شاپنگ مال یا صارفیت کا جال

شاپنگ مال یا صارفیت کا جال

ہندستان کے بڑے شہروں میں جگہ جگہ شاپنگ مال کھل رہے ہیں ، مال جہاں ضروریات زندگی کی تمام اشیا ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوتی ہیں ۔ مختلف اشیا کی قیمتوں میں رعایت بھی دی جاتی ہے ۔ اسی رعایت کے جھانسے میں آ کر لوگ شاپنگ مال کا رخ کرتے ہیں ، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اکثر مال سے ان چیزوں کو بھی خرید لیتے ہیں ، جس کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ مال میں خریداری کرنے سے قبل گھر سے اشیا کی فہرست بنا کر جانا چاہیے ، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ غیر ضروری اشیا پہلے ٹرالی میں آ جاتی ہیں اور ضرورت کی چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں ۔ شاپنگ مال میں انازج ، پھل سبزی ترکاری کے علاوہ روزمرہ ضروتوں کی اشیا کے شعبے میں کچھ اس طرح سامان سیٹ کیا جاتا ہے کہ مال والے جن اشیا کو پہلے فروخت کرنا چاہتے ہوں یا غیر ضروری اشیا ہوتی ہیں ، انہیں داخلی دروازے کے قریب سیٹ کرتے ہیں اور رعایت کے بورڈ بھی لگا دیتے ہیں ۔ مثلاً کولڈ ڈرنک کی بوتلیں دو کے ساتھ ایک فری ، بسکٹ چار پیکٹ کے ساتھ ایک پیکٹ مفت فرسان ، ۲۰؍ فیصد رعایت ، فروٹ جوس کے ڈبے ۲۵؍ فیصد رعایت، چیز ، پنیر ، دہی ، دودھ رعایت کے ساتھ رکھا جاتا ہے اس طرح ہوتا یہ ہے کہ لوگ رعایت کا ٹیگ دیکھ کر وہ چیزیں پہلے اپنی ٹرالی میں بھرنا شروع کر دیتے ہیں ، جو بہت زیادہ ضروری نہیں ہوتی ہیں ، یا پھر ان کی خریداری کی فہرست میں شامل نہیں ہوتی ہیں ۔ اکثر بچوں کے کھلونے اور ایسی ہی دیگر اشیا بھی داخلی دروازے سے قریب ہی ہوتی ہیں ۔ روزمرہ ضرورت کی اشیا جنہیں خریدنا لازم ہوتا ہے ، وہ داخلی دروازے سے کافی دور رکھی جاتی ہیں ، تاکہ وہاں پہنچنے تک سامان کی ٹرالی ان اشیا سے بھر جائے ، جنہیں بیچنے کا جتن کیا جاتا ہے ۔ شاپنگ مال میں خریداری سے قبل اگر فہرست یا خریداری کے اصول نہیں بنائے گئے ، تو ہر ماہ آپ کے گھر میں غیر ضروری سامان آئے گا اور آپ کا بجٹ گڑ بڑ ہوتا رہے گا ۔
اگر دیکھا جائے ، تو شاپنگ مال میں بہت سے لوگ بر سر روزگار ہو گئے ہیں ، مگر اس سے زیادہ بے روزگار بھی ہو گئے ہیں ۔ مال میں پارکنگ کے لیے ، صفائی کے لیے اشیا کو الماری میں سیٹ کرنے کے لیے ، اشیا کو اسٹور میں جمع کرنے کے لیے ، بلنگ کاؤنٹر کے لیے ، نگرانی کے لیے اور ایسے ہی مختلف کاموں کے لیے سیکڑوں نوجوانوں کو ملازمت مل جاتی ہیں ، جس کے لیے مخصوص تنخواہ ہوتی ہے ، اس میں اضافہ یا ترقی کے آثار کم ہی ہوتے ہیں ۔ مگر مال میں جو کھام مال ، اناج ، سبزیاں اور پھل وغیرہ براہ راست کسانوں سے اٹھائے جاتے ہیں او ر انہیں اتنی ہی رقم دی جاتی ہے ، جتنی کہ ایک ہول سیلر دیا کرتا ہے ، پھر یہا ں سے اشیا سیدھے مال میں پہنچتی ہیں ۔ اس طرح ہول سیلر ، دسٹری بیوٹر ، ریٹیلر اور چھوٹے ٹرانسپورٹر سب کے روزگار پر سوالیہ نشان ؟ اتنے لوگوں کے روزگار کے ذرائع کم ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح تیل ، گھی ، مسالے اور اس قسم کی اشیا ، نہانے ددھونے کے صابن اور صفائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیا یا اسی قبیل کے سامان بڑی بڑی فیکٹریوں سے براہ راست لیے جاتے ہیں ۔ یہاں بھی وہی صورت حال پیدا ہو رہی ہے ۔ اپنے علاقے کی کرانے کی دوکانوں میں جو شرح فروخت تھی وہ اب روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ، کیونکہ یہ شاپنگ مال ، صارفیت کا جال بنتے جا رہے ہیں ۔جس دیہی روزگار اور چھوٹے روزگار کے ذرائع متاثر ہو رہے ہیں۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com