تعلیم یافتہ بے روزگار پریشان نہ ہوں 

تعلیم یافتہ بے روزگار پریشان نہ ہوں

ہندستان میں بےروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن مسلمانوں کی حالت زیادہ خراب ہے۔ مسلمان اپنی زبوں حالی کے لیے حکومت اور مذہبی تعصبات کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ، تو دیگر فرقے مسلمانوں کی ناخواندگی اور پسماندگی کو بے روزگاری کی وجہ بتاتے ہیں ۔نا خواندہ افراد بے روزگاری کے مسئلے کو کسی نہ کسی طرح محنت مزدوری سے حل کر لیتے ہیں ، مگر مسئلہ یہاں تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا ہے ۔ملک بھر میں بلا تفریق مذہب آرٹس ، کامرس اور سائنس کے گریجویٹ بے روزگار ہیں ، یہی نہیں ، بی ایم ایم ، ایم بی اے ، بی بی اے ، ہوٹل منیجمنٹ ،آئی ٹی ، انجنئیرنگ کے علاوہ ڈی فام اور بی فام کر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے روزگار ہیں یا پھر بہت ہی معمولی تنخواہ پر کام کر رہے ہیں ۔ بی اے بی ایڈ ، بی ایس سی بیڈ ایم اے بی ایڈ اور ایم ایس سی بی ایڈ بھی بے روزگار ہیںیا پھر بچوں کو ٹیوشن دے کر گزارا کر رہے ہیں ۔
بے روزگاری اس ملک کی تلخ حقیقت ہے ، مگر ہندستان میں اب تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ان دنوں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے نوجوانوں کو اچھا مشورہ دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص صبح سے شام تک پکوڈے بیچ کر دو سو روپے کما لیتا ہے ، تو اس میں برائی کیا ہے ؟ لوگوں کو پکوڈے بنا کر بیچنے آنے چاہیے یا اسی قسم کی دیگر اشیا کے اسٹال لگانے چاہیے ۔


سچ ہے اس میں برائی کیا ہے ؟ حلال رزق ہی حاصل کرنا ہے ، تو پکوڑے بیچیں یا تیل کیا فرق پڑتا ہے ۔ ہاں کسی زمانے میں یہ کہاوت مشہور تھی ’’ پڑھیں فارسی ، بیچیں تیل ، یہ دیکھو قدرت کے کھیل ۔‘‘ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ تیل بیچنا تیلی کا کام ہے ، پڑھے لکھے لوگوں کا نہیں ۔ آج ہندستان میں لاکھوں تعلیم یافتہ افراد بے روزگار ہیں ، جن میں مختلف شعبوں سے ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ان نوجوانوں کے والدین نے کس محنت اور ہمت سے انہیں اعلا تعلیم دلوائی ہوگی اور کیا کیا خواب دیکھے ہوں گے ، یہ تو نہیں سوچا ہوگا کہ ان کا سپوت پڑھ لکھ کر پکوڈے بیچے گا اور اگر پکوڈے ہی بیچنے تھے ، تو اتنا پڑھاتے کیوں ؟
آج کے دور میں بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنا اور ان کو اعلا تعلیم دلوانا اس قدر مہنگا ہو گیا ہے کہ اوسط درجے کے افراد مشکل میں مبتلا ہیں ۔ غریبوں کے بس کی بات ہی نہیں ہے ، مگر پھر بھی آج پکوڈے بیچنے والا بھی خیراتی اداروں سے تعلیمی اخراجات حاصل کر کے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے ، وہ بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے اس کی طرح پکوڈے بیچنے کے بجائے اعلا تعلیم حاصل کر کے اچھی ملازمت حاصل کریں اور خوش حال زندگی گزاریں ۔ آج ہمارے اطراف ایسے کئی نوجوان ہیں ، جن سے ہم اچھی طرح واقف ہیں ۔ ایم بی اے کیا ہے ، آئی ٹی کیا ہے اور بے روزگار ہیں ۔ ایک نوجوان آئی ٹی کر کے کہیں ملازمت کر رہا ہے ، ماہانہ آٹھ ہزار روپے مل رہے ہیں ۔ کامر س والوں کے لیے تو کہیں جگہ ہی نہیں ہے ۔کئی اعلا تعلیم یافتہ نوجوان مجبوری میں کال سینٹر یا شاپنگ مال میں کام کر رہے ہیں ، محض اس لیے کہ بےکار سے بیگار بھلی ۔ ہر سال مختلف شعبوں سے ڈگریاں حاصل کر کے نوجوانوں کی ایک بڑی کھیپ آ رہی ہے اور ان کے سامنے بے روزگاری منہ پھاڑے کھڑی ہے ۔ پکوڈوں کی دوکان مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ اس کے لیے حکمت عملی طے کرنا ہوگی ۔
ہر شعبے میں انسانوں کی ضرورت ختم ہوتی جا رہی ہے یا کم ہوتی جا رہی ہے ۔ مثلاً ڈیجٹل فوٹو گرافی نے ، پروفیشنل فوٹوگرافر کا کام کم کر دیا ہے ۔ اگلے دو برسوں میں سڑکوں پر بغیر ڈرائیو کی کار نظر آئی گی ، تب ڈرائیور بھی بے روزگار ہو جائیں گے ۔ جہاں کھیتوں میں کسان کام کرتے تھے ، وہاں آج مشینیں کام کر رہی ہیں۔ ہم تیز رفتار مشینی دور میں داخل ہو رہے ہیں اور تیز رفتار الیکٹرانک دور بھی ہے ، سب کچھ بدل رہا ہے ، اسی کے ساتھ اگر سوچ نہیں بدلی تو ترقی کے امکانات ہی ختم ہو جائیں گے ۔ تعلیم یافتہ اور ذہین نوجوانوں سے وہ کام لیا جائے ، جو ان کے شایان شان ہو اور جس سے ملک کی ترقی ہو ۔ ہمارے ملک کے نوجوان دیگر ممالک میں اپنی قابلیت اور ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، مگر اپنے ہی ملک میں ان کے لیے کوئی  جگہ نہیں ہے
نوجوان طبقہ ہمارے ملک کی تونائی ہے ، اس توانائی کا صحیح استعمال ضروری ہے ۔ پکوڈے یا چائے بیچنے کے لیے تعلیم یا ذہانت کی ضرورت نہیں ہے ، ہاں مگر ملک کی ترقی کے لیے تعلیم یافتہ اور ذہین لوگوں کی ضرورت ہے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com