گُربہ کُشتن روز اول ۔نشہ کے خلاف کارروائی ؟ ؟

گُربہ کُشتن روز اول ۔نشہ کے خلاف کارروائی ؟ ؟

ہندستان کی کئی ریاستوں اور شہروں میں لوگ مختلف قسم کے نشے کے عادی ہیں ۔ اکثر یہ خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ کسی علاقے میں لوگ زہریلی شراب پینے سے موت کا شکار ہو گئے ۔ دراصل شراب بذات خود موت کی طرف لے جاتی ہے ، مگر زہریلی ہو ، تو بیک وقت کئی افراد فوری طور پر موت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی نشے کے سامان ہیں ، چرس ، گانجہ ، افیم ، براؤن شوگر اور مختلف قسم کے کیمکل کو بھی بطورنشہ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ خواب آوار دواؤں کو بھی لوگ استعمال کررہے تھے ، جس پر سخت پابندی لگ گئی ہے تاکہ کسی بھی میڈیکل اسٹور سے کوئی اسے خرید نہیں سکے اور یہ پابندی کامیاب بھی ہے ۔ کسی بھی قسم کی نیند لانے والی دوا بغیر کسی مستند ڈاکٹر کے نسخے کے نہیں دی جاتی اور اس نسخے کو بطور رکارڈ جمع کیا جاتا ہے ۔
اکثر نشے کے خلاف سیاسی لیڈران احتجاج کرتے ہیں ، اسی کے ساتھ سماجی تنظیمیں بھی آواز اٹھاتی ہیں اور نشے میں مبتلا نوجوانوں کا علاج بھی کروایا جاتا ہے ، مگر اس کے باوجود نشیلی اشیا کی خرید و فروخت کا بازار گرم ہی ہے ۔ اکثر یہ بھی شکایت ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں نشے کا بازار گرم ہے ، تاکہ آنے والی نسل کو تباہ کیا جائے ، نوجوانوں کو نشے کی لت میں دانستہ مبتلا کیا جا رہا ہے ۔ یہ خبریں نظروں سے گزرتی ہیں ، مگر پسِ خبر کیا ہے ؟ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
نشہ در اصل موت کا ایسا کنوا ہے ، جس میں نشہ خور اپنے ساتھ ساتھ اہل خانہ کو بھی لے جاتا ہے ، سب کو تباہ کرتا ہے ۔نشہ صرف شراب ، گانجہ ، چرس ، افیم ، براون شوگر یا اس قبیل کی اشیا ہی نہیں ہیں اور بھی بہت سے نشے ہیں ، جو ہمارے سماج کے کمزور لوگوں کا جان لیوا نشے کی طرف ہانکا لگاتے ہیں ۔ ٹی وی سیریل دیکھنے کا نشہ ، اس نے تو گھر ، گھر والی اور گھر کی تہذیب کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ، اگر ماں ہی ہر وقت ٹی وی سیریل کے نشے میں رہے ، تو بچوں کی تربیت کا کیا ہوگا ؟ جس بچے کی تربیت اچھی ہوتی ہے اس کی مثال اس مقناطیس جیسی ہوتی ہے ، جسے کوڑے کے ڈھیر میں ڈالا جائے ، تو وہ گندگی نہیں صرف لوہے کے ذرات ہی لے آئے گا ۔
راتوں رات دولت مند بننے کا نشہ ؟ نشہ کے بیوپاریوں کو راتوں رات دولت مند بننے کا نشہ ہے ، اس لیے اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہے ہیںکیونکہ وہ دولت کے حصول میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ حرام اور حلال کی تمیز نہیں رہ جاتی۔ نئی نسل کو پتہ ہی نہیں کیا اچھا ہے اور کیا برا ۔ نشہ ان کی اور ان کے خاندان کی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے ، اس کا احساس ہی نہیں ۔ نشے کا کاروبار کرنے والے اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں ، جب خریدار ہوں گے ۔ گھر کا ایک فرد نشہ خور ہو ، تو پورا گھر تباہ ہو جاتا ہے یہ سب جانتے ہیں ، پھر بھی اس دلدل میں گرتے ہیں ۔ نشہ کے بیوپاریوں کے خلاف احتجاجی مورچہ اور نعرے بازی کرنے سے کاروبار بند نہیں ہوگا ، بلکہ اس کے خریدار ہی نہ ہوں ۔ خریداروں کو روکا جائے ، تو نشے کی دوکانیں خود بخود بند ہو جائیں گی ۔ جس طرح برہمنوں کی بستی میں انڈوں کی دوکان نہیں چل سکتی اور سکھوں کی بستی میں نائی بھوکا رہ جائے گا ، بالکل ایسے ہی نشہ کے خریداروں کو روکا جائے ، تو کاروبار ٹھپ ہو ہی جائے گا۔ اس کی پہل ہر اس گھر سے ہونا چاہیے ، جس گھر میں کوئی نشے کا مریض ہے اور اس کے لیے گھر کی خواتین کو بھی ڈٹ کے کھڑا ہونا چاہیے ۔ اکثر گھر کی خواتین اپنے بچوں پر پوری توجہ نہیں دے پاتی ہیں اور انہیں ہوش تب آتا ہے ، جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے ۔ نشہ مخالف مہم میں ہر فرد شامل ہو جائے ، تو اس سے نجات ممکن ہے ۔ گُربہ کُشتن روز اول یعنی بلی کو پہلے ہی روز کاٹ دیا جائے ، تاکہ وہ مزید نقصان نہیں پہنچا سکے ۔ کوئی نوجوان نشہ کی پہل کرے ، تو اس پر اسی وقت پابندی لگا دی جائے ، تاکہ وہ مزید نشے کی لت میں مبتلا ہو کر نشے کے کاروبار کا حصہ نہ بن جائے ۔

شیریں دلوی

 

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com