معصوم انسانوں کی بلی کب تک چڑھائی جائے گی؟

خبروں کے مطابق کرناٹک میں ایک دس سالہ لڑکی کو فالج زدہ شخص کے علاج کے لیے ایک جادوگر کی ہدایت پر بلی چڑھایا گیا یعنی قتل کر دیا گیا۔
فالج زدہ شخص کے بھائی اور بہن کو لڑکی کو اغوا اور قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مبینہ جادوگر کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی پر کالے جادوکا اثر زائل کرنے کا صرف یہی ایک طریقہ تھا۔
لڑکی کے اغوا میں مدد کرنے کے الزام میں ایک 17 سالہ لڑکا بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بتایا جاتا ہےکہ اس جرم کے لیے اکسانے میں کچھ اور لوگ بھی شامل رہے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ فالج زدہ شخص مرض کا شکار نہیں ہے ،بلکہ کسی نے اس پر کالا جادو کر دیا ہے ، جس کا علاج اوجھا کر سکتا ہے اور اوجھا جو کہے اس پر عمل کر لینا چاہیے ۔ آج بھی لوگ کس طرح اندھی عقیدت رکھتے ہیں اور اس قدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ کسی بے قصور کی جان لے لیتے ہیں ۔ ایسے ہی جادوگر ، تنتر منتر کرنے والے مذہب کی آڑ میں علاج کرنے والے ، جولوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور ان کی زندگی اور دشوار کر دیتے ہیں ۔اس قسم کے اوجھا ، تانترک یا بابا گیری کرنے والے لوگ معصوم افراد کو کبھی ڈرا دھمکا کراور کبھی لالچ دے کر بے وقوف بناتے ہیں اور ان سے رقمیں اینٹھ لیتے ہیں یا بلی کے نام پر قتل جیسا جرم کرنے پر اکساتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونا چاہیے ۔ ایسی خبریں ہم اکثر سنتے ہی ہیں کہ کسی کے علاج کے لیے یا کسی بے اولاد کی گود بھرنے کے لیے اکثر بچوں کی بلی چڑھائی جاتی ہے، مگر لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ کسی کی جان جانے سے ان کا مسئلہ کس طرح حل ہو سکتا ہے ؟بلکہ اس سے بڑا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے ، یعنی قتل کے الزام میں گرفتاری اور سزا بھی ۔ ایسے تمام معاملات میں مجرموں اور خاص طور سے ایسے تانترکوں یا کام کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر رقمیں اینٹھنے کا یا بلی کے نام پر معصوموں کے قتل کا سلسلہ ختم کیا جا سکے ۔ تمام اچھے اور برے حالات کے لیے انسان خود ذمہ دار ہوتا ہے اور اچھی سوچ ہی اچھے حالات پیدا کرسکتی ہے ، توہم پرستی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی ۔ ترقی کے اس دور میں بھی ہمارے ملک میں یہ حماقتیں ہو رہی ہیںاور اس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ جب بھی کسی کے خلاف ظلم ہوتا ہے اور ناحق کسی کا قتل کیا جاتا ہے ، تو پورے ملک میں اس کے خلاف احتجاج شروع ہو جاتا ہے ، یہ زندہ لوگوں کی علامت ہے ، مگر اس قسم کی جہالت کے خلاف آواز بلند کرنا بھی انسانی اخلاقی فرض ہے ۔

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com