مراٹھی فلم ’’حلال ‘‘کی شنوائی ہائی کورٹ میں ہوئی ، فیصلہ اگلے ہفتے

ان دنوں  مراٹھی فلم ’’ حلال ‘‘ زیر بحث ہے ۔طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے موضوع پر بنی متنازع مراٹھی فلم حلال پر پابندی عائد کرنے کےلیے’’عوامی وکاس پارٹی‘‘ کی جانب سے اشوک وانکر اور سرفراز پٹھان نے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی ، اس پربامبے ہائی کورٹ میں شنوائی ہوئی ۔ شنوائی کے دوران عرضداشت کے وکیل رمیش پاٹل اور امین سولکر نے اپنی بات رکھی اور کورٹ میں مدلل انداز میں بتایا کہ فلم میں اسلام اور قرآن کی تعلیمات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے اور جو باتیں اسلام اور قرآن میں نہیں ہیں ان باتوں کو فلما کر اور مولوی اور علما ٔ کو’’ حلالہ‘‘ کرنے والے بتا کر مسلمانوں کےمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے ۔ ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے معاملہ کی شنوائی کے بعد سینسر بورڈ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو فریقین بنانے ک حکم دیا اور اس معاملے کی شنوائی اگلے جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔ ’’عوامی وکاس پارٹی‘‘ کے مطابق بامبے ہائی کورٹ نے جو آرڈر پاس کیا اس کی کاپی نہیں مل سکی اس لیے ’’عوامی وکاس پارٹی‘‘ نے فوراً ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو خط لکھ کر ہائی کورٹ میں ہوئی شنوائی کے تعلق سے بتایا اور گزارش کی کہ جس طرح سے ہائی کورٹ نے اس معاملے کو سن لیا ہے اور اگلے ہفتہ فیصلہ کرنے والے ہیں، تو اس صورت میں ایک ہفتہ تک ’’حلال‘‘ فلم کی نمائش کو روک دیا جائےتا کہ مہاراشٹر میں لا اینڈ آرڈر برقرار رہے اور حالات بگڑنے نہ پائیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مغربی مہاراشٹر سے’’ مراٹھا کرانتی مورچہ‘‘ نے فلم پر پابندی لگانے کے لیے مکتوب دیا ہے اور مغربی مہاراشٹر میں فلم کو ریلیز نہیں ہونے دینےکی بات کہی ۔’’ مراٹھا کرانتی مورچہ‘‘ میں مہاراشٹر کے ۳۷؍مراٹھا تنظیمیں شامل ہیں جو پورے مہاراشٹر میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے افسوس کا اظہار کیا کہ’’ مراٹھا سنگٹھن کے لوگوں نے’’ حلال‘‘ فلم کو ریلیز سے روکنے کے لیے اتنا بڑا فیصلہ لیا لیکن مسلمانوں کی کسی بھی تنظیم نے اس طرف توجہ نہیں دی ، ہاں البتہ ’’رضا اکیڈمی ‘‘ اور’’ مسلم کونسل‘‘ نے اس فلم پر پابندی لگانے کے لیےپوری کوشش کی ہے ۔
یہ فلم مہاراشٹر میں ۲۰۰؍سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش ہونے والی تھی لیکن ’’عوامی وکاس پارٹی‘‘ کے مسلسل احتجاج اور سنیما مالکان کو فلم نہ دکھانے کے مکتوب روانہ کرنے کی وجہ سے۱۵۰؍سنیما گھروں نے اس فلم کی نمائش پر روک لگا دی اور یہ فلم کچھ ایک جگہوں پریعنی قریب پچاس سنیما ہالوں میں دکھائی جا سکتی ہے ۔ شمشیر خان پٹھان نے تمام مسلم تنظیموں سے گزارش کی ہے کہ جن سنیما گھروں میں یہ فلم دکھائی جا رہی ہے انہیں خط لکھ کر اس فلم کی نمائش کو روکنے کی گزارش کریں ۔ شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ اگلی شنوائی پر انشا اللہ اس فلم کی نمائش پر مکمل طور پر پابندی لگ جانےکی امید ہے ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com