اگر سوشل میڈیا نہیں ہوتا ؟

اگر سوشل میڈیا نہیں ہوتا ؟

ملکۂ فرانس کا ایک جملہ فرانس کے انقلاب کی وجہ بن گیا تھا ۔ فرانس میں لوگ بھوک سے بدحال اور پریشان تھے اور ملکۂ فرانس نے کہا تھا ’’ ڈبل روٹی نہیں ہے ، تو یہ لوگ کیک پیسٹری کیوں نہیں کھا لیتے ؟‘‘ اس جملے نے عوام کی آنکھیں کھول دیں ، وہ سڑکوں پر اترآئے ۔
آج ہندستان میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ، بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے ۔ ہر سال لاکھوں نوجوان اپنی تعلیم مکمل کر کے یونیورسٹی سے فارغ ہو رہے ہیں اور بے روزگاروں کی قطار میں کھڑے ہو رہے ہیں ۔ جب ملک کے وزیر اعظم سے نوجوانوں کی بے روزگاری کے تعلق سے بات کی جاتی ہے ، تو وہ چائے کا اسٹال لگانے اور پکوڑے بیچ کر دو سو روپے یومیہ کمانے والے کو بر سر روزگار بتاتے ہیں، یا پھر اسے روزگار کی اسکیم بتاتے ہیں ؟
اس سے بھی بڑا لطیفہ داؤس کی میٹنگ میں ہوا ، جب ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جی نے کہا کہ چھ سو کروڑ لوگوں نے ووٹ دیے ہیں ، جب کہ ہندستان کی کل آبادی سو اسو کروڑ یا اس کے آس پاس ہے ، ملک کے وزیر اعظم کو اس بات کا بھی علم نہیںکہ ملک کی کل آبادی کتنی ہے ؟
درج بالا دونوں معاملات کو سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بنایا گیا ۔ کئی مسیج اور مکالمے اس تعلق سے تیزی سے عوام کے درمیان گردش کر رہے ہیں ، مگر عملی اقدام کچھ نہیں ۔ سوشیل میڈیا پر مسیج بھیج کر سب لطف لے رہے ہیں ، مگر حالات کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے ۔
ان دنوں سوشیل میڈیا کا استعمال بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے ۔ لوگ اکثر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے بھی اس کا استعمال کررہے ہیں ۔
دراصل اس میں کسی بھی زبان کی قید نہیں ہے ۔ رسم الخط کی قید نہیں ہے ۔ تحریر و تقریر کی پوری آزادی ہے ۔ اپنے خیالات کے علاوہ دوسروں کے خیالات ، جو کسی کو پسند آتے ہیں ، تو وہ پوری آزادی سے اسے بھی عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ فیس بک ، انسٹا گرام ، ٹوئیٹر ، وہاٹس ایپ اور اسی طرح کے کئی اور ذرائع ہیں ۔ جسے لوگ آسانی سے اظہار خیال کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ احتجاج جتانا ہو تو بھی سوشیل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ملک کے بے روزگار نوجوانوں کے تعلق سے وزیر اعظم کے بیان کو سوشل میڈیا پر پھیلانے اور طنز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور نہ ہی بےروزگاری دور ہوگی ، اس کے لیے عملی اقدام اور نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ ملک کے عوام ذرا سوشل میڈیا سے باہر نکل کر حقیقی دنیا بھی دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے ؟

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com