غذائی اجناس کےتعلق سےبومبے ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ شہزاد نقوی نے پی آئی ایل داخل کر دی

غذائی اجناس کےمضر ہونے کے تعلق سے ایڈوکیٹ شہزاد نقوی نے بومبے ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل کر دی –

حوالہ نمبر ۲۰۱۷؍۲۴

تیز رفتار دور میں ہر انسان تیزی سے دولت حاصل کرنے کے تعلق سے بھی سوچتا ہے اور اس سے انسانی زندگی مختلف قسم کے نقصان سے دو چار ہو رہی ہے اس تعلق سے غفلت برت رہا ہے ۔ ایسی غفلت اور بے حسی سے کبھی معمولی نقصان ہوتا ہے اور کبھی جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فصلوں کو سال میں کئی بار اگایا جا رہا ہے ، جس کے لیے مصنوعی کھاد اور اسی کے ساتھ جراثیم کش دواؤں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ گزشتہ دنوں کھیتوں میں جراثیم کش دوا کے غلط استعمال یا غلط مقدار کے استعما ل سے ۲۰؍ کسانوں کی موت ہو گئی تھی ، مگر اس کے باوجود اس پر توجہ نہیں دی گئی ۔ اسجراثیم کش دواؤں کی مقدار اور استعمال کے تعلق سے کسانوں کی صحیح تربیت کی جانی چاہیے ، تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا جانا چاہیے ۔ پھلوں کی حفاظت کے لیے جراثیم کش دوائیں استعمال ہوتی ہیں ، وہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں ۔ پھلوں کو جلد پکانے کے لیے جو کمیائی اجزا استعمال کیے جاتے ہیں ، اس سے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ پھلوں کو چمکدار بنانے کے لیے جو کیمکل استعمال کیا جاتا ہے اس سے کینسر جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔

دودھ دینے والے جانوروں کو بھی انجکشن لگائے جاتے ہیں تاکہ زیادہ دودھ مل سکے ۔ مرغی کے چوزوں کو انجکشن لگائے جاتے ہیں تاکہ وہ مہینے بھر میں بڑے ہو جائیں اور بازار میں فروخت کیے جائیں ، دراصل مرغیوں کو دیے جانے والے اینٹی بائیوٹک انسانی زندگی کے لیے بھی نقصان دہ ہیں ۔ جو لوگ ایسی مرغیاں کھاتے ہیں ، وہ اگر کبھی بیمار ہو جائیں ، تو علاج کے لیے دیے جانے والے اینٹی بائیوٹک بے اثر ہو جاتے ہیں ، بلکہ اینٹی بائیوٹک بیماری کے جرثوموں کے لیے غذا بن جاتے ہیں اور یہجرثومے مزید طاقت ور ہو کر انسانوں کو بیمار کر دیتے

سینٹر فور سائنس اینڈانوائرمنٹ ‘‘نے چھ قسم کے اینٹی بائیوٹک کی جانچ کے لیے چکن کے نمونے ’’ این سی آر ‘‘ میں دیے تھے۔ جانچ کے نتائج کے مطابق ۴۰؍ فیصدی میں اینٹی بائیوٹک کی شمولیت پائی گئی اور ۱۷؍ نمونے میں کئی خطرناک قسم کے اینٹی بائیوٹک کے ہونے کے ثبوت ملے ، انسانی زندگی کے لیے بےحد نقصان دہ ہیں ۔ ٹاکسی سائکیلن ، پولی ٹیٹرا سائیکلین ،سفرو فلوکسی سین اور نیو مائسن کے اجزا ملے ہیں ۔ جب انسان بیمار ہو ، تو ان ہی دواؤں سے علاج کیا جاتا ہے ، مگر جب یہ مرغیوں کے جسم میں شامل ہو جائے اور ایسی مرغیاں کھائی جائیں ، تو انسانی زمدگی کے لیے خطرناک ہو جاتے ہیں ۔
یہ انتہائی سنگین صورت حال ہے ۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
ان ہی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اور انسانی زندگی و صحت کے تحفظ کے لیے ایڈوکیٹ شاہنواز نقوی نے ہائی کورٹ میں اس تعلق سے پی آئی ایل داخل کر دی ہے ۔ اس تعلق سے عوام کو بھی با خبر رہنے کی ضرورت ہے ۔ ایڈوکیٹشہزاد نقوی نے بتایا کہ آئے دن مختلف اخبارات اور نیوز چینلوں پر اس کا تذکرہ ہوتا ہے کہ پھل اور سبزی ترکاری کی پیداوار کرنے والے کسان اور پھل اور سبزیاں فروخت کرنے والے تاجر کس طرح پھلوں اور ترکاریوں کے لیے ’’مونو سوڈیم ، گلوٹا میٹ ، نیورو ٹاکسن اور کیلشیم کاربائیڈ ‘‘ نامی کیمکل استعمال کرتے ہیں ، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں ، اس پر فوراً پابندی عائد ہونا چاہیے ، تاکہ انسانی زندگی ایسے خطرات سے محفوظ رہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com