میانمار کے مصیبت زدہ انسان

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی زیادہ تر آبادی ریاست رخائن میں مقیم ہے اور فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ریاست میں انسدادِ دہشت گردی کی مہم شروع کی تھی تاہم اس کارروائی کے آغاز سے اب تک تقریباً ۷۵؍ ہزار افراد ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں اقوام متحدہ نے روہنگیا اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بنا پر آنگ سان سوچی کی قیادت میں قائم میانمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انسانی حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اسے ہر روز زنا بالجبر ، دست درازی، قتل اور دیگر زیادتیوں کے بارے میں رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں لیکن آزاد مبصرین کو ان جرائم کی تحقیقات سے روکا جا رہا ہے۔
میانمار میں ایک سال سے برسرِاقتدار جماعت کی قائد آنگ سان سوچی نے اوران کی جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ میانمار کا داخلی معاملہ ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تعلق سے ان پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور منفی معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔
آنگ سان سوچی کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے خود تحقیقات کر رہی ہے۔
میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ظلم و زیادتی ‘ اب وہاں کے نظام کا حصہ ہے اور آنگ سان سوچی کی حکومت اس کی ذمہ داری نہیں لے رہی ہے۔ایک عوامی حکومت جسے اپنی عوام پر تشدد کے خوفناک واقعات اور انسانیت سوز جرائم پر جواب دینا ہوگا۔
بنگلہ دیش میں کیمپوں میں مقیم ان روہنگیا باشندوں کے مطابق برمی سکیورٹی فورسز پر شہریوں کو گولی مارنے، اغوا کرنے اور نوجوان لڑکیوں کے ساتھ دست درازی و زنا کے الزامات لگائے۔ان پناہ گزینوں کی بہت سی شکایتوں کی تصدیق سیٹیلائٹ اور ویڈیو ثبوتوں سے کی گئی ہے۔یہ لوگ کس قسم کی مصیبت میں ہیں ، کس قدر ظلم برداشت کر رہے ہیں، سب جانتے ہیں ۔ کیا ایسے میں انسانی حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کی جا سکتی ، کہ ایسے لوگوں کو مصیبت سے نجات دلائی جا سکے ۔

شیریں دلوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com