوتی اور انھیں پتہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس متعدی بیماری کا شکار ہیں۔اس لیے یہ اہم ہے کے بچوں کو اس بیماری سے مقا بلہ کرنے لیے ٹیکہ لگایا جائے۔ ’ ایچ آئی بی‘ یہ بیماری مریض کے تھوک ، ناک ، بلغم، چھینک اور کھانسنے سے پھیلتی ہے اور اس کا مریض جہاں بھی جاتا ہے وہاں اپنے ساتھ بیکٹریالے جاتا ہے اور بیماری پھیلتی جاتی ہے ،اگر چہ کہ مریض میں اس مرض کی کوئی علامت نہ ہو اور وہ بیمار نہ ہو تب بھی یہ بیکٹریا پھیل کر مرض پھیلاتے رہتے ہیں ۔
یہ بیماری پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں عام طور سے پائی جاتی ہے جنھیں اس بیماری کا ٹیکہ نہ لگایا گیا ہو۔
علامات
اس بیماری کی بنیادی علامت ہے بخار اور اور اس بیماری کا انفیکشن سائٹ آف انفیکشن پر منحصر ہے ذیل میں اس بیماری کی علامات درج ہیں۔
٭نیمونیا
پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے کھانسی اور سانس لینے میں پریشانی ، بخار اور چھاتی میں درد کی شکایت ہو سکتی ہے اگر آپ کو اس بات کا شبہ ہو کہ نمونیا ہے توکھانسی کی دوا لینے سے پہلے ڈاکٹر سے رابطہ کریں ۔
٭گردن توڑ بخار
انفیکشن دماغ کی رگ یا حرام مغز میں پھیل جاتا ہے اور سرمیں شدید درد اور گردن میں سختی محسوس ہوتی ہے اور کبھی کبھار چکر اور الٹی بھی ہوتی ہے اگر گردن توڑ بخار کا علاج نہیں کیا گیا تو دماغی خلیات تباہ ہوسکتے ہیں یا موت بھی ہو سکتی ہے۔
٭ایپی گلاٹس
ایپی گلاٹس (کوا)کی سوزش گلے میں شدید درد اور سوزش سانس لینے میں پریشانی اور رال ٹپکنا گر اس کا علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے۔
٭سیلولائٹس
سیلو لائٹس (جلد کے نیچے والے گوشت تک ورم اور خلوی ریشے کی سوزش) جلد میں سوجن جلد کا سرخ ہونا اورکھجلی ہونا اگر علاج نہ کرایاجائے تو زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
٭سیپٹیک گٹھیا
سیپٹیک گٹھیا(ہڈیوں کا عفونتی ورم) کی وجہ سے گلے میں سوجن اور جوڑوں میں سوجن اور نرم ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتاہے اس کے لیے صحیح علاج کروانا ضروری ہے۔
٭کان کا انفیکشن
کان میں درد ہوتا ہے اگر علاج نہ کروایا جائے تو انفیکشن پھیل سکتا ہے۔
اگر بچوں،میں ان میں سے کوئی بھی علامت نظر آئے اور سانس لینے میں پریشانی یا بیماری کی دوسری علامات نظر آئے توقریبی ہسپتال میں لے جائیں اور انھیں ایمرجنسی روم میں رکھیں ۔
٭علاج
ان تمام علامات والے امراض کے علاج کے لیے اینٹی بایئوٹک کا کورس ہوتا اور یہ کورس پورا کرنا چاہیے اگر علامات نظر نہ آئیں اور آپ بہتر محسوس کریں تب بھی ۔ تاکہ انفیکشن پھیلنے کا کوئی خطرہ باہے قی نہ رہے ۔اگر اینٹی بائیو ٹک کا کورس پورا نہ کیا جائے تو بیکٹریا میں اینٹی بائیوٹک سے مدافعت کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور بیکٹریا مزید طاقتور ہو سکتے ہیں۔
جب تک بیماری کی ساری علامات ختم نہ ہو جائیں گھر پر رہیں یا پھر اینٹی بائیوٹک شروع کرنے کے ایک یا دو دن کے بعد کام پر یا اسکول جا سکتے ہیں ۔
جن لوگوں کو ٹیکہ نہیں لگا یا انھیں اورچھوٹے بچوں اور بوڑھوں کو مریض سے دور رکھنا چاہیے۔
٭بیماری سے روک تھام
اس بیماری سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کے آپ اس بیماری کے تمام ٹیکہ اور انجکشن لیں اور اس ویکسین میں تین شاٹ کا ایک سیٹ اور ایک بوسٹر سیٹ ہوتا ہے ’’ دی انڈین اکیڈمی آف پیڈیا ٹیرک ‘‘اس بات کی سفارش کرتے ہیں کہ پہلا ویکسین چھ ہفتے اور دوسرا ویکسین دس ہفتوں میں اور تیسرا چودہ ہفتوں میں اور بوسٹر بارہ سے اٹھارہ مہینے کے درمیان دیا جاناچاہیے۔
ایسے نوجوان اور بالغ لوگ جنہیں ہب ویکسین نہیں دیا گیا ہے اور چھوٹے بچے جنھیں ویکسین نہیں دیا گیا تب تک ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے خاص طور سے جو ایچ آئی وی اور تلی سے جڑے مسائل ہوں ۔
نوٹ :
درج بالا مضمون میں پیش کردہ طبی مواد کا مقصد ٖ صرف معلومات فرسہم کرنا ہے ۔یہ معلومات کسی ڈاکٹر یا معالج کامتبادل نہیں ہے ۔
اگر چہ ہماری ویب سائٹ نے تمام معلومات کی تصدیق اپنے ذرائع سے کی ہے ۔
ادارہ اس بات کی سفارش کرتا ہے کہ آپ ہمیشہ طبی معالج ( میڈیکل پریکٹیشنر )ہی سے رابطہ کریں۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com