بہت زیادہ تنقید سے بچوں کی قوت ارادی کمزور ہو سکتی ہے

بچے  اکثر غلطیاں کرتے ہیں ، کبھی تو بہت بھیانکغلطی بھی کر بیٹھتے ہیں ، لیکن غلطی ہو جانے پر سب سے بہتر طریقہ کیا ہے ان کی اصلاح و تربیت کا ؟ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں ان سے بات چیت  کے ذریعے ان کی غلطیوں کی اصلاح کرنا چاہیے ، اس کا انحصار اس پرکہ آپ غلطی کی شدت کو کتنا محسوس کرتے ہیں اور آپ کا رد عمل کیا ہو سکتا ہے۔مثلاً بچوں سے کبھی یہ نہ کہیں کہ آپ ان سے پریشان ہیں ، یہ بھی نہ کہیں کہ تم نے سب خراب کر دیا ہے ،یا تم ایسا کیوں نہیںکر پاتے ہو؟ ایسے جملے بچوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرسکتے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق جن بچوں کو اس طرح کی صورت حال کا سامنا رہا ، وہ خود کو کمتر سمجھنے لگے  اور مستقبل میں کوئی بھی کام بغیر کوشش کیے چھوڑ دیتے ہیں، وہ کبھی اپنے مسائل سے باہر نہیں نکل پائے ، کیونکہ اس طرح ان کی قوت ارادی کمزور ہو جاتی ہے اور وہ اپنے طور پر فیصلہ کرنے یا کوئی کام کرنے کوشش نہیں کر پاتے۔
 ایسی صورت میں بہتر اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو ان کی غلطی کے تعلق سے اچھے انداز میں سمجھایا جائے اور ان کی ذات پر تنقید نہیں کی جائے ۔ انہیں یہ بتایا جائے کہ انہوں نے کیا غلط کیا ہے اور یہ غلطی کیوںاور کیسے ہوئی ؟ساتھ ہی انہیں اس کی اصلاح کا موقع دے کر یہ بھی سمجھایا جائے کہ اس کو کیسے سدھارا جا سکتا ہے اور ان کے رویے کو بہتر رکھنے پر زور دیا جائے ۔
تجربات میں پایا گیا ہے کہ جن بچوں کی عزت نفس کو چوٹ پہنچائی گئی ، یا ایسے جملے کہے گئے ہوں کہ انہوں نے دیے گئے کام کو ٹھیک سے نہیں کیا یا کام کو ٹھیک سے پورا کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی، یا کام کو مزید بگاڑ دیا، تو ایسے بچے زیادہ پر امید نہیں دکھائی دیے ۔
ایک اور سلوک ایسا ہے جو اکثر سرپرست اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں ،وہ ہے انہیں شرمندہ کرنا ۔ یہ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ سرپرستوں کا خیال ہے کہ اس سے بچے اپنی غلطی کو سمجھ لیتے ہیں ، لیکن ماہر نفسیات کا خیال ہے کہ بچوں کو اپنی غلطی سمجھ میں آنے اور شرم محسوس کرنےمیں فرق ہے ۔ غلطی محسوس کرنے کا جذبہ کام کو اگلی بار ٹھیک سے کرنے کے تعلق سے ہے ، جبکہ شرمندگی کی وجہ سے بچے میں غصہ، ضد  اور بغاوت پیدا ہو سکتی ہے ۔
ان تمام وجوہات کی بنا پر بچوں کے غلطی کرنے پر تعمیری تنقید کا مطلب سمجھنا ہوگا اور بچوں کو بہتر ڈھنگ سےتربیت دینے کے لیے صحیح حل تلاش کرنے چاہیے۔
بچوں کی بہتر تربیت کے لیے ان کی مناسب انداز میں تعریف اور تنقید و اصلاح ہونا چاہیے ۔ بچوں کی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی چھوٹی بڑی غلطیوں کی اصلاح محبت و شفقت کے ساتھ ہونا چاہیے،جس میں اس طرح احساس دلایا جائے کہ بچہ اس غلطی کو کبھی دوہرائے نہیں ۔
Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com