جشن یوم جمہوریہ

جشن یوم جمہوریہ

آزادی کے بعد سے ہندستان میں جمہوری نظام قایم ہوا ہے ، یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں یوم جمہوریہ پر جشن منایا جاتا ہے۔
اتفاق رائے سے کام کرنے کو جمہوری طریقہ کہا جاتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ہندستان، دنیاکی سب سے بڑی پارلیمانی، غیرمذہبی جمہوریت ہے۔
مگر نظام جمہوریت کو دیکھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ جمہوریت کی تعریف کیا ہے ؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دن بدن جمہوریت مختلف شکل سامنے آ رہی ہے ۔جمہوریت میںعوام کا منتخب شدہ نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے۔ اس طرز حکومت میں سربراہ حکومت کا انتخاب عوام کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ آئین کی رو سے ہر ہندستانی شہری قانون کی نگاہ میں برابر ہے۔ ہر شہری کو آزادیٔ رائے، آزادیٔ خیال اور آزادیٔ مذہب حاصل ہے، خواہ وہ اقلیت ہو یا اکثریت یا کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو۔سب کو دستور میں یکساں حقوق حاصل ہیں ۔ووٹ دینے کا حق اپنے نمائندوں کے انتخاب کا حق اور منتخب ہونے کا حق بھی ۔اقلیتوں کو بھی دستور میں ان کا حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کریں، اپنی تہذیب، تمدن، زبان کو قائم رکھیں اور اپنے مذہب کی اشاعت کریں،اس غرض کے لیے اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا انتظام کریں، ساتھ ہی یہ صراحت بھی کی گئی کہ کسی ایسی آمدنی پر ٹیکس دینے کے لیے مجبورنہیں کیا جا سکتا، جو کسی مذہب کی تبلیغ و اشاعت پر خرچ کیا جائے۔
اسی طرح شخصی آزادی کاتحفظ، متعدد دفعات کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کسی شخص کو صرف اسی وقت سزادی جاسکتی ہے ، جب ملزم پر جرم ثابت ہو ہو جاے، چنانچہ کسی شخص کو مقدمہ چلائے اورصفائی پیش کیے بغیر کسی قسم کی سزا نہیں دی جاسکتی۔
آئیے اب ہم جائزہ لیں ہمارے ملک کے جمہوری نظام کا ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا درجہ رکھنے والے اس ملک کی جمہوریت معدوم ہوتی جا رہی ہے ، چاہے اظہار خیال کی آزادی کیوں نہ ہو ؟
ملک کی آزادی اور جمہوری نظام کا جن لوگوں نے خواب دیکھا تھا ، کیا ملک کی موجودہ صورت حال ان خوابوں کی تعبیر ہے ؟
بے قصور لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور دس سال بارہ سال کے بعد ثبوت نہیں ملنے پر ملزم کو با عزت بری کر دیا جاتا ہے ؟
جانوروں کے ذبیحے پر پابندی لگا کرملک کی بڑی آبادی کو ان کی پسندیدہ اور صحت بخش غذا سے محروم رکھنا ، بڑی آبادی میں مسلم ، عیسائی اور دلت شامل ہیں ۔
ہم بچہ مزدوری کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں اور یوم جمہوریہ کے موقع پر سڑکوں اور ٹریفک سگنلوں کے پاس بچے پلاسٹک کے ترنگے اور بیچ فروخت کرتے نظر آتے ہیں ، جن کے جسم پر پورے کپڑے بھی نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں بھر پیٹ کھانا ملتا ہے ۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے لیڈران الیکشن کے موقع پر عوام کو ان کے جمہوری حق یعنی ووٹ دینے کی یاد دہانی کراتے ہیں اور عوام بھی جب جب اسمبلی اور لوک سبھا کے الیکشن آتے ہیں اپنے قیمتی ووٹ دے کر نمائندوں کو منتخب کر کے اسمبلی یا لوک سبھا پہونچا دیتے ہیں اور اس کے اس کے بعد عوام اپنے جمہوری حق کے معنی تلاش کرتے رہ جاتے ہیں ۔جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔یعنی اکثریت رائے سے جس کا انتخاب ہو جائے ،وہ منصب اقتدار تک پہنچ جاتا ہے۔
موجودہ صور ت حال کو دیکھتے ہوئے سقراط کا جملہ یاد آ رہا ہے ، یقیناً سقراط نےجمہوریت کے اس طرز عمل کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا اسی لیے کہا تھا’’حکومت چننے کا حق صرف ان لوگوں کو ہونا چاہئے جو اچھے برے کی تمیز رکھتے ہوں ،،کیا ہمارے ملک کے عوام میں سیاسی شعور کا فقدان ہے ، اچھے برے کی تمیز نہیںہے ؟کیانظام جمہوریت کے اصول بدل گئے ہیں یا جمہوریت کی تعریف بدل گئی ہے ؟عوام کے ذریعے ، عوام کے لیے ، عوام کی حکومت پھر عوام پریشان حال کیوں ہیں ؟

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com