طلاق ثلاثہ پر سزا مسئلے کا حل نہیں ، مسائل اور بھی ہیں 

طلاق ثلاثہ پر سزا مسئلے کا حل نہیں ، مسائل اور بھی ہیں 

طلاق ثلاثہ ، لو جہاد اور جانوروں کے تحفظ جیسے معاملات میں عوام کو ذہنی طور پر الجھایا جا رہا ہے ، تاکہ اصل مسائل کی طرف سے توجہ ہٹ جائے ۔ تین طلاق دینے والے شخص کو تین سال کی سزائے قید کے بعد کس بہتری کی امید کی جا سکتی ہے ؟ اگر شوہر نے طلاق دے دی ، بیوی نے شکایت کر دی ، وہ تین سال کے لیے جیل چلا جائے گا اور بیوی بچے اس صورت میں کیا کریں گے ؟کیا شوہر جیل سے بیوی بچوں کے نان ونفقہ کا انتظام کرےگا یا شوہر کے اہل خانہ ایسی عورت کی کفالت کریں گے ، جس کی وجہ سے ان کا بیٹا جیل میں ہے ؟اس سے معاملہ اور بگڑ سکتا ہے ، سلجھنے کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ اس صورت حال سے مسائل اور بڑھ سکتے ہیں جبکہ ہندستان کے عوام مختلف مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور معیشت کے سبب آئے دن کسانوں کی خود کشی کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں ، جس کا اثر ان کے اہل خانہ پر ہوتا ہے ، خواتین اور بچوں پر ہوتا ہے ۔
اقوام متحدہ کی ایک ذیلی تنظیم فوڈ اینڈ اگریکلچر آرگنائزیشن نے ایک رپورٹ جاری کی گئی، ہندستانی افراد کی غربت اور ان کی بھوک و افلاس پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہر روز ۱۹۴؍ ملین ہندستانی بھوکے سوتے ہیں۔ ہر سال۱۴؍ارب ڈالرکی غذائی اشیاء ضائع کردی جاتی ہیں۔ ملک کی۱۴:۵؍فیصد آبادی تغذیہ بخش غذا سے محروم ہے۔ملک میں ایسی لاکھوں مائیں ہیں جو رات کا کھانا نہیں کھاتیں، تاکہ ان کے بچوں کو کھانا مل سکے۔
بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مناسب ملازمتیں نہ ملنے سے نوجوان گمراہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر حکومت کے علم میں نہیں ہے۔
ہندستانی عوام مختلف نشہ میں ڈوبے جا رہے ہیں ۔ کہیں زہریلی شراب پی کر لوگوں کے مرنے کی خبریں نظر آتی ہیں ، تو کہیں شراب کے نشے سے خاندان تباہ ہو رہے ہیں ۔
ملک کے نوجوان بے روزگار ہیں تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں اور اس سے زیادہ افسوس ناک اور خطرناک بات یہ ہے کہ نوجوان نشے کی لت میں ڈوب رہے ہیں ۔ نشہ بندی پر نعرے بازی ہوتی ہے اور پھر خاموشی ۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر منٹ تقریباًٍ ۲۰؍ خواتین اور لڑکیوں کی عصمت ریزی کی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں ملک کے مختلف مقامات سے لاکھوں کی تعداد میں کمسن بچوں اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دینے اور لڑکیوں و خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے تعلق سے صرف باتیں ہوتی ہیں ۔
سرکاری سطح پر علاج معالجے کی بہتر سہولت نہیں ہونے کی وجہ سے ملک میں ہزاروں افراد کی موت ہو رہی ہے ، جن کے پسماندگان پریشان حال ہیں ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں ملک کا عام آدمی علاج کروانے کی جرات نہیں کر سکتا ، اس مسئلے پر کہیں توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ ہاں مگر جانوروں کے تحفظ پر پوری توجہ دی جا رہی ہے ۔
ملک کے مختلف حصوں میں آئے دن فسادات ہو رہے ہیں ، ان پر قابو پانا بے حد ضروری ہے ۔
یہ سب اس قدر سنگین مسائل ہیں کہ ان پر توجہ دی جائے ، تو عوام کو بہت راحت حاصل ہو سکتی ہے، مگر یہ مسائل حکومت کی توجہ سے محروم ہیں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com