ایک ارب ہندستانیوں کا بایو میٹرک ڈاٹا غیر محفوظ 

ایک ارب ہندستانیوں کا بایو میٹرک ڈاٹا غیر محفوظ 

جس طرح ملک کی سرحد پر ڈیوٹی دیتے ہوئے فوجی بیرونی دشمنوں سے ملک کی حفاظت کرتا ہے ، اسی طرح ایماندار صحافی ملک کے اندرونی دشمنوں سے ملک کی حفاظت کرتا ہے ۔ صحافی کی اور بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ ایماندار صحافی سچ کو عوام کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد سیکیوریٹی بڑھائے جانے کا اعلان کیا گیا اور تمام ریلوے اسٹیشنوں پر میٹل ڈٹیکٹر نصب کیے گئے ، سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے، حفاظتی دستے تعینات کیے گئے اور عوام کو یقین دلایا گیا کہ حفاظت کا پورا انتظام کیا گیا ہے ۔حفاظتی انتظامات کی پول اس وقت کھل گئی ، جب ممبئی کے کسی ٹی وی چینل کی ٹیم نے لاوارث بیگ ریلوے اسٹیشن پر خاموشی سے رکھ دیا اور وہ کئی گھنٹوں تک وہیں پڑا رہا ۔ نہ حفاظتی دستے نے دیکھا اور نہ ہی سی سی ٹی وی کیمرہ ہی کچھ کام آیا ۔
اب حکومت رشوت خوری کے خلاف کمر باندھے ہوئے ہے اور بد عنوانی کو ختم کرنے کے دعوے کر رہی ہے ، ایسے میں ٹریبیون اخبار کی ایک رپورٹر نے محض ۵۰۰؍ روپے خرچ کر کے ملک کے عوام کے ڈیٹا کو حاصل کر لیا ، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رشوت خوری کا بازار گرم ہے ۔
ملک کے عوام کے ریکارڈ کومعمولی سی رقم کے بدلے منٹوں میں حاصل کیا جاسکتا ہے تو پھر حکومت کے اس منفرد آدھار ڈیٹا کے حوالے سے سرکاری سطح پر او ر بھی لا پروائی ہو سکتی ہے ۔
اس واقعے کے بعد دہلی پولس کرائم برانچ نے خاتون صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے ، جبکہ ان رشوت خور خاطی ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔
اخبار کے صحافی کا دعوی ہے کہ صرف ۵۰۰؍روپئے اور۱۰؍ منٹ میں  درمیانی آدمی کے ذریعہ اس ملک کے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو حاصل کیا گیا ہے ۔
ملک کے شہری اپنی تفصیلات ، یعنی بائیو میٹرک ریکارڈ جس میں نام ، تصویر ، انگلیوں کےنشان ، آنکھوں کی پتلیوں کے نشان ،پوسٹل ینڈیکس نمبر ، موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی شامل ہے ۔ اگر یہ ڈیٹا کسی بھی سازشی ذہن کے ہاتھ لگ جائے تو کسی فرد واحد کی ذاتی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔
سرکاری سطح پر جو غلطیاں ہورہی ہیں انہیں درست کرنے کے بجائے، ان غلطیوں کی نشاندہی کرنے والوں کو خاطی قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندستانی ذرائع ابلاغ نے مذکورہ صحافی اور اخبار کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے ۔ صحافتی اداروں  اور صحافیوں نے اس رپورٹ کو خاص کر صحافتی جائز عمل قرار دیا ہے ۔
اب جبکہ ان خامیوں کا انکشاف ہوچکا ہے تو ، آدھار کارڈ کے ڈیٹا کے تعلق سے رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اس ذمہ دار صحافی کو کسی بھی مقدمے سے بری کر دینا چاہیے ۔ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور معاشرے کی تیسری آنکھ ہے، اس بات کا خیال رکھا جائے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com