نوجوانوں کے سرپرست دوستانہ رویہ رکھیں ، حاکمانہ نہیں 

نوجوانوں کے سرپرست دوستانہ رویہ رکھیں ، حاکمانہ نہیں

اکثر ہمارے معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں ، نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں ، بری لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں ، جن میں سے ایک ہے بری صحبت کا اثر اور دوسری بڑی وجہ ہوتی ہے والدین کا رویہ ۔ سن بلوغ جسے کہتے ہیں بڑا نازک دور ہوتا ہے ،جہاں بچپن چھوٹ رہا ہوتا ہے ، اسی لیے نوجوانوں اور ان کے والدین دونوں ہی کے لیے مشکل آزمائش کا دور ہوتا ہے ۔ چونکہ بچپن پیچھے چھوٹ رہا ہوتا ہے ،اس لیے نوجوان جسمانی اور ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں ۔ ایسے میں اکثر کئی سرپرست بڑھتے بچوں کی پریشانی میں ساتھ نہیں دے پاتے ۔ وہ ان کی سرگرمیوں کویا ان کے احساسات کو اس لیے بھی سمجھ نہیں پاتے کیونکہ ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوتی ۔اکثر والدین اپنے بچوں کے ساتھ حد ادب قایم کر لیتے ہیں ، جس سے والدین اور نوجوانوں کے درمیان نامحسوس فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے ۔
اب تک کے تجربات سے جو باتیں علم میں آئی ہیں وہ اس طر ح ہیں کہ جو والدین نوجوانوں کے ساتھ ان کی ذہنی سطح تک آ کر ان کو سمجھتے ہیں اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان نوجوانوں کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ کافی حد تک سمجھدار ہوتے ہیں ۔تازہ تحقیق میں مڈل اور ہائی اسکول کے بچوں پر توجہ مرتکز کرتے ہوئے وہ طریقے جانے گئے جن کے ذریعے نوجوانوں کے سرپرست اپنے بچوں کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے ان کی زندگی میں ان سے قریب رہ سکتے ہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ سرپرست اس عمر میں اپنے بچوں کی آزادی و خود مختاری کا خیال رکھیں ، مگر ساتھ ہی ان کی رہنمائی بھی کرتے رہیں ۔دراصل مڈل اسکول ، ہائی اسکول او ر انٹر کے طلبا اپنی پڑھائی سے بھی پریشان رہتے ہیں اور اکثر والدین کی طرف سے ان پر اچھے مارکس لانے کا دباؤ ہوتا ہے، جس سے بچے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں ، چڑچڑے ہو جاتے ہیں یا ذہنی فرار کے طریقے اپناتے ہیں ۔
معاون محقق مصنف ہاورڈ یونیورسٹی پروفیسر نینسی ہل کا کہنا ہے کہ ’’ اچھی بات یہ ہے کہ یہ نوجوان بھی چاہتے ہیں کہ اس دوران سرپرست ان سے وابستہ رہیں ، لیکن اس وابستگی میں طاقت کا اظہار نہیں ہونا چاہیے ۔ سرپرستوں کو اپنا رویہ نرم کا رکھنا چاہیے کہ ان کے نوجوان بچے بہتر ڈھنگ سے تربیت پا سکیں اور ان سے متاثر بھی ہوں ۔ ‘‘
بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں ، نہ کہ حاکمانہ اور اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ بچوں کے ساتھ کس حد تک وابستگی رکھیں ، جس سے تعلیمی میدان میں ان کا بہتر مظاہرہ ہو ۔ ان کے تفکرات کم ہوں اور ان کی مایوسی کی علامتوں میں کمی آئے ۔ اس تعلق سے محققین نے چند مشورے دیے ہیں ، جو درج ذیل ہیں ۔
محدود آزادی دیں : نینسی ہل کے مطابق ’’ اس کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کو کچھ نیا کرنے دیں ، لیکن ’محفوظ دائرےـــ‘ میں ۔‘‘ ان کا مشورہ ہے کہ بھلے ہی بچے ناکام ہوں ، وہ چاہیں تو انہیں کچھ نیا کرنے سے روکیں نہیں ۔جب تک بچےنہ چاہیں ، اس وقت تک مدد نہ کریں ۔ ان سے خود فیصلہ کرنے کے لیے کہیں ،لیکن یہ بھی کہہ دیں کہ آپ کو ضرور با خبر رکھیں ۔ ہل مزید کہتی ہیں ’’جب سرپرست معمولی باتوں میں دخل دیتے ہیں اور بے وجہ مدد کرتے ہیں ، تو یہ تعاون مفید نہیں بلکہ بے مصرف ہوتا ہے ، جب بچے چاہیں یا مانگیں، تو ان کی مدد کرنا بہتر ہوتا ہے ۔‘‘
رہنمائی کریں ، مگرکام انہیں ہی کرنےدیں :سرپرستوں کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو سبھی سہولتیں فراہم کرائیں ، لیکن بچوں کو خود ہی انتظامات کرنے دیں ۔ امیدیں طے کی جا سکتی ہیں ، مگر بچوں کو اس بات کا موقع ضرور دیں کہ وہ اپنا کام خود کر سکیں ۔ ہل کہتی ہیں کہ ’’ یہ آسان نہیں ہوتا کہ آپ بچوں کے ناکام ہونے تک ان کی مدد کے لیے سامنے نہ آئیں اور انہیں ناکام ہونے دیں ، لیکن آخری لمحے تک تحمل سے کام لیں ، جب تک وہ نہ چاہیں،اس وقت تک کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھیں ۔ یہ مشکل ہے ، لیکن آپ کے اس رویے سے بچے اپنے کام اور مدد مانگنے کے احساس کے تعلق سے سبق سیکھیں گے ۔ ‘‘
محبت کا اظہار کریں :سبھی بچے رشتے کی گرمجوشی کو محسوس کرتے ہیں ۔سرپرستوں کو مثبت سوچ کے ساتھ ہی پیار بھرا رشتہ بنائے رکھنا چاہیے ۔ یہ اس وقت بھی ضروری ہے ، جب آپ یہ محسوس کریں کہ آپ کا بچہ آپ سے فاصلہ بنائے رکھنا چاہتا ہے ۔ نینسی ہل کہتی ہیں ’’ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنے سرپرستوں سے اپنی شخصیت کا اعتراف کرنا نہیں چاہتے ۔ میرے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی پرورش کرنا بالکل ایسا ہے جیسے ناگ پھنی کو گلے لگانا ۔نوجوانوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان سے بغیر کسی شرط کے محبت کی جاتی ہے ۔مشکل حالات میں بھی آپ کوئی موقع نہ چھوڑیں اس بات کے اظہار کا کہ آپ اپنے بڑھتے ہوئے بچے کے ساتھ کس قدر محبت کرتے ہیں اور کتنا جذباتی لگاؤ ہے ۔
اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ بچوں کی دسترس میں ہونے سے وہ وقت سے پہلے بالغ ہو جاتے ہیں ، بچوں میں بہت کچھ جاننے کا تجسس ہوتا ہے ، اکثر اس عمر میں نوجوانوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں اور وہ والدین کی سخت مزاجی یا حاکمانہ رویے کی وجہ سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کبھی چھوٹی غلطیوں کو چھپانے سے بڑا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ اس لیے لازم ہے کہ والدین بچو ں کے ساتھ حاکمانہ نہیں دوستانہ رویہ رکھیں اور ان پر نظر بھی رکھیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس عمر میں بچوں کو زیادہ توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے ، جو انہیں سرپرستوں ہی سے مل سکتی ہے ۔
اگر آپ اس تحریر میں دیے گئے مشوروں کو سراہتے ہیں ، تو برائے مہربانی فیس بک پر ہمارے پیج کو لائک اور شیئر کریں ، کیونکہ اس سے اوروں تک بھی یہ معلومات فراہم کرنے میں مدد ملے گی ۔وہاٹس ایپ پر بھی اسے ضرور آگے بڑھائیں ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook Auto Publish Powered By : XYZScripts.com