سیاسی پارٹیوں کے فنڈ کی شفافیت

سیاسی پارٹیوں کے فنڈ کی شفافیت

ان دنوں سیاسی فنڈنگ کی شفافیت کے تعلق سے خبریں آ رہی ہیں ۔خبروں کے مطابق وزیر فائنانس ارون جیٹلی نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ سیاسی فنڈنگ کو شفاف اور اسے غیرقانونی دولت سے پاک کرنے کے لیے انتخابی بانڈز جاری کیے جائیں ، انہوں میں مزید کہا کہ اس تعلق سے آنے والی تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا ۔
اکثر سیاسی جماعتوںکو انتہائی خطیر رقومات بطور عطیات دی جاتی ہیں اور جماعت اس کا حساب دینے کے لیے بھی پابند نہیںہوتی۔ موجودہ ضابطے کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت کو کسی شخص یا ادارے سے ۲۰؍ہزار روپے سے کم رقم عطیہ میں ملتی ہے ، تو ایسی صورت میں اس شخص یا ادارے کا نام درج کرنے کی ضرورت نہیں۔گزشتہ چند برسوں میں بہت سے ماہرین نے اس ضابطے میں فوری طور پر تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے انتخابی اخراجات اور سیاسی جماعتوں کے کام کاج میں شفافیت آ سکے۔
یوں تو ہندستان میں تمام سیاسی جماعتیں بد عنوانی کے خلاف آواز یں اٹھاتی رہتی ہیں اور شفافیت کے نعرے لگاتی رہتی ہیں ، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیٹکل فنڈنگ اور اس کے صحیح استعمال کا دعوا کرنے والوں کے معاملات بھی شفاف نہیں ہیں ۔ ہندستان میں سیاسی فنڈنگ ہمیشہ سے غیر شفاف رہی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو ملنے والی عطیات کی رقم کا وہ اندراج کرتے ہیں ، مگر انہیں حاصل ہونے والا عطیہ اکثر کالا دھن ہوتا ہے، جس کا تذکرہ نہیں کیا جاتا ۔
ملک کی سیاسی جماعتیںبے تحاشہ خرچ کرتی ہیں اور عطیات کی شکل ان جماعتوں کو بھاری رقمیں ملتی ہیں لیکن کسی کو بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ عطیات آئے کہاں سے ہیں اور کس نے فراہم کئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور انتخابات پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق نامعلوم ذرائع میں تاحیات امداد، کوپن کی فروخت اور ریليف فنڈ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
فنڈنگ کے ذرائع کا پتہ نہں ہوتا اس صورت میں بدعنوانیوں کے شبہات کو تقویت ملتی ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہوگی ، جو ان شبہات کا شکار نہ ہو۔
سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے فنڈ یا عطیات کے خلاف آواز تو سبھی اٹھاتے ہیں ، مگر اس کی شفافیت کا اظہار کوئی نہیں کرتا ۔
کانگریس اور بی جے پی دونوں جماعتوں کو سب سے زیادہ عطیات موصول ہوتے ہیں ، مگر شفافیت جیسی کوئی بات نظر نہیں آتی ، اس کے برعکس عام آدمی پارٹی نے حاصل ہونے والے عطیات اور ذرائع کی تفصیلات اپنی پارٹی کی ویب سائٹ پر درج کر دی ہے ۔
نیشنل الیکشن واچ اور ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کے مطابق گزشتہ ۱۱؍ برسوں میں سیاسی جماعتوں کی تقریبا ۷۰؍فیصد آمدنی ‘نامعلوم ذرائع سے رہی ہے۔اس صورت میںپارٹی فنڈ میں شفافیت لانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے عوام کو تفصیلات سے با خبر رکھا جائے ، اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی پارٹیاں عطیہ میں ملنے والی رقومات اور عطیہ دینے والے کی تفصیلات کو بھی پارٹی کی ویب سائٹ پر پیش کرنے کے تعلق سے غور کریں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com