آدھار کارڈ سے شہری کی نجی معلومات عام ہونےکا اندیشہ

آدھار کارڈ سے شہری کی نجی معلومات عام ہونےکا اندیشہ

گزشتہ سال پارلیمانی سیشن میں سرکار نے کئی بڑے فیصلے کیے ، ان میں سے فائننس ایکٹ ۲۰۱۷؍ کی اہمیت کو سمجھنے کی بے حد ضرورت ہے ۔ حکومت نے جو فائننس ایکٹ۲۰۱۷؍ پاس کیا ہے، اس میں ۴۰؍ قوانین میں ۲۵۰؍ ترامیم کی گئی ہیں ۔ اس کے مطابق کمپنی ایکٹ اور آدھار ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں، وہ سب سے اہم ہیں، ان دونوں ایکٹ میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں، وہ نظریاتی اعتبار سے جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ سس بات کو سمجھ نہیں پا ئے ہیں کہ تبدیلی کے یہ معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں  ۔حیرت اس بات پر بھی ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کسی ممبر کو بھی اس کا احساس نہیں ہوسکا اور نہ ہی کسی نے تعلق سے آواز اٹھائی۔
گزشتہ مضمون میں  ’’ سیاسی فنڈ کی شفافیت ‘‘ میں ہم نے تذکرہ کیا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کو فنڈ فراہم کرنے والی کمپنیوں یا افراد کا نام ظاہر نہیں کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اس ایکٹ کےتحت
کمپنی ایکٹ میں بدلائو کرکے سرکارنے کمپنیوں کی پہچان کو چھپانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے مطابق کوئی بھی کمپنی کسی بھی سیاسی پارٹی کو رقم دے سکتی ہے ،لیکن اسے پوشیدہ رکھا جائے گا ۔مگر ٹھیک اس کے برعکس سرکار آدھار کارڈکے ذریعہملک کے ہر شہری کی پہچان کو عوامی کرنے کے حق میں ترمیم کررہی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ سرکار عام شہریوں کو تو شفاف بنانا چاہتی ہے لیکن کمپنیوں کو غیر شفاف بنا رہی ہے۔
سرکار ایک طرف کمپنیوں کو پردے میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دے رہی ہیں ، وہیں عام شہریوں کی تمام معلومات اور عمل کو منظر عام پر رکھنا چاہتی ہے۔
گزشتہ ایک اور مضمون میں اس بات کا تذکرہ کیا گیا تھا کہ ہندستان کے ایک ارب عوام کی نجی جانکاری غیر محفوظ ہے ۔محض ۵۰۰؍ روپے میں فروخت کی جاچکی ہیں ۔
آدھار کا سب سے بڑا فائدہ غیر ملکی کمپنیوں کو ہونے والا ہے جنہیں آدھار کے ذریعہ ہندستان کےدیہی بازار پر چھا جانے کیکھلی چھوٹ مل جائے گی۔
آدھار کارڈ کو پین کارڈ ، گیس سلنڈر اور بینک اکاؤنٹ سے جوڑنے کے لیے لازم قرار دیا جا رہا ہے ۔ آدھار کارڈ کو بینک اکاؤنٹ سے جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ عام آدمی کی ہر قسم کہ نجی معلومات عام ہو جائے گی اور حکومت اس بات سے با خبر رہے گی کہ کس کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم ہے کہاں سے آ رہی ہے اور کس طرح خرچ کی جا رہی ہے مزید یہ کہ وہ کب اور کہاں سفر کرتا ہے،یا کرتی ہے،فون پر کس سے بات کرتا ہےیا کرتی ہے کتنی آمدنی ہے،وہ کیا خریدتا ہے یا خریدتی ہے،اس کے انٹرنیٹ کی براؤزنگ ہسٹری غیرہ وغیرہ بھی شامل ہے ۔
جمہوری ملک کے ہر شہری کا حق ہے کہ وہ اپنی نجی معلومات کو محفوظ رکھے ، مگر اس طرح عام آدمی اپنے اس حق سے دست بردار کیا جا رہا ہے ۔ ابھی اس تعلق سے مزید معلومات حاصل کرنا ضروری ہے اور اس پر غور کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ملک کا ہر شہری اپنی نجی معلومات کے تعلق سے اطمینان حاصل کر سکے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com